غزہ میں پانی کا بحران۔ دلدوز انسانی المیہ

09:22 AM, 12 Nov, 2025

اسرائیلی بمباری اور محاصرے نے غزہ میں پانی اور نکاسی آب کے بنیادی ڈھانچے کو بالکل تباہ کر دیا ہے۔غزہ میں غذا کے بعد پانی کا بحران بھی سنگین ہو چکا ہے ۔جنگ بندی کے معاہدے کے بعد اپنے تباہ شدہ علاقوںمیں واپس لوٹنے والے ہزاروں خاندان شدید پیاس اور پینے کے پانی کی شدید قلت کے باعث زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔نہ پیٹ بھرنے کے لیئے خوراک ‘نہ پینے کے لیئے پانی‘نہ رہنے کا ٹھکانہ اورنہ ہی انہیں کوئی اور بنیادی ضرورت میسر ہے۔پانی زندگی کی بنیادی ضرورت اور تمام جانداروں کے لیئے نہایت اہم ہے۔پانی کے بغیر زندگی ممکن ہی نہیں۔یہ انسانی جسم کی بنیادی ضرورت ہے ۔ایک انسانی جسم کو روزانہ اوسطاً ایک تا ڈیڑھ لٹر یا کم از کم پونا لٹر پینے کے صاف پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ غزہ کی میونسپل اتھارٹی کے مطابق اسرائیلی فوج نے چند روز قبل غزہ میں پانی کی سپلائی لائن تباہ کر دی تھی۔ اسرائیلی واٹر یوٹیلیٹی سے آنے والی پانی کی فراہمی بھی منقطع ہو چکی ہے۔غزہ کے لاکھوں باشندے صاف پانی کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ صاف پانی کے حصول کے بنیادی ذرائع تباہ ہو چکے ہیں۔ تباہ شدہ علاقوں میں پانی کے حصول کے لیئے مرد‘ عورتیں اور بچے صرف چند لٹر پانی کے لیئے پانی کی بوتلیں اٹھائے دھوپ میں طویل فاصلہ طے کر کے جاتے ہیں۔ وہ گھنٹوں طویل قطاروں میں کھڑے ہو کر ایک بار جتنا پانی بھرتے ہیں وہ عموماً ان کی روزانہ کی ضروریات کے لیئے ناکافی ہوتا ہے۔ وہ دور دراز علاقوں سے پانی لانے پر مجبور ہیں یا تباہ شدہ علاقوں میں پانی تقسیم کرنے والے ٹرکوں کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ ضعیف افراد کے لیئے ہر روز پانی کے حصول کے لیئے چل کر آنا آسان نہیں۔پانی کا حصول ان کی زندگی کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اورپانی کی تلاش ان کے لیئے روز مرہ کی اذیت ناک جدوجہد بن چکی ہے۔
بلدیہ غزہ کے ترجمان کے مطابق اس وقت غزہ میں روزانہ دستیاب پانی کی مقدار صرف 35 ہزار مکعب میٹر ہے جو شہر کی اصل ضرورت کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ بلدیہ نے مزید بتایا کہ موجودہ مقدار میں تقریباً 20 ہزار مکعب میٹر پانی اسرائیلی کمپنی میکورت سے آ رہا ہے جو غیر مستحکم ہے جبکہ بلدیہ کے کنوؤں سے محدود وقت کے لیئے 15 ہزار مکعب میٹر پانی مل رہا ہے۔ پانی کی کچھ مقدار نجی کنوؤں سے حاصل کی جا رہی ہے جو ناکافی ہے۔ بیشتر گھروں میں صرف پینے اور کھانا پکانے کے لیئے انتہائی قلیل مقدار میںپانی تقسیم کیا جا رہا ہے جبکہ نہانا یا کپڑے دھوناممکن نہیں رہا۔غزہ میں فی کس پانی کی دستیابی تین سے پانچ لٹر یومیہ تک گر چکی ہے جو عالمی ادارۂ صحت کے ایمرجنسی حالات میں فی کس کم از کم 15 لٹر یومیہ کے معیار سے بھی بہت کم ہے۔غزہ کے کچھ علاقوں میں پانی کی 90 فیصد سے زیادہ لائنیں تباہ ہو چکی ہیں جس کے باعث 70 تا75 فیصد پانی پینے کے قابل نہیں ۔غزہ میونسپلٹی کے مطابق شمالی پائپ لائن غزہ شہر کے 70  فیصد پانی کی ضروریات پورا کرتی تھی لیکن اسرائیلی بمباری سے پانی کے تقریباً 75  فیصد کنویں تباہ ہو چکے ہیں جب کہ باقی ایندھن کی کمی کی وجہ سے بند ہیں۔ بہت سے لوگ روزانہ پلاسٹک کے کنٹینر لے کر دور دراز کے چند فعال کنوؤں سے پانی لینے جاتے ہیں لیکن سیوریج کی آلودگی شامل ہونے کے باعث ان کا پانی زہریلا ہو چکا ہے ۔شہری پانی کے لیئے بھاری قیمتوں پر ٹینکر یا بمشکل عارضی جنریٹروں پر چلنے والے چھوٹے ڈی سیلینیشن پلانٹس سے پانی خریدنے پر مجبور ہیں۔ بجلی سے چلنے والے  بیشترپلانٹ بجلی کی بندش سے ناکارہ ہو چکے ہیں۔وہ لوگ ان پلانٹس سے مہنگا پانی نہیں خرید سکتے جن کا ذریعہ معاش اسرائیلی دھشت گردی سے ختم ہو چکا ہے ۔ ترجمان کے مطابق پانی کی قلت کے باعث صفائی‘کھانا پکانے اور پیاس کی صورتحال بہت پیچیدہ ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پانی کا بحران ختم نہ ہونے کی صورت میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔ اسرائیلی کمپنی میکورت کی جانب سے پانی کی ترسیل میں بار بار خلل اور قلت سے ہونے والا پانی کا بحران اگر برقرار رہا تو صحت اور ماحولیات کے شعبے مزید متاثر ہو سکتے ہیں۔غزہ میں محکمہ پانی کے منصوبہ جات کے ڈائریکٹرکے مطابق پانی کی فراہمی میں اصل رکاوٹ قابض اسرائیل کی جانب سے گذرگاہوں کی بندش اور مرمت کا سامان اندر آنے سے روکنے سے  پیدا ہو رہی ہے۔
سمندری اور نکا سی  ٔ آب کا گندا پانی زمین میں سرایت کر نے سے غزہ کی زیرِ زمین پانی کی تہہ آلودہ ہو چکی ہے۔ پانی کو بار بار ابالنے کے باوجود اس کا ذائقہ نمکین اور بد مزہ رہتا ہے۔نمکین اور ریت آلود پانی سے صحت کو خطرات لاحق ہیں۔عالمی اداروں کے مطابق غزہ میں پانی کے بحران سے وبائی امراض پھیلنے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ پانی کی کمی کے باعث بچوں میں جلدی امراض میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ نومولود بچوں کے جسم میں پانی کی کمی میں اضافے کا خطرہ ہے۔ وزارت صحت نے بتایا کہ آلودہ پانی کی وجہ سے شہریوں میں جلد‘ معدے اور دیگر متعدد بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ فلسطینی وزارت صحت نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ کی 90 فیصد آبادی کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے جب کہ پینے کے پانی کے نمونوں میں آلودگی کی شرح 25 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف نے خبردار کیا ہے کہ غزہ پیاس سے موت کے قریب ہے کیونکہ ایندھن ختم ہونے سے پینے کے پانی کی ساٹھ فیصد سے زائدتنصیبات اور بیشتر پمپنگ اورفلٹریشن اسٹیشن بند ہو چکے ہیں جس سے بچے جلد ہی پیاس سے مرنے لگیں گے۔
غزہ کو پانی کی فراہمی کی پائپ لائنیں تباہ کرنے والی اسرائیلی فوج کا یہ مضحکہ خیز بیان سامنے آیاہے کہ وہ شمالی پائپ لائن کی خرابی کو جلد از جلد ٹھیک کرنے کے لیئے متعلقہ اداروں کے ساتھ رابطے میں ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق جنوبی غزہ کو پانی فراہم کرنے والی دوسری پائپ لائن اب بھی کام کر رہی ہے۔ فوجی بیان میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی واٹر سپلائی کنوؤں اور مقامی ڈی سیلینیشن پلانٹس سمیت مختلف ذرائع پر مبنی ہے۔اقوام متحدہ کے مطابق جنگ سے قبل ہی غزہ کا 95 فیصد پانی انسانی استعمال کے قابل نہیں تھا۔ آج وہی پانی دو ملین سے زائد انسانوں کے لیئے زندگی اور موت کا سوال اور خوفناک انسانی المیہ بن چکا ہے۔ پانی کی ہر بوند اب ان کے لیئے بقا کی جنگ ہے۔ جو قابض اسرائیل کی جاری جارحیت کے بدترین اثرات میں سے ایک ہے۔ جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود غزہ پر اسرائیلی بمباری مسلسل جاری ہے جس سے غزہ میں زندگی مزید مشکلات سے دوچار ہے ۔اسرائیلی دہشت گردی سے غزہ کی 23 لاکھ آبادی کا بیشتر حصہ بے گھر ہو چکا ہے۔ اسرائیل کی دہشت گردی اور مظالم کا شکاراہالیان غزہ کو ایندھن کی فراہمی‘تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی بحالی اور شہریوں کو بنیادی ضروریات فوراً فراہم کرنے کے لیئے عالمی ادارے اور امدادی تنظیمیں فوری اور ہنگامی مداخلت کر کے اپنا منصبی کردار ادا کریں ۔

مزیدخبریں