افواجِ پاکستان اور ریڈیو پاکستان

09:11 AM, 12 May, 2025

10 مئی 2025ء ہفتہ کے دن اس وقت صبح کے تقریباً چھ بجے کا وقت تھا جب میں ریڈیو پاکستان لاہور پہنچا۔ علی الصبح چار بجے کے قریب بھارت کی مسلسل جارحیت اور اشتعال انگیزی کے جواب میں افواج پاکستان کے آپریشن ’’بُنْیَانٌ مَّرْصُوْص‘‘ کا بڑے زور شور سے آغاز ہو چکا تھا۔ بلامبالغہ ریڈیو پاکستان لاہور اس وقت 1965ء اور 71ء کی پاک بھارت جنگوں کے دوران اُس وقت ریڈیو پاکستان سے وابستہ عزم و ہمت کے پیکر اُن عظیم فنکاروں، ہنر مندوں، شاعروں اور گلوکاروں کے جذبہ حب الوطنی کی یاد تازہ کر رہا تھا جن کا ذکر سنہرے لفظوں میں آج بھی وطن کی سلامتی کے لیے ڈٹ جانے والوں کی داستانوں میں ملتا ہے۔ یقین کریں ریڈیو پاکستان لاہور کے مرکزی گیٹ سے ڈیوٹی روم، سٹوڈیوز اور کنٹرول روم تک ہرکوئی جذبہ حب الوطنی کے اسی جوش اور ولولے سے سرشار دکھائی دے رہا تھا۔ دفاع وطن کے سلسلے میں ریڈیو پاکستان کے شاندار اور تاریخی کردار کی روشنی میں ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل سعید احمد شیخ صاحب کے حکم پر ایف ایم 101 ریڈیو پاکستان لاہور کے سٹوڈیو سے قومی نشریاتی رابطے پر آپریشن بُنْیَانٌ مَّرْصُوْص کے حوالے سے بغیر کسی وقفے کے خصوصی لائیو ٹرانسمشن جاری تھیں۔ جس میں ریڈیو پاکستان لاہور کے سٹیشن ڈائریکٹر ڈاکٹر احمر سہیل بسرا کے ہمراہ ہمارے دوست سینئر پروڈیوسرز بیر بشیر، ڈی جے ڈاکٹر ندیم الرحمن اور ڈی جے ڈوکس (اسد ابرار) بھارتی میڈیا کے شر انگیز پراپیگنڈے کا منہ توڑ جواب دینے اور قوم کا مورال بلند رکھنے کے لیے سامعین کو ملی نغمے اور ترانے سنوانے کے ساتھ محاذ جنگ سے افواج پاکستان کی پہ در پہ فتوحات ’’پاکستان نے بھارتی فوجی اڈے، ائیر فیلڈز، براہموس سٹوریج سائٹ تباہ کر دی، بھارت پر فتح ون میزائل فائر کر کے آپریشن کا آغاز کر دیا گیا، پاکستان کے جے ایف 17 تھنڈر نے ہائپر سونک میزائلوں سے آدم پور میں بھارت کا لگ بھگ ڈیڑھ ارب ڈالر مالیت کا دفاعی نظام S-400 سسٹم تباہ کر دیا۔‘‘ جیسی مستند اور لہو گرماتی خبروں کے ساتھ ملک کے اندر امن و امان کی تازہ ترین صورتحال سے بھی لمحہ بہ لمحہ آگاہ کر رہے تھے۔ یہ سلسلہ پاکستان کی فتح کے اعلان تک جاری رہا جس میں وقفے وقفے سے میرے سمیت فرحان خان، وسیم احمد، نمرہ مسعود، حمنہ خان، علی رضا اور ارحم بٹ جیسے ڈی جیز شامل ہوتے رہے۔ اس دوران ایف ایم 101 لاہور کی انچارج میڈم خولہ ارشد بھی ٹیلی فون پر مسلسل رابطے میں رہیں۔ شروع میںجب میں اس لائیو نشریات کا حصہ بنا تو ڈی جے ڈوکس (اسد ابرار) جو رات بھر سے اس نشریات کا حصہ اور اب اس کے مرکزی میزبان تھے انہوں نے مجھ سے سوال پوچھا کہ ’’ابرار صاحب لگتا ہے موجودہ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر آپ بھی رات بھر کے جاگے ہوئے ہیں‘‘۔ میں نے عرض کیا ’’اسد ابرار صاحب! یقین کریں کہ جنگ کی موجودہ صورتحال میں بھی دیگر بے شمار پاکستانیوں کی طرح میں اور میری فیملی آج بھی کسی ڈر خوف کے بغیر روزانہ رات کو بڑے اطمینان اور سکون کے ساتھ سوتے ہیں کیونکہ ہمیں یقین ہے ہمارے ملک کی سرحدوں پر ہماری قوم کی حفاظت کرنے والے شیر جوان پوری مستعدی سے جاگ رہے ہیں۔ وہ ہم پر کسی قسم کی آنچ نہیں آنے دیں گے۔‘‘ قارئین کرام! یقینا آپ بھی اس بات کی گواہی دیں گے کہ ملکی سلامتی و دفاع کے حوالے سے افواج پاکستان پر ایسا غیر متزلزل یقین اور اعتماد محض میرا ہی نہیں ہے بلکہ کراچی سے پشاور تک اور پنجاب، کشمیر سے بلوچستان تک وطن عزیز کے کونے کونے میں مرد زن کی تفریق کے بغیر ہر ایک محب وطن کی یہی سوچ اور ایمان ہے۔ آج سے پہلے اگر اس خیال کے برعکس ہمارے ہاں کسی گدھے کے پجاری چند ایک بیوقوف ایسے تھے بھی تو میرے خیال میں آپریشن بُنْیَانٌ مَّرْصُوْص میں جس طرح بھارتی سورمائوں کی ’’چھترول‘‘ کی گئی ہے گائو ماتا کے پجاریوں کی طرح اب ان کو بھی اپنی سوچ درست کر لینی چاہیے۔ جنگ ایک خوفناک چیز ہے جس کی کسی بھی صورت حمایت نہیں کی جا سکتی لیکن جب کسی قوم پر زبردستی جنگ مسلط کر دی جائے تو پھر ضروری ہے کہ ملک کے تمام ادارے اور افراد کسی رنگ نسل، علاقے، پارٹی، فرقے اور نظریے سے بالاتر ہو کے 
ایک سیسہ پلائی دیوار کی طرح اپنے ملک کی حفاظت اور سلامتی کے لیے دشمن کے خلاف جم کر کھڑے ہو جائیں۔ مجھے خوشی ہے کہ ریڈیو پاکستان نے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا تارڑ کی ہدایات کی روشنی میں اپنے شاندار ماضی کی طرح اس بار بھی افواج پاکستان کے شانہ بشانہ نشریاتی محاذ پر بڑے جوش و جذبے اور مہارت سے دن رات ملکی دفاع اور سلامتی کی یہ جنگ لڑی ہے۔ جس میں مردوں کے ساتھ خواتین بھی پیش پیش رہیں۔ انہیں خواتین میں ایف ایم 101 ریڈیو پاکستان لاہور کی ڈی جے ڈاکٹر ریحا الطاف بھی ہیں جنہیں میں نے صبح کے ساڑھے سات بجے فون کر کے پوچھا ’’ڈاکٹر صاحبہ! آپ نیوز چینل پر افواج پاکستان کے آپریشن بُنْیَانٌ مَّرْصُوْص کے حوالے سے خبریں دیکھ رہی ہیں‘‘ انہوں نے کہا کہ دیکھ بھی رہی ہوں اور اپنے فوجی بھائیوں کی سلامتی کی دعائیں کرنے کے ساتھ سوچ رہی ہوں کہ کاش اس نازک وقت میں بھی اپنے ملک کے لیے دعائوں کے علاوہ کچھ کر سکتی‘‘۔ میں نے کہا ’’ڈاکٹر صاحبہ بس پھر یہ بتائیں آپ نشریاتی محاذ پر دشمن کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے ریڈیو پاکستان کتنی دیر میں پہنچ سکتی ہیں‘‘۔ ڈاکٹر صاحبہ نے کہا ’’میرے گھر سے ریڈیو کا فاصلہ تقریباً پینتالیس منٹ کا ہے تیس منٹ اس میں تیاری کے شامل کر لیں تو آپ سمجھیں میں اگلے ڈیڑھ گھنٹے میں ریڈیو پاکستان ہونگی‘‘۔ میں نے ازراہ مذاق کہا ’’ڈاکٹر صاحبہ! تیاری شیاری کو رہنے دیں اس وقت ہم دشمن کے خلاف حالت جنگ میں ہیں آپ بس منہ پر پانی کے ایک دو چھینٹے ماریں اور بغیر میک اپ کے ہی فوری طور پر ریڈیو پہنچیں‘‘۔ یہ کہہ کر میں نے فون بند کر دیا۔ نو بجے ایف ایم 93 سے میں صبح کا پروگرام ’’راوی رنگ‘‘ کر کے سٹوڈیو سے باہر نکلا تو ڈاکٹر صاحبہ ریڈیو پاکستان لاہور تشریف لا چکی تھیں اور اب ایف ایم 101کے سٹوڈیو سے پورے انہماک سے آن ائیر تھیں۔ میں انہیں دیکھ کر حیران رہ گیا ڈاکٹر صاحبہ ملک کو درپیش ہنگامی صورتحال کے پیش نظرسچ مچ بغیر میک اپ کے آ گئی تھیں اور اس وقت پورے جوش اور جذبے سے دشمن کے خلاف نشریاتی محاذ پر ڈٹی ہوئی تھیں۔ میں نے حیرت سے انہیں ایک نظر دیکھا اور سوچا ’’میں نے تو ایک بات کی اس نے کمال کر دیا‘‘۔ اب آپ ہی بتایئے بھارت یا پاکستان کا کوئی اور دشمن ایسی قوم کو ہرا سکتا ہے جس کی عورتوں میں بھی ملک اور قوم کے لیے ایسا بے مثال جوش جذبہ اور ولولہ ہو۔

مزیدخبریں