تاریخ کے اُفق پر کچھ دن ایسے نمودار ہوتے ہیں جو صدیوں کا سفر مہینوں میں طے کر لیتے ہیں اور قوموں کی تقدیر بدل کر رکھ دیتے ہیں۔ 10 مئی کا دن پاکستان کی عسکری، سیاسی اور سفارتی تاریخ میں ایک ایسے ہی روشن سنگ میل کی حیثیت اختیار کر چکا ہے جسے اب سرکاری طور پر ”یومِ معرکہ حق“ کے نام سے پکارا جائے گا۔ یہ محض ایک تاریخ نہیں، بلکہ اس عزمِ صمیم کی یادگار ہے جب دشمن نے ارضِ پاک پر بزدلانہ جنگ مسلط کرنے کی کوشش کی، لیکن اسے یہ اندازہ نہیں تھا کہ اس کا واسطہ ایک ایسی قوم اور ایسی جری مسلح افواج سے پڑنے والا ہے جن کا شعار ہی شہادت اور غازی بننا ہے۔ زندہ قوموں کا شیوہ یہی ہے کہ وہ اپنی فتوحات کو صرف یاد نہیں رکھتیں بلکہ انہیں ایک ایسی زندہ تحریک بنا دیتی ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیے غیرت اور خودداری کی مشعلِ راہ بن جاتی ہے۔ اسلام آباد میں منعقدہ ”معرکہ حق“ کی پہلی سالگرہ کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اس معرکے کی حقیقی روح کو الفاظ کا جامہ پہنایا۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ یہ صرف دو ملکوں کے درمیان زمین کے ایک ٹکڑے یا سرحد کی جنگ نہیں تھی، بلکہ یہ حق اور باطل کے درمیان ایک فیصلہ کن معرکہ تھا۔ دشمن کا خواب خطے میں اپنی نام نہاد بالادستی کا سکہ جمانا تھا، لیکن پاک فضائیہ کے شاہینوں نے جب دشمن کے جدید ترین طیاروں کو فضا ہی میں آگ کے گولوں میں بدل کر ان کا ملبہ زمین بوس کیا، تو دشمن کا وہ غرور واہگہ کے اُس پار ہی دفن ہو گیا۔ وزیر اعظم کا 10 مئی کو ”یومِ معرکہ حق“ کے نام سے منسوب کرنے کا اعلان اس بات کا واضح پیغام ہے کہ ریاست اپنے غازیوں کی شجاعت اور شہدا کے پاکیزہ لہو کو قومی حافظے کا مستقل اور ناقابلِ فراموش حصہ بنا چکی ہے۔ اس معرکے کا ایک اہم ترین پہلو وہ سفارتی محاذ آرائی تھی جس نے پاکستان کو عالمی نقشے پر ایک ذمہ دار اور مضبوط ریاست کے طور پر ابھارا۔ وزیرِ اعظم نے اپنے خطاب میں اس حساس وقت کا ذکر کیا جب دو ایٹمی طاقتیں آمنے سامنے تھیں اور ایک چھوٹی سی غلطی پورے خطے بلکہ دنیا کو ایٹمی جنگ کی ہولناکی میں دھکیل سکتی تھی۔ اس موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کلیدی کردار، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی غیر مشروط حمایت اور ترک و چینی صدور کے اٹل مو¿قف نے دشمن کو یہ باور کرا دیا کہ پاکستان تنہا نہیں ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ حالیہ ”سٹریٹیجک دفاعی معاہدہ“ اسی قربت کا تسلسل ہے جس نے دشمن کے سینے پر مونگ دل دی ہے۔ آج اگر ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کے لیے پاکستان کا نام لیا جا رہا ہے، تو یہ اسی ”معرکہ حق“ کا ثمر ہے جس نے دنیا کو بتا دیا کہ پاکستان امن کا خواہشمند تو ہے، لیکن اپنی سلامتی پر سمجھوتہ کرنے والی قوم نہیں ہے۔
عسکری محاذ پر اگر دیکھا جائے تو فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں افواجِ پاکستان نے پیشہ ورانہ مہارت کی وہ مثال قائم کی جس کی نظیر معاصر تاریخ میں نہیں ملتی۔ معرکہ حق کی مرکزی تقریب پر جب فیلڈ مارشل نے گرج دار آواز میں یہ اعلان کیا کہ ”پاکستان کل بھی ناقابل تسخیر تھا اور آج بھی ہے“، تو فضا پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی۔ انہوں نے واضح کیا کہ دشمن کی کسی بھی مہم جوئی کا جواب ”سرپرائز“ کی صورت میں دیا جائے گا۔ فیلڈ مارشل نے ”فتنہ الہندوستان“ اور ”فتنہ الخوارج“ کے ناپاک گٹھ جوڑ کو بے نقاب کرتے ہوئے ہمسایہ ملک افغانستان کو بھی سخت تنبیہ کی کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔ ان کا یہ کہنا کہ ”ہر پاکستانی کے خون کا بدلہ لیا جائے گا“، اس عزم کا اعادہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اپنے منطقی انجام تک جاری رہے گی۔ اس عظیم فتح کی خوشی صرف سرکاری ایوانوں تک محدود نہیں رہی بلکہ ملک کے طول و عرض میں عوامی سمندر سڑکوں پر نکل آیا۔ کراچی کے کینٹ سٹیشن سے لے کر لاہور کے لبرٹی چوک تک اور ڈیرہ اسماعیل خان کی گلیوں سے لے کر خضدار اور اوباڑو کے صحراو¿ں تک، ہر جگہ ایک ہی رنگ تھا سبز ہلالی پرچم کا رنگ۔ کراچی میں شہدا کی تصاویر اور جے ایف 17 تھنڈر کے ماڈلز عوام کے لیے کشش کا مرکز بنے رہے، جہاں مائیں اپنے بچوں کو بتا رہی تھیں کہ کس طرح ان کے محافظوں نے وطن کی لاج رکھی۔ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واہگہ بارڈر پر جب یہ کہا کہ ”25 کروڑ عوام اور پاک فوج ایک جان دو قالب ہیں“، تو اس نے ان عناصر کے منہ بند کر دئیے جو عوام اور ادارے کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی ناکام کوششیں کر رہے تھے۔ مریم نواز کا یہ مو¿قف کہ ”ریڈ لائن“ کراس کرنے والوں کا غرور خاک میں ملا دیا گیا ہے، اس نئی قومی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے جہاں ریاست کی رٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
بین الاقوامی سطح پر بھی اس دن کو بھرپور طریقے سے منایا گیا۔ سپین، قاہرہ، بحرین، ملائیشیا اور یہاں تک کہ نئی دہلی میں موجود پاکستانی سفارت خانوں میں پُروقار تقریبات ہوئیں۔ ان تقریبات کا مقصد دنیا کو یہ بتانا تھا کہ پاکستانی قوم ایک پُرامن قوم ہے لیکن اگر اسے دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وہ پلٹ کر جھپٹنا بھی جانتی ہے۔ غیر ملکی مبصرین نے بھی اعتراف کیا کہ جس طرح پاکستان نے عسکری برتری کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا اور دشمن کو امن کی راہ دکھائی، وہ ایک عظیم قوم کی نشانی ہے۔ مختصر یہ کہ ”معرکہ حق“ صرف ایک فوجی کامیابی نہیں بلکہ ایک نفسیاتی فتح بھی ہے۔ اس نے دشمن کے اس تکبر کو توڑ دیا کہ وہ عددی برتری یا جدید ٹیکنالوجی کے بل بوتے پر پاکستان کو دبا سکتا ہے۔ اس معرکے نے ثابت کیا کہ اصل طاقت اسلحے میں نہیں بلکہ ایمان کی قوت اور عوام کے اتحاد میں ہوتی ہے۔ آج کا پاکستان 10 مئی کے جذبے سے سرشار ہے۔ ہم نے فتنہ الخوارج کے ناسور کو ختم کرنا ہے اور مقبوضہ کشمیر کے مظلوم بھائیوں کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت تب تک جاری رکھنی ہے جب تک سرینگر کی فضاو¿ں میں آزادی کی اذانیں نہیں گونجتیں۔
زندہ قومیں اپنی تاریخ کے ماتھے پر فتح کا جھومر سجانا جانتی ہیں۔ ”معرکہ حق“ کی یہ سالگرہ ہمیں پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ جب تک ہم ”بنیان مرصوص“ یعنی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنے رہیں گے، دنیا کی کوئی طاقت ہمارا بال بھی بیکا نہیں کر سکتی۔ آج ہم اپنے شہدا کو سلام عقیدت اور غازیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اس عہد کی تجدید کرتے ہیں کہ ارضِ پاک کی حرمت پر کبھی آنچ نہیں آنے دیں گے۔ پاکستان ہمیشہ سلامت رہے گا، کیونکہ اس کے پاس مخلص قیادت، جری افواج اور محب وطن عوام کا ناقابلِ شکست مجموعہ موجود ہے۔
معرکہ حق: جب 25 کروڑ عوام بنیانِ مرصوص بن گئے
09:05 AM, 12 May, 2026