پشاور:خیبر پختونخوا میں بدامنی کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے صوبائی حکومت کے زیرِ اہتمام پشاور میں امن جرگہ جاری ہے، جس میں سیاسی جماعتوں، مذہبی تنظیموں، قبائلی عمائدین اور ارکانِ اسمبلی نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
جرگے سے خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبہ وفاق سے محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ’’ہم وفاق سے تصادم نہیں چاہتے بلکہ تعاون کے ذریعے صوبے میں امن، ترقی اور خوشحالی لانا چاہتے ہیں۔ گورنر نے مزید کہا کہ صوبے کے مسائل دلائل اور ثبوتوں کے ساتھ وفاق کے سامنے رکھے جائیں گے تاکہ ان کا دیرپا حل ممکن ہو۔
وزیراعلیٰ سہیل خان آفریدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ جب تک دہشتگردی ختم نہیں ہوگی، امن قائم نہیں ہوسکتا۔ ان کے مطابق دہشتگردی کا ناسور گزشتہ دو دہائیوں سے خیبر پختونخوا کو متاثر کر رہا ہے، اور اب ضروری ہے کہ تمام سیاسی قوتیں ایک پیج پر آئیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت کے ارکان کو وفاق کے سامنے خیبر پختونخوا کے حقوق اور وسائل کا مقدمہ مضبوط انداز میں پیش کرنا ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ امن صرف نعروں سے نہیں بلکہ اجتماعی فیصلوں سے آتا ہے۔
جرگے میں مختلف سیاسی و مذہبی رہنماؤں نے بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں امن کے لیے مکالمہ، تعاون اور اعتماد سازی بنیادی ستون ہیں۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ دہشتگردی کے خاتمے اور صوبے کی ترقی کے لیے قومی سطح پر مشترکہ پالیسی ناگزیر ہے۔