آپریشن بنیان مرصوص کے تحت 9 اور 10 مئی کی درمیانی رات اور 10 مئی کے قبل دوپہر کے اگلے چار گھنٹوںکے دوران بھارت کے خلاف پاکستان کی مسلح افواج نے جو معرکہ حق بپا کیا اور جس طرح بھارت کے کم و بیش 26 جنگی مقامات اور ائیر بیسز کو تباہی و بربادی سے دو چار کیا، اس کے حوالے سے میرے ذہن کے نہاں خانے میںکچھ یادیں ایسی ہیں جو شاید کبھی محو نہ ہو سکیں۔ 8 مئی کو بھارت کی طرف سے پاکستان کی فضا میں بھیجے گئے 120 کے لگ بھگ ڈرونز کا جو حشر ہوا تھا اور یہ سوکھے پتوں کی طرح زمین پر گِرتے رہے تھے، اس کے ساتھ کشمیر میں جنگ بندی لائن پر بھارتی کمانڈ چوکیوں کو پاکستان کی طرف سے جس تباہ کُن بمباری کا سامنا کرنا پڑا تھا اور چند ایک چوکیوں پر سفید جھنڈے لہرا کر ہتھیار ڈالے گئے، اس سے اندازہ ہو رہا تھا کہ بھارت سے اپنے غرور کا اس طرح خاک میں ملنا برداشت نہیں ہو گا اور وہ پاکستان کے خلاف کوئی بڑا اقدام اٹھانے سے دریغ نہیں کرے گا۔ پھر اس بات کا خطرہ بھی موجود تھا کہ پاکستان اور بھارت دونوں جوہری طاقتیں ہیں اور ان کے پاس تباہ کُن ایٹمی ہتھیار موجود ہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ دونوں یا اِن میں سے کوئی ایک آخری چارہ¿ کار کے طور پر ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کا فیصلہ کر گزرے۔ صحیح یاد نہیں پڑتا لیکن میرا خیال ہے کہ دونوں یا کسی ایک کی طرف سے سٹریٹیجک کمانڈز کے ہنگامی اجلاس بلائے جانے کی خبریں بھی شاید میڈیا میں آئی تھیں۔
حالات واقعات کے اس تناظر میں 9 اور 10 مئی کی درمیانی رات کے سائے دراز ہونا شروع ہوئے تو ذہن کے گوشوں میں یہ خیال جاگزیں ہو چکا تھا کہ ہو نہ ہو بھارت آج رات پاکستان کے خلاف کوئی بڑی کارروائی یا جنگی منصوبہ بروئے کار لا سکتا ہے۔ رات دیر تک الیکٹرنک میڈیا سے سُن گُن لی جاتی رہی۔ اسی دوران کچھ دیر کے لیے آنکھ لگ بھی گئی اور پھر کوئی بارہ ایک بجے کا وقت تھا کہ کانوں میں دھماکے کی آواز پڑی۔ فوراً یہ خیال پیدا ہوا کہ ہو نہ ہو یہ بھارت کے کسی بم یا میزائل کی آواز ہی ہو سکتی ہے۔ کچھ ہی دیر میں خبر آنا شروع ہو گئی کہ بھارت نے نور خان ائیر بیس چک لالہ راولپنڈی کو اپنے میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔ ٹی وی پر کچھ دھوئیں کے بادل اور سیکڑوں (بلکہ دو تین ہزار بھی کہا جا سکتا ہے) لوگوں کا ہجوم میزائل گرنے کی جگہ کے قریب جمع تھا۔ اسی دوران آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف ٹی وی پر نمودار ہوئے۔
اُنہوں نے کسی حد تک غصے کے عالم میں مختصر سا بیان دیا کہ بھارت نے نور خان ائیر بیس چک لالہ راولپنڈی، مرید ائیر بیس چکوال اور رفیقی ائیر بیس شور کوٹ روڈ پر اپنے میزائلوں سے حملہ کیا ہے اور اب وہ ہمارے جواب کے لیے تیار رہے۔
پھر کیا تھا کہ صبح صادق نماز فجر کا وقت قریب آ چکا تھا۔ اس دوران آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو، وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف سے بھارت کے خلاف جوابی کارروائی کے احکامات حاصل کر چکے تھے۔ جنرل سید عاصم منیر نے فجر کی نماز کی امامت اور طویل دعا کی اور ساتھ ہی پاکستان کی طرف سے بھارت کے اسلحے کے مختلف مراکز اور جنگی ٹھکانوں پر الفتح سیریز کے چار سو کلومیٹر رینج کے میزائلوں کے داغنے کا حکم جاری ہو گیا۔ دوسری طرف فضائیہ کے کنٹرول رُوم میں مشنِ شہادت، جس میں دو جے ایف 17 تھنڈر طیاروں نے حصہ لینا تھا، کے لیے ہوا بازوں کا چناو¿ مشکل ہو گیا تھا کہ کتنے ہی ہوا باز اس مشن جو بھارت کے جدید روسی ساختہ اینٹی میزائل ائیر ڈیفینس سسٹم ایس 400 کو نیست و نابود کرنے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا میں حصہ لینے کے لیے تیار تھے۔ قرعہ¿ فال سکواڈرن نمبر 14 کے دو مایہ ناز ہوا بازوںکے نام نکلا۔ جے 17 تھنڈر طیار ے فضا میں بلند ہوئے تو اس کے ساتھ ہی پاک فوج کے سٹریٹیجک اثاثوں کی الفتح میزائلوں پر مشتمل بیٹریاں یا پلا ٹون بھی حرکت میں آ گئیں، پھر کیا تھا کہ کچھ ہی وقت میں ہمارے مایہ ناز ہوا باز بھارت کے اودھم پور ائیر بیس پر نصب S-400 اینٹی میزائل ریڈار سسٹم کو ناکارہ کر کے بھارت کو ایک لحاظ سے اندھا کر چکے تھے کہ اب وہ اپنے جنگی طیاروں کے ذریعے پاکستان پر حملہ آور ہونے اور اپنے میزائل داغنے کے قابل نہیں رہا تھا۔ اس کے ساتھ ہی ہمارے الفتح میزائل بھارت پر برس رہے تھے۔ اس کے براہموس میزائلوں کا مرکز، اس کے اسلحے کے ڈپو، اس کے فوجی مراکز، اس کے بٹالین اور بریگیڈ ہیڈ کوارٹرز اور اس کے پٹھانکوٹ، اودھم پور سمیت اہم ائیر بیسز ہمارے الفتح میزائلوں کے نشانے پر تھے۔ پاکستان نے بھارت پر ایک گھنٹے کے دوران تین دنوں کی جنگ کے برابر میزائل برسا دئیے۔ پھر کیا تھا کہ بھارت کی چیخیں نکلنا شروع ہوئیں اور اُس نے جنگ بندی کے لیے سعودی عرب، ترکیہ اور امریکہ سے رابطے شروع کر دئیے۔ امریکہ جو پہلے اپنے آپ کو اس قضئیے سے دور رکھے ہوئے تھا وہ اِس خدشے پر کہ پاک بھارت جنگ ایٹمی جنگ میں تبدیل ہو سکتی ہے دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی کرانے پر تیار ہو گیا۔ اس طرح امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت سے 10 مئی 2025ءکی سہ پہر دونوںممالک کے درمیان جنگ بندی پر عمل درآمد شروع ہو گیا۔
پاک اور بھارت کے درمیان مئی 2025ءکی چار روزہ (سات مئی کی رات سے دس مئی دوپہر) جنگ کو ایک سال بیت چکا ہے۔ اس دوران بھارت کی طرف سے اپنی کامیابیوں کی کئی دعوے کیے گئے ہیں بلکہ اب بھی کیے جا رہے ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ اس جنگ میں بھارت کو بُری طرح ہزیمت، پسپائی اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی، اس کا وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ، اس کا وزیرِ خارجہ جے شنکر یا اس کے فوجی کمانڈر اپنی کامیابیوں اور پاکستان کو شکست سے دو چار کرنے یا پاکستان کے جنگی طیارے گرانے کے دعوے کرتے ہیں تو دنیا میںکوئی ملک یا حکومتی ذمہ دار ان کی بات ماننے یا اس پر یقین کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کئی بار اس جنگ میں بھارتی طیاروں کی تباہی کا ذکر چکے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ تعداد آٹھ تھی تو وہ اس تعداد کو بڑھا کر گیارہ بھی بتا چکے ہیں۔ اسی طرح ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ان کے کہنے پر پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی ہوئی اور ایٹمی جنگ کا خطرہ ٹلا ورنہ کروڑوں لوگ تباہی و بربادی کا نشانہ بن جاتے۔ امریکی صدر اپنے اس بیان پر ہی اکتفا نہیں کیے ہوئے ہیں بلکہ موقع بے موقع پاکستان کے وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف اور آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعریف و تحسین بھی کرتے رہتے ہیں اور انہیں شاندار شخصیات قرار دیتے ہیں۔
بلا شبہ مئی 2025ءکی چار روزہ معرکہ آرائی پاکستان کی عزت افزائی اور پذیرائی کا سبب بنی۔ پاکستان جو ایٹمی طاقت ہونے اور ایک بڑی جری اور پیشہ ورانہ مہارت کی حامل فوج کا مالک ہونے کے باوجود کسی گنتی و شمار میں نہیں ہو رہا تھا۔ عالمی طاقتیں اور یورپی ممالک تو رہے دُور، برادر اسلامی ملک بھی بھارت کے مقابلے میں پاکستان کو کمی کمین ہی سمجھ رہے تھے۔ لیکن اللہ کریم کا کرم ہوا۔ اللہ نے پاکستان کے وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف، آرمی چیف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور چیف آف ائیر سٹاف ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی قسمت میں یہ عزت لکھی ہوئی تھی کہ وہ اس مقام و مرتبے اور اعزاز سے نوازے گئے اور پاکستان فتح، عزت اور سر بلندی سے سرفراز ہوا۔ بلا شبہ قوموں کی برادری میں پاکستان آج سر اُٹھا کر چل سکتا ہے۔ پاکستان کو جو عزت اور سر بلندی حاصل ہوئی ہے یہ سب اللہ کریم کا کرم ہے کہ اللہ جسے چاہے عزت دیتا ہے، جسے چاہے ذلت دیتا ہے۔
10 مئی 2025ءکی رات ۔۔۔ جگمگاتی یادیں!
09:03 AM, 12 May, 2026