عرفان صدیقی جن کے ساتھ مرحوم لکھنے کا قلم متحمل نہیں ہو رہا, دارِ فنا سے دارِ بقا کی طرف چلے گئے ہیں۔ ان کی وفات سے علم و دانش کا ایسا چراغ بجھ گیا جس کی روشنی میں ہزاروں طالب علموں نے علم کا نور حاصل کیا۔ موت ایک ایسی اٹل حقیقت ہے جس سے انکار ممکن نہیں ہے۔ جو ذی روح اس دنیا میں آیا اس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے اور اس نظام قدرت کے آگے انسان بے بس ہے۔
عرفان الحق صدیقی ہمہ جہت شخصیت تھے۔ آپ سیکڑوں سول و ملٹری بیوروکریٹس اور دیگر شعبہ ہائے زندگی میں نمایاں شخصیات کے استاد، تھے۔ عرفان صدیقی نے پنجاب یونیورسٹی سے بیچلر اور پھر اردو زبان میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی۔ 1963 میں وفاقی تعلیمی اداروں میں مختلف سطح کی تعلیمی سرگرمیوں سے اپنی عملی زندگی میں قدم رکھا اور 1988 میں سرکاری سروس سے رضاکارانہ ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا، آپ کی سروس 25 سال کے سنہری ادوار پر مشتمل تھی۔ ریٹائرمنٹ کے دوسال بعد یعنی 1990 میں آپ نے پیشہ وارانہ صحافت کا آغاز کیا اور تادم مرگ قلم سے اپنا رشتہ برقرار رکھا۔
عرفان صدیقی نے تمام بڑے اخبارات میں کالم لکھے اور ان کے کالم بڑے پسند کیے جاتے تھے۔ میں بھی برسوں ان کا قاری رہا، ان کی جاندار لفاظی اور جملوں کی روانی انتہائی متاثر کن تھی۔ وہ کالم لکھتے وقت ماحول کا ایسا نقشہ کھینچتے تھے جو قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا تھا ۔ میرے مطابق کوئی اور بڑے سے بڑا کالم نگار ایسا نقشہ نہ کھینچ سکا۔ عرفان صدیقی باغ و بہار شخصیت کے مالک تھے اور چند الفاظ میں ہی اپنا مافی الضمیر بیان کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ وہ ایک شفیق استاد تھے
یقیناً ان کی وفات ایک بڑا قومی و علمی نقصان ہے۔۔۔
عرفان صدیقی کے انتقال کی خبر ان کے قارئین پر بجلی بن کر گری اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ان کی وفات سے پیدا ہونے والا خلا پْر نہیں ہو سکے گا۔
عرفان صدیقی ایک بے مثال مصنف، وسیع المطالعہ ادیب اور ایک شفیق استاد تھے۔ ان کی زندگی علم و ادب کی خدمت میں گزری اور انہوں نے اپنے قلم اور افکار کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلیاں لانے کے لیے انتھک جدوجہد کی۔ ان کی تحریریں اور لیکچرز نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ان کی رہنمائی میں کئی شاگردوں نے علم کے میدان میں نام پیدا کیا۔ وہ سادگی، ایمانداری اور عاجزی کا پیکر تھے اور ہر ایک سے محبت اور احترام سے پیش آتے تھے۔
عرفان صدیقی کی علمی وادبی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ مرحوم نے اپنی تحریروں کی صورت میں ایک قیمتی ورثہ چھوڑا ہے۔ علمی قحط الرجال کے دور میں ایسے گوہرِ نایاب کا بچھڑ جانا ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔۔میرے نزدیک علم و دانش کا آفتاب غروب ہو گیا ہے۔ ان کی تحریریں فکر و دانش کا سرچشمہ تھیں۔
عرفان صدیقی کی وفات نے اردو ادب اور صحافت کے دامن کو ایک انمول ہیرے سے محروم کر دیا ہے۔ ان کا قلم صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک ایسا پیمانہ تھا جس سے وہ معاشرتی، سیاسی اور سماجی مسائل کو جانچتے اور اس پر روشنی ڈالتے ہوئے اپنے قارئین کو سوچنے پر مجبور کرتے تھے۔
ان کی تحریروں میں جو نکھار، جو تجزیہ اور جو سچائی ہوتی تھی، وہ آج کی دنیا میں ایک نادر چیز ہے۔ وہ منفرد لب ولہجہ کے حامل تھے ان کی تحریروں کے ذریعے جو آواز بلند ہوئی، وہ تادیر گونجتی رہے گی اور ہمیں ان کے افکار کا درس دیتی رہے گی۔یہ صرف ایک کالم نگار کی وفات نہیں ہے، بلکہ ایک فکر کا خاتمہ ہے۔ ایک ایسی سوچ کا خاتمہ ہے جو سچائی اور انصاف پر یقین رکھتی تھی۔ ہم سب ان کے چلے جانے پر انتہائی افسردہ اور غمزدہ ہیں۔
ان کی موت صرف ان کے خاندان یا دوستوں کے لیے نہیں بلکہ پوری قوم کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔ ان کی فکری بصیرت، ان کی رہنمائی اور ان کے علمی ورثے کی کمی ہمیشہ محسوس کی جائے گی۔ اگرچہ وہ جسمانی طور پر ہمارے درمیان نہیں رہے، لیکن ان کا کام اور ان کی یادیں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی روح کو سکون عطا فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے۔ اللہ تعالیٰ ان کے پسماندگان اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے تاکہ وہ اس ناقابلِ تلافی نقصان کو برداشت کر سکیں۔
آہ! … عرفان صدیقی بھی رخصت ہو گئے
09:19 AM, 12 Nov, 2025