ڈاؤننگ سٹریٹ میں 'بغاوت': کیئر اسٹارمر کی گرفت کمزور، 70 اراکین پارلیمنٹ کا الٹی میٹم، حکومت بحران کی زد میں

09:15 AM, 12 May, 2026

لندن :برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی حکومت ہچکولے کھانے لگی ہے۔ اپنی ہی جماعت کے اندر سے اٹھنے والے طوفان نے حکومت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں، جہاں نائب وزیراعظم سمیت 70 سے زائد اراکینِ پارلیمنٹ نے وزیراعظم سے فوری طور پر عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
حکومتی صفوں میں اس وقت کھلبلی مچ گئی جب چار اہم وزارتی معاونین نوبشاہ خان، ٹوم رٹلینڈ، جو مورس اور میلانی وارڈ نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ ان مستعفی ارکان کا کہنا ہے کہ وہ اب اس حکومت کا حصہ نہیں رہ سکتے جو عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔
باغی ارکان نے وزیراعظم پر فردِ جرم عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ     وزیراعظم ملک میں وہ "تبدیلی" لانے میں ناکام رہے ہیں جس کا خواب دکھا کر وہ اقتدار میں آئے تھے۔    عوامی سطح پر حکومت کی مقبولیت میں تیزی سے کمی آئی ہے اور لوگ خود کو ٹھگا ہوا محسوس کر رہے ہیں۔
    کابینہ اور پارلیمانی اراکین کے درمیان رابطوں کا فقدان ہے، جس کی وجہ سے پالیسیاں زمین پر اثر نہیں دکھا رہیں۔
وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے ان تمام مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ مستعفی نہیں ہوں گے۔ ان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کو عوامی مینڈیٹ حاصل ہے اور وہ چند اراکین کے دباؤ میں آکر مستعفی ہونے کا ارادہ نہیں رکھتے۔
مستقبل کی صورتحال

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، نائب وزیراعظم کی خاموش حمایت اور اتنی بڑی تعداد میں ارکانِ پارلیمنٹ کا سڑکوں پر آنا اسٹارمر کے لیے 'سیاسی خودکشی' ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر وزیراعظم نے فوری طور پر اپنی حکمتِ عملی نہ بدلی تو برطانیہ میں ایک بار پھر قیادت کی تبدیلی کے لیے ہنگامی ووٹنگ کا عمل شروع ہو سکتا ہے۔

مزیدخبریں