چاچا رشید چوپال میں چپ سائیں کا انتظار بے صبری سے کررہے تھے۔نتھو اور پھتو نے وجہ دریافت کی لیکن چاچا رشید اس بارے میں خاموش ہی رہے لیکن بار بار چپ سائیں کے ہی بارے میں پوچھتے رہے۔ خیر کچھ دیر بعد چوپال میںچپ سائیں کی آمد ہوئی۔ چپ سائیں آتے ہیں اپنی جگہ پر بیٹھ گئے۔ کچھ دیر بعد نتھو اور پھتو بولے ۔۔ سائیں جی چاچا رشید آپ کا انتظار بڑی بے صبری سے کررہے ہیں۔ چپ سائیں کی نظریں چا چا رشید کی طرف دیکھنے لگیںاور سوال کرنے لگیں۔ چاچا رشید ہمت کرکے ڈگمگائی آواز میں بولے۔۔ سائیں جی۔۔ تین ماہ بعد میری بیٹی کی شادی ہونی ہے۔۔ میں اس کے لیے اپنی حیثیت کے مطابق ساتھ دینے کے لیے سامان اکٹھا کررہا ہوں۔۔ میری تو کمر جھک گئی ہے اور۔۔۔ بات کرتے کرتے چاچا رشید خاموش ہوگئے۔۔ تھوڑی دیر بعد گویا ہوئے۔۔ سائیں جی ہم لوگ ان کاموں میں نمائش،دکھاوا اور رکھ رکھائو کا کیوں سوچتے ہیں۔۔۔ آخر اس معاشرے کی سوچ کب بدلے گی اور ہم نمائش ، رکھ رکھائو اور دکھاوے سے کب جان چھڑائیں گے۔۔ سائیں جی یہ کس بلا کے نام ہیں ؟ اور لوگوں کو کب سے چمٹ گئی ہیں۔
چپ سائیں نے سرد آہ بھری۔۔ توقف کے بعد گویا ہوئے۔۔ بھائی دوستو ! بھائی رشید کا دکھ، ایک شخص کا نہیں بلکہ اس معاشرے کے ہر اس شخص کا ہے، جو بہن، بیٹی بیاہنے کا سوچ رہا ہو۔ موقع تو خوشی کا ہوتا ہے لیکن اس موئی نمائش، رکھ رکھائو اور دکھاوے نے ذی شعور انسان کی ناصرف عقل مار دی ہے بلکہ قرض تلے دبادیا ہے۔
چپ سائیں نے کہا ۔۔ چوپال کے دوستو! آج کے دورِ جدید میں انسان کی زندگی تیزی سے بدل رہی ہے۔ یہ تلخ حقیقت ہے کہ جہاں ایک طرف ٹیکنالوجی اور ترقی نے زندگی کو آسان بنایا ہے، وہیں دوسری جانب انسان میں نمائش، رکھ رکھاؤ اور دکھاوے کی خواہش بڑھتی جا رہی ہے۔ اب انسان کی اصل پہچان اس کے کردار، علم یا سچائی سے زیادہ اس کے لباس، گاڑی، گھر اور سوشل میڈیا کی چمک دمک سے ہونے لگی ہے۔
نمائش دراصل وہ رویہ ہے جس میں انسان اپنی اصل حالت سے زیادہ بہتر نظر آنے کی کوشش کرتا ہے۔ چاہے وہ مہنگے کپڑوں کا انتخاب ہو، قیمتی برانڈز کا استعمال، یا سوشل میڈیا پر ایک خوشحال زندگی کی جھلک ،اس کا مقصد اکثر دوسروں کو متاثر کرنا ہوتا ہے۔ اسی سے رکھ رکھاؤ اور دکھاوے کی بنیاد پڑتی ہے، جہاں انسان اپنی شخصیت کو مصنوعی انداز میں پیش کرتا ہے۔میرے چوپال کے بچوں اور بھائی دوستو! بعض اوقات انسان احساس کمتری کا شکار ہوتا ہے، اور وہ چاہتا ہے کہ دنیا اسے بہتر، کامیاب اور قابل رشک سمجھے۔ کبھی معاشرتی دباؤ اور تقابلی ماحول اسے مجبور کرتا ہے کہ وہ دوسروں سے پیچھے نہ رہے۔ نتیجتاً، انسان اپنی اصل سادگی کھو دیتا ہے اور ایک مصنوعی زندگی گزارنے لگتا ہے۔
دکھاوے کی زندگی وقتی خوشی تو دے سکتی ہے، مگر اندر سے انسان خالی محسوس کرتا ہے۔ وہ اپنی حقیقت سے کٹ جاتا ہے اور دوسروں کی رائے کے غلام بن جاتا ہے۔ یہ رویہ معاشرتی بگاڑ کو جنم دیتا ہے۔دوسری طرف رکھ رکھاؤ کی ایک مثبت جہت بھی ہے۔ اگر انسان اپنی ظاہری حالت، گفتار اور رہن سہن میں اعتدال رکھے تو یہ اس کی شخصیت کی نفاست ظاہر کرتی ہے۔
دوستو! اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انسان کی فطرت میں خوبصورتی، عزت اور پہچان کی خواہش ہمیشہ سے موجود رہی ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ لوگ اسے عزت کی نگاہ سے دیکھیں، اس کی بات کو اہمیت دیں اور اس کی موجودگی کو محسوس کریں لیکن جب یہی خواہش اعتدال سے نکل کر خودنمائی اور نمائش کی شکل اختیار کر لیتی ہے تو انسان کی اصل سچائی کھو جاتی ہے۔
نمائش کا مطلب ہے اپنی زندگی، حیثیت یا کامیابی کو دوسروں کے سامنے نمایاں کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ یہ کوشش کبھی شعوری ہوتی ہے اور کبھی غیر شعوری۔رکھ رکھاؤ اگر توازن کے ساتھ ہو تو یہ ایک اچھی عادت ہے۔ انسان کا صاف ستھرا لباس، شائستہ گفتار اور باوقار طرز زندگی اس کی شخصیت کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے۔ لیکن جب یہی رکھ رکھاؤ مصنوعی پن اور برتری کے اظہار میں بدل جائے تو وہ دکھاوا کہلاتا ہے۔
دکھاوے کے پیچھے کئی نفسیاتی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ دکھاوے کا رجحان سوشل میڈیا کے اس دور میں اور بھی بڑھ گیا ہے۔۔ کسی بھی مشہور شخصیت کی شادی ہو تو۔۔اہل خانہ سمیت وہ شخصیت خود ۔۔ نمود نمائش کرتی ہے اور بڑے فخر سے بتاتی ہے کہ میں تو فلاں جگہ سے تیار ہوئی ہوں، میک اپ تو میرا فلاں برانڈ کا ہے۔ مجھے تو منہ دکھائی میں فلاں چیز ملے گی۔۔بھائی دوستو! اس سے بڑی نمود ونمائش اور کیا ہوگی۔۔ فخریہ طور پر بتایا جاتا ہے کہ بارات پر یہ ڈشز اور ولیمہ کامینیو یہ ہوگا۔۔۔اب لوگ اپنی خوشیوں، سفر، کھانوں اور کامیابیوں کو تصویروں اور ویڈیوز کی صورت میں دکھانے کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ سمجھنے لگے ہیں۔
صاحبو!دکھاوے کی زندگی انسان کو وقتی خوشی تو دیتی ہے، لیکن اندر سے وہ خالی اور غیر مطمئن ہوتا جاتا ہے۔ جب معاشرے کے لوگ ایک دوسرے سے مقابلہ کرنے لگتے ہیں، تو باہمی محبت، خلوص اور سچائی کا رشتہ کمزور ہو جاتا ہے۔ رشتے ظاہری چمک دمک پر قائم ہوتے ہیں، دل کی سچائی اور قربت پر نہیں۔ اس رجحان نے سادگی، قناعت اور حقیقی خوشی جیسے اقدار کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔
یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ رکھ رکھاؤ ہمیشہ منفی نہیں ہوتا، ایک باوقار انسان اپنی ظاہری حالت، گفتار اور آداب پر توجہ دیتا ہے ۔یہ اس کی نفاست اور خودداری کی علامت ہے۔ لیکن اصل فرق نیت کا ہوتا ہے۔ اگر انسان خود کو سنوارنے کے لیے رکھ رکھاؤ کرے تو یہ اچھی بات ہے، مگر اگر وہ دوسروں پر اپنی برتری جتانے کے لیے ایسا کرے، تو یہی رکھ رکھاؤ دکھاوا بن جاتا ہے۔
آخرکار، ہمیں سمجھنا چاہیے کہ نمائش اور دکھاوے کی بنیاد عارضی خوشی پر ہے، جبکہ سادگی، سچائی اور خلوص دائمی سکون کا باعث بنتے ہیں۔ انسان کی اصل پہچان اس کی ظاہری چمک میں نہیں بلکہ اس کے کردار، اخلاق اور انسانیت میں پوشیدہ ہے۔ صاحبو!انسان اگر اپنی اصل پہچان اور سادہ فطرت کو اپنائے، تو وہ نہ صرف سکون دل حاصل کر سکتا ہے بلکہ معاشرے میں بھی اعتماد اور محبت کی فضا پیدا کر سکتا ہے۔۔۔باقی نمائش اور رکھ رکھائو کی بجائے کردارسازی اور حقیقی زندگی کو پرموٹ کرنا چاہئے۔۔۔رہے نام اللہ کا!۔
’’نمائش ، رکھ رکھائو اور دکھاوا‘‘
09:20 AM, 12 Nov, 2025