جنوبی ایشیا ہمیشہ سے جغرافیائی سیاست، بھارتی عسکری و سیاسی رقابت اور عالمی طاقتوں کی دلچسپی کا مرکز رہا ہے۔ حالیہ کشیدہ حالات اور آپریشن بنیان مرصوص نے خطے کی تذویراتی حقیقتوں کو ایک نئی شکل دے دی ہے۔ اس صورتحال نے واضح کیا ہے کہ پاکستان اب صرف روایتی عسکری قوت پر انحصار کرنے والی ریاست نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی، سفارتی حکمتِ عملی، سائبر استعداد اور علاقائی شراکت داری کے ذریعے اپنے دفاعی نظریے کو مضبوط بنا چکا ہے۔ اس پورے منظرنامے میں چین اور پاکستان کے درمیان سٹریٹیجک تعاون نے غیر معمولی اہمیت اختیار کی، جبکہ بھارت اور اسرائیل کے بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون کو پاکستان کے لیے ایک بڑے چیلنج کے طور پر دیکھا گیا۔ بھارت گزشتہ چند برس سے اسرائیلی دفاعی ٹیکنالوجی، نگرانی کے نظام، ڈرون ٹیکنالوجی اور میزائل دفاعی نظام پر بھاری سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ اسرائیل بھارت کو جدید ریڈار، الیکٹرانک وارفیئر سسٹم، انٹیلی جنس پلیٹ فارم اور نگرانی کے آلات فراہم کرتا رہا ہے۔ بھارت کی کوشش رہی کہ وہ ان ٹیکنالوجیز کے ذریعے خطے میں عسکری برتری حاصل کرے اور پاکستان پر نفسیاتی و تذویراتی دباو¿ بڑھائے۔ تاہم پاکستان نے اس چیلنج کا جواب محض روایتی انداز میں نہیں دیا بلکہ ایک جامع، کثیرالجہتی اور جدید دفاعی حکمتِ عملی اپنائی۔ یہاں چین کا کردار فیصلہ کن دکھائی دیتا ہے۔ چین اور پاکستان کی شراکت داری صرف اقتصادی راہداری یا سفارتی تعاون تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ دفاعی ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس اشتراک، فضائی دفاع، سائبر سکیورٹی اور جدید جنگی حکمتِ عملی تک پھیل چکی ہے۔ چین نے پاکستان کو نہ صرف جدید جنگی پلیٹ فارمز فراہم کیے بلکہ مقامی سطح پر دفاعی پیداوار کی استعداد بڑھانے میں بھی مدد دی۔ جے ایف 17 تھنڈر پروگرام، جدید ریڈار سسٹمز، ڈرون ٹیکنالوجی، الیکٹرانک وارفیئر اور سیٹلائٹ نگرانی جیسے شعبے اسی تعاون کی نمایاں مثالیں ہیں۔
آپریشن بنیان مرصوص کے دوران سب سے اہم پہلو پاکستان کی مربوط کمانڈ اینڈ کنٹرول صلاحیت تھی۔ جدید جنگیں صرف ٹینکوں اور
توپوں سے نہیں جیتی جاتیں بلکہ معلومات، رفتار، ڈیٹا اور درست فیصلہ سازی سے کامیابی حاصل ہوتی ہے۔ پاکستان نے اس میدان میں نمایاں بہتری دکھائی۔ جدید سنسر، ریئل ٹائم انٹیلی جنس، الیکٹرانک نگرانی اور مربوط فضائی دفاعی نظام نے دشمن کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی۔ چین کی تکنیکی معاونت نے پاکستان کو نیٹ ورک سینٹرل وارفیئر کے تصور کو عملی شکل دینے میں مدد فراہم کی، جس کے ذریعے فضائی، زمینی اور سائبر محاذوں کو ایک مربوط نظام کے تحت چلایا گیا۔ ڈرون ٹیکنالوجی بھی اس پورے منظرنامے میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ دنیا بھر میں یوکرین جنگ کے بعد یہ حقیقت مزید واضح ہو چکی ہے کہ مستقبل کی جنگوں میں بغیر پائلٹ طیارے فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔ پاکستان نے بھی اس حقیقت کو بروقت سمجھا اور چین کے تعاون سے نگرانی، انٹیلی جنس اور دفاعی مقاصد کیلئے جدید ڈرون صلاحیتوں کو فروغ دیا۔ اس سے نہ صرف دشمن کی نقل و حرکت کی بروقت معلومات حاصل ہوئیں بلکہ حساس مقامات کے تحفظ اور ردِعمل کی رفتار میں بھی اضافہ ہوا۔
سائبر وارفیئر بھی جدید جنگ کا ایک اہم محاذ بن چکا ہے۔ پاکستان نے اس شعبے میں بھی اپنی صلاحیتوں کو بے حد بہتر بنایا ہے۔ دشمن کے مواصلاتی نظام، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور معلوماتی نیٹ ورکس پر کڑی نظر رکھنے کی صلاحیت کسی بھی جدید ریاست کیلئے ناگزیر ہو چکی ہے۔ چین چونکہ سائبر اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی میں عالمی سطح پر ایک بڑی طاقت سمجھا جاتا ہے، اس لیے اس میدان میں تعاون نے پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو مزید مستحکم کیا۔ اس پورے تناظر میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاکستان نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھی ذمہ داری اور تحمل کا راستہ اختیار کیا۔ ایک ایٹمی ریاست ہونے کے ناتے پاکستان نے واضح کیا کہ اس کا مقصد جنگ کو وسعت دینا نہیں بلکہ ڈیٹرینس کو مو¿ثر اور یقینی بنانا ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جو پاکستان کے مو¿قف کو عالمی سطح پر مضبوط بناتا ہے۔ پاکستان نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ امن کی خواہش کمزوری نہیں بلکہ ایک ذمہ دار ریاست کی پختہ سوچ کی علامت ہے۔
دوسری جانب بھارت میں بڑھتی ہوئی قوم پرستانہ سیاست اور جارحانہ بیانیہ خطے کے امن کیلئے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ بھارت کا داخلی سیاسی دباو¿ اور اسکی نفرت کی بنیاد پر قائم انتخابی سیاست اکثر جنوبی ایشیا میں کشیدگی کو ہوا دیتی رہی ہے۔ پاکستان دشمنی میں بھارت کا اسرائیل کے ساتھ بڑھتا ہوا دفاعی تعاون بھی اسی تناظر میں ہے، جہاں بھارت کی جانب سے جدید ہتھیاروں اور عسکری طاقت کے ذریعے علاقائی برتری حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جنوبی ایشیا جیسے حساس خطے میں طاقت کا توازن بگاڑنے کی کوئی بھی بھارتی اور اسرائیلی کوشش پورے خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ پاکستان اور چین کی شراکت داری نے اس صورتحال میں ایک متبادل توازن پیدا کیا ہے۔ یہ اتحاد صرف عسکری نوعیت کا نہیں بلکہ سیاسی، سفارتی اور اقتصادی بنیادوں پر بھی استوار ہے۔ چین خطے میں استحکام، اقتصادی روابط اور تذویراتی توازن کو اہم سمجھتا ہے، جبکہ پاکستان اپنی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ اس پورے معاملے کا ایک اہم پہلو بیانیے کی جنگ بھی ہے۔ آج کی دنیا میں میڈیا، سوشل میڈیا اور سفارتی مو¿قف کسی بھی تنازعے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ پاکستان نے نسبتاً متوازن اور ذمہ دارانہ مو¿قف اختیار کرتے ہوئے عالمی برادری کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ وہ کشیدگی نہیں بلکہ استحکام چاہتا ہے۔ یہی سفارتی حکمتِ عملی پاکستان کیلئے ایک بڑی کامیابی ثابت ہوئی۔
آپریشن بنیان مرصوص محض ایک عسکری ردِعمل نہیں بلکہ پاکستان کی جامع قومی حکمتِ عملی کا اظہار تھا۔ اس نے یہ ثابت کیا کہ جدید دور میں کامیابی صرف ہتھیاروں کی تعداد سے نہیں بلکہ ٹیکنالوجی، اتحاد، معلومات، سفارت کاری اور قومی یکجہتی سے حاصل ہوتی ہے۔ چین کے ساتھ سٹریٹیجک تعاون نے پاکستان کو دفاعی اور تکنیکی سطح پر نئی قوت بخشی، جبکہ پاکستان نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ وہ امن کا خواہاں ضرور ہے، لیکن اپنی سلامتی، وقار اور قومی مفادات کے تحفظ کیلئے ہر سطح پر تیار بھی ہے۔ جنوبی ایشیا کا مستقبل طاقت کے غیر ذمہ دارانہ استعمال میں نہیں بلکہ توازن، تدبر اور پائیدار امن میں پوشیدہ ہے۔
پاک چین تذویراتی اشتراک اور آپریشن بنیان مرصوص
09:03 AM, 12 May, 2026