جنگ کی دہلیز سے واپسی…

09:12 AM, 12 May, 2025

دلی سرکار کی ہٹ دھرمی اور غیر ذمہ دارانہ رویے ،اس غیر سنجیدہ اور خطرناک طرزِ عمل نے دو ایٹمی ممالک کو ایک مرتبہ پھر براہ راست فوجی تصادم میں دھکیل دیا اور پھر بھارت نے اپنی عسکری برتری جتانے کے زعم میں تمام حدیں پار کرتے ہوئے پاکستان کی حدود میں میزائل اور ڈرون حملے شروع کر دیئے،بہاولپور،مریدکے،سیالکوٹ اور کوٹلی سمیت متعدد مقامات پر مساجد کو شہید کرتے ہوئے بے گناہ اور معصوم پاکستانیوں کو شہید کیا جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے،مودی سرکار کی جانب سے اس جارحیت اور سفاکانہ کارروائی کا مقصد محض سیاسی فائدہ اٹھانا اور بھارتی عوام کی توجہ مہنگائی،بے روزگاری اور معاشی زوال سے ہٹانا تھا۔۔۔لیکن اس بار پاکستان نے بھی جواب میں کوئی مصلحت نہیں برتی۔۔۔جب دشمن نے جارحیت کی تو پاکستانی شاہینوں نے فضائی حدود میں اپنی برتری ثابت کرتے ہوئے بزدل دشمن کو چاروں شانے چت کرتے ہوئے دھول چٹا دی۔۔۔دفاعِ وطن کے مقدس فریضے کو ادا کرتے ہوئے بہادرپاکستانی افواج نے دشمن کو وہ سبق سکھایا جسے وہ مدتوں نہیں بھول سکے گا۔یہ بات خوش آئند ہے کہ امریکی ثالثی کے نتیجے میں بالآخر جنگ بندی کا اعلان ہوا اور دونوں ممالک نے تمام عسکری کارروائیاں روکنے پر رضا مندی ظاہر کی مگر سوال یہ ہے کہ ایسی نوبت کیوں آئی؟کیا بھارت کی سیاسی قیادت ہمیشہ خطے کے مسائل کو صرف ووٹ بینک اور الیکشن جیتنے کے تناظر میں دیکھتی رہے گی؟کیا جنوبی ایشیا کے عوام ہمیشہ جنگی جنون،نفرت انگیز بیانیے اور مذہبی تعصب کی آگ میں جھلستے رہیں گے؟۔بھارت اور پاکستان دو ایٹمی طاقتیں ہیں جن کے درمیان کسی بھی فوجی تصادم کے نتائج نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔جب عوامی مسائل کو نظر انداز کر کے مذہبی منافرت اور عسکری جنون کو بڑھاوا دیا جائے،جب بھارتی میڈیا حب الوطنی کے نام پر زہر اگلنے لگے،جب عسکری قیادتیں اپنی موجودگی کو سیاسی ضرورت بنائیں،تب امن کا خواب ایک تمسخر بن جاتا ہے۔پاکستانی فوج کی پیشہ ورانہ مہارت،جذبہ شہادت اور حب الوطنی کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے۔۔۔جس انداز میں انہوں نے حالیہ جارحیت کا جواب دیا،وہ محض ایک عسکری رد عمل نہیں بلکہ ایک واضح پیغام تھا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے مگر کمزوری کا ہرگز مظاہرہ نہیں کرے گا۔۔۔دشمن کو اگر امن کی زبان سمجھ نہیں آتی،تو وہ ہماری خاموشی کو کمزوری نہ سمجھے۔۔۔اس کشیدہ صورتحال میں اگر علاقائی ممالک کے کردار کا جائزہ لیا جائے تو ترکیہ نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے پاکستان کی مکمل حمایت کی۔۔۔انقرہ سے جاری ہونے والے بیان میں ترکیہ نے پاکستان کے دفاعی اقدامات کو جائز قرار دیتے ہوئے بھارت پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کرے اور خطے کے امن کو داؤ پر نہ لگائے۔بیجنگ نے فوری طور پر فریقین سے تحمل کی اپیل کی اور بند کمرے کی سفارتی کوششوں میں سرگرم رہا۔۔۔ذرائع کے مطابق چین نے اقوام متحدہ کی سطح پر بھارت کے خلاف نرم رویہ رکھنے کے باوجود،پس پردہ پاکستان کے مؤقف کی تائید کی اور بھارت کو عسکری حد سے تجاوز نہ کرنے کی وارننگ دی۔۔۔ایران کا مؤقف بھی ثالثی پر مبنی رہا۔سعودی وزیر خارجہ پہلے بھارت گئے،جہاں انہوں نے مودی سرکار کو دو ٹوک انداز میں کہا کہ سعودی عرب خطے میں جنگ نہیں بلکہ معاشی ترقی دیکھنا چاہتا ہے۔۔۔بعد ازاں پاکستان آ کر وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی اور انہیں تحمل اور معاملہ فہمی کی تلقین کرتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے معاملہ حل کرنے پر زور دیا اور اپنے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ امریکہ، اقوام متحدہ، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کی جانب سے حالیہ جنگ بندی میں جو کردار ادا کیا گیا،وہ قابل تحسین ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ صرف عارضی ریلیف ہے یا مستقل پالیسی کا پیش خیمہ؟عالمی طاقتوں کو چاہیے کہ وہ محض وقتی امن پر اکتفا نہ کریں بلکہ مسئلہ کشمیر کے بنیادی حل کی جانب پیش رفت کروائیں، جو اس تمام کشیدگی کی جڑ ہے۔او آئی سی نے کہا کہ ہم جموں و کشمیر کے مسئلے کے پرامن حل کی ضرورت پر زور دیتے ہیں، جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے تاکہ جنوبی ایشیا میں دو جوہری طاقتوں کے درمیان تناؤ سے بچا جا سکے۔ان تمام پہلوؤں کو دیکھتے ہوئے یہ بات واضح ہے کہ اگر بھارت ہٹ دھرمی ترک کر کے مذاکرات کی میز پر آتا ہے تو پاکستان نہ صرف خیر مقدم کرے گا بلکہ اپنے جغرافیے اور نظریے کی حدود میں رہتے ہوئے مسئلہ کشمیر سمیت دیگر تنازعات کا پرامن حل تلاش کرنے کو بھی تیار ہے،اگر کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی بند ہو،اگر وہاں کے عوام کو ان کا حق خود ارادیت دیا جائے اور اگر بھارت اقلیتوں کے خلاف تعصب پر مبنی پالیسی ترک کرے تو امن خود بخود پھلنے پھولنے لگے گا۔۔۔امن صرف سیاسی بیانات سے قائم نہیں ہوتا۔۔۔ امن کے لیے نیت، نرمی اور برداشت درکار ہوتی ہے۔۔۔پاکستان بارہا کہہ چکا ہے کہ وہ بھارت سے پرامن تعلقات چاہتا ہے مگر برابری کی بنیاد پر۔۔۔نہ جنگ کی خواہش ہے،نہ جھکنے کا ارادہ۔وقت آ چکا ہے کہ دونوں ممالک ماضی کی تلخیوں کو دفن کر کے مستقبل کی تعمیر کی جانب بڑھیں۔ ۔۔ تعلیم، صحت،روزگار،ماحولیاتی تحفظ اور علاقائی تجارت جیسے موضوعات پر بات چیت ہو۔اب فیصلہ مودی سرکار اور بھارتی اشرافیہ کے ہاتھ میں ہے۔۔کیا وہ تاریخ کے اس نازک موڑ پر دانشمندی کا مظاہرہ کریں گے یا ایک بار پھر اپنے غرور،ہٹ دھرمی اور فاشسٹ سوچ کو عوام پر مسلط کریں گے؟پاکستان نے اپنا فرض نبھایا ہے،دشمن کو جواب بھی دیا اور امن کی راہ بھی دکھائی ہے۔۔۔اب دنیا کو یہ دیکھنا ہے کہ نئی دہلی اس موقع کو غنیمت جانتی ہے یا تاریخ کی ایک اور تلخ قسط لکھنے پر بضد رہتی ہے۔۔۔

مزیدخبریں