واصف خیال سنگت گوجرانوالہ کے میرِ کارواں، جہانگیر میر کانام فکرِ واصفؒ کی ترویج کے حوالے سے واصفی حلقوں میں ایک معتبر گونج رکھتا ہے۔گوجرانوالہ میں شاندار سیمینار کیا کرتے ہیں۔ ان کا نام اور کام ہر خاص وعام میں سراہا جاتا ہے۔ میر صاحب 1990ء میں مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ کی زلف کے اسیر ہوئے… اور تادمِ تحریر اس اسیری کے فیض کو عام کیے جاتے ہیں۔ پچھلے دنوں ان کی جانب سے ایک وائس میسج موصول ہوا، جس میں حضرت واصف علی واصفؒ کی گفتگو سے ایک جملے کی تشریح طلب کی۔ یہ جملہ ایسا فکر انگیز تھا کہ اس فقیر نے اس کی تشریح لکھنے کا وعدہ کر لیا۔ دل کی تاروں کو چھو لینے والا یہ جملہ یوں تھا:
"تصوف دراصل اپنی زندگی میں اللہ کے عمل کو دریافت کرنا ہے یا اس کے عمل کے حوالے سے اپنی زندگی کو دریافت کرنا ہے"۔ میرصاحب! اس جملے کی گرہ کھولنے کے لیے کچھ تمہیدی کلمات درکار ہوں گے۔ اگر تمہید طولانی ہو جائے تو صرفِ نظر کیجئے گا۔ مدعائے کلام آخر میں بتصریح میسر آ جائے گا۔ یہ کائناتِ ہست و بود تہہ در تہہ پردوں میں بسائی گئی ہے۔ یہاں ہر ظاہر کا ایک باطن ہے اور پھر باطن کا ایک اور باطن۔ لفظ ظاہر ہے اور اس کے معانی باطن میں ہیں… اور باطن کے باطن ہونے کی کوئی حد نہیں… کہ ہر باطن اپنے سینے میں ایک اور باطن چھپائے پھرتا ہے۔ بس یہ جانیے کہ ہر سینہِ صدف میں ایک گہر ہے… معانی کے گہر کی چکاچوند اتنی ہے کہ یہ اگر بغیر نقاب اور حجاب کے، باہر نکل آئے تو لوگ اپنے گھر کا رستہ بھول جائیں۔ تصوف لفظ سے معانی کا سفر ہے۔ یہ صورت سے بے صورت کی راہ دریافت کرنے کا نام ہے۔
اس عالمِ اسباب میں سب سے پہلا حجاب سبب اور نتیجے کا ہے۔ ہم اپنی زندگی کو مجموعہ واقعات سمجھتے ہیں اور اِن واقعات کے پسِ پشت محرکات کو فقط اسباب و نتائج کا کھیل جانتے ہیں۔ سبب سے اْلجھنے والا اپنی زندگی میں پیش آنے والے واقعات کو اْلجھا کر رکھ دے گا۔ افراد ہوں یا واقعات، الجھنے کے لیے نہیں ہوتے ، بلکہ سبق لینے کے لیے سامنے لائے جاتے ہیں۔ اگر سبق نہ سیکھا جائے تو یہ سبق سکھا دیتے ہیں… ایسا ویسا کہ اللہ کی پناہ! پناہ پھر اسی کی طلب کی جاتی ہے۔
تم زمانے کی راہ سے آئے
ورنہ سیدھا تھا رستہ دل کا
ہر سبب کا سببِ اولیٰ خالقِ موجوادت خود ہے۔ واجب الوجود… باعثِ ہر وجود ہے۔ ہر غایت کی غائتِ اولیٰ وہ خود ہے۔ اگر یہاں ہر واقعہ ایک نتیجہ ہے کسی اور واقعے کا، تو وہ واقعہ بھی اپنے سے پہلے کسی واقعے کا نتیجہ ہوگا۔ اس طرح سبب اور نتیجے کا نہ ختم ہونے والا یہ سلسلہ ہماری ہمت ختم کر دیتا ہے۔ تحقیق ہمیں تھکا دیتی ہے، تسلیم شانت کر تی ہے۔ سبب اور نیتجے کے اس لامحدود سلسلے سے اْلجھنا ہماری قوّتِ فکر و عمل کو کمزور کر دیتا ہے۔ افراد و واقعات کو اگر ہم سبب اور نتیجے کے تحت سمجھنا شروع کردیں تو ہم ایک ایسی چومکھی لڑائی میں شامل ہو جاتے ہیں جو ختم ہونے میں نہیں آتی۔ ہم فاعلِ مجازی سے اْلجھتے ہیں اور فاعلِ حقیقی سے غافل ہو جاتے ہیں۔ ہم اپنے فکر و عمل کو افراد و واقعات کے تابع نہیں سمجھتے لیکن دوسروں کے فکر و عمل پر یہ فتویٰ جاری کر دیتے ہیں۔
فکرِ واصفؒ جہاں ہمارے اندر دیکھنے کی استعداد پیدا کرتا ہے، وہاں دیکھنے کا انداز بھی تعلیم کرتا ہے۔ مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ کے مضمون" زندگی" کا پہلا پیراگراف ملحوظ نگاہ رہے:
" زندگی کسی میدانِ کارزار کا نام نہیں …یہ جلوہ گاہ ہے،حْسن کی جلوہ گاہ …زندگی کسی اْلجھے ہوئے سوال کانام نہیں… یہ ایک پْر لطف منظر ہے،ایسا لطیف منظر کہ تبصرے اور تنقیدکے بوجھ کو بھی برداشت نہیں کرتا… یہ ایک دیکھنے والا منظر ہے… ایک سْننے والا نغمہ ہے… ایک سوچنے والا منصوبہ نہیں… ایک مشکل معمّہ نہیں۔ زندگی تو بس زندگی ہی ہے… کسی کا اِحسان ہے… کسی کی دین ہے… کسی اور کا عمل ہے"۔
کیا ہی خوب صورت بات ہے… یعنی نیوٹن کے قوانین پر چلنے والی اس زندگی میں ہمیں کسی ملٹن کو دریافت کرنا ہے … مقدار کی دنیا میں معیار کی دنیا کی کھوج لگانا ہے… تجسیم میں تجرید بھالنی ہے۔ جسم میں روح کو تلاش کرنا ہے۔ تشبیہ میں تنزیہہ کی طلب کرنی ہے۔ بندے میں رب کی تلاش کرنی ہے… اگر دشوار نظر آئے تو منشائے رب ہی تلاش کر لیں۔
دیکھنے والوں نے یہاں حسن ہی دیکھا۔ یہ حسن سَر کی آنکھوں سے نہیں، سِر کی آنکھ سے دیکھا جاتا ہے۔ سر کی آنکھ غیر مہذب ہوتی ہے… یہ عقل کے نیزے بھالے لے کر آتی ہے… یہ سمجھتی ہے کہ کلی میں مخفی پھول دیکھنے کے لیے اگر پنکھڑیاں کسی تجزیاتی آلے سے نوچ دی جائیں تو شاید پھول عالمِ شہود میں برآمد ہو جائے ہے۔ حسن باطن کی پنکھڑیوں میں ہے… باہر سب گوشت اور پوست ہے ssapel …ہیں۔ حسن کی یہ پنکھڑیاں خود ہی کھِلیں تو کھِلیں… جس پر کْھلیں اْس پر کْھلیں!! عقل کی حسن تک رسائی کہاں!… عقل کی جبیں سائی فقط نارسائی تک ہے۔ حسن اور حیا ایک جا ہیں… اورحسنِ ازل تو اس شرمیلی دلہن کی طرح حیا دار ہے جو اپنی جانب اٹھتی ہوئی نظر کو دیکھ کر ایک گھونگھٹ اور گرا دیتی ہے۔
لازم ہے کہ ہم اپنی کوتاہیِ عمل میں اس کے حسنِ عمل کو دریافت کریں۔ اپنی شکست میں اْس کی فتح کے شادیانے بجائیں۔ اپنے گرد افراد و واقعات کو اپنی زندگی کا صورت گر نہ سمجھیں۔ ہماری زندگی کی صورت گری بھی وہی ذات کر رہی ہے جو کائنات کے ہر ذرّے کو صورت بخش رہی ہے۔ یہ وسیع و عریض، جمیل و جسیم کائنات اگر خالقِ کائنات کی منشاء کے مطابق چل رہی ہے تو ہماری محدود ایّام کی یہ زندگی بھی اس کی منشاء کے مطابق ہی چل رہی ہے… بس ہمیں اس کی منشائ کو دریافت کرنا ہے۔ اپنی منشاء کو خاموش کر دیا جائے تو اْس کی منشاء بول پڑتی ہے۔ اپنی رضا اْس کے اَمر پر قربان کر دی جائے تو اْس کی رضا دریافت ہو جاتی ہے۔ اپنا عمل ساکت و ساقط کر دیا جائے تو زندگی میں اس کا عمل دریافت ہو جاتا ہے۔ جب اس کا عمل دریافت ہو جائے تو زندگی خود ہی خود کو ایک نئے سرے سے دریافت کر لیتی ہے۔ ظاہری زندگی میں باطنی زندگی دریافت کرنا مدعائے تصوف ہے۔ تصوف خود شناسی اور خدا شناسی کا نصاب ہے۔ خود سے خدا تک پہنچنے کا عمل تزکیہ نفس طلب کرتا ہے۔ تزکیہِ نفس سے پہلے تہذیبِ نفس کا مرحلہ ہے۔ تہذیبِ نفس زندگی میں غیر متعلق افراد و واقعات سے اعراض کرنے کا ہنر ہے۔ تزکیہ نفس خود سے نجات پانے کا گْر ہے۔
مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ فرمایا کرتے کہ اگر تمہاری زندگی کا حوالہ اللہ ہے ، تو زندگی میں پیش آنے والا ہر واقعہ اللہ کی طرف سے ہے۔ جب یہ حوالہ طے ہو جائے تو آپؒ کا یہ فرمان بھی از خود شعور کے افق پر جگمگائے گا: "سفر الی اللہ دراصل سفر مع اللہ ہوتا ہے"۔
ہم ہوئے، تم ہوئے، میرؔ ہوئے
09:20 AM, 12 Nov, 2025