بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دے دیا گیا۔ پاکستان فتح یاب ہوا۔ اس فتح کے پیچھے سپہ سالار پاکستان کی للکار، ائیرفورس کے جانبازوں کی پیکار، نیوی کا صبر و انتظار قوم کا ایثار ہے۔ صدر پاکستان کی فہم، وزیراعظم پاکستان کی فراست، وزیر دفاع کا سچ تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ پاکستان کے تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو بھی کریڈٹ دینا چاہئے۔ ان کا کردار بھی نہایت اہم ہے۔ سب نے بھرپور انداز میں بھارتی اقدامات کی مذمت جاری رکھی۔ وہ قوم کا حوصلہ ہر دم بڑھاتے رہے۔ وہ علی لاعلان سب کچھ کہتے رہے جو ایسا نہ کر سکے وہ دل ہی دل میں بھارت کو برا کہتے رہے۔ یوں وہ ایمان کے ایک درجے پر فائز رہے۔ مکار دشمن نے پاکستان میں سول آبادیوں کو نشانہ بنایا۔ ڈرون حملوں میں پہلے روز چھبیس افراد شہید ہوئے، چھیالیس زخمی ہوئے۔ مرد عورتیں حتیٰ کہ کمسن بچے ان حملوں کی زد میں آئے جن کا کوئی قصور نہ تھا۔ عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا گیا جنہیں ہر مذہب نے محفوظ رکھنے کا حکم دیا ہے۔
پاکستان نے دفاعی جنگ لڑی، کہیں فضائی حدود یا کنٹرول لائن کراس نہیں کی۔ ہم بھی سول آبادیوں کو نشانہ بنا سکتے تھے مگر گریز کیا۔ وزیر دفاع نے واضح کر دیا تھا کہ ہم ایسا نہیں کریں گے۔ جموں، اونتی پور، اکھنور، بھٹنڈا، اڈی چھمب، جوڑیاں، چھتری، جونہ، سالمیہ نوشہری، پونچھ، نکیال، حویلی کہوٹہ، آدم پور، اودھم پور، سورت گڑھ، مامون، سرسہ برنالہ اور بھمبھر کے محاذ گرم رہے۔ یہاں ہر جگہ بھارت نے پہل کی اس کا مقصد جنگ کو پھیلانا تھا۔ پاکستان اس کی حکمت عملی سے خوب واقف تھا، اس کے جال میں نہ آیا۔ اپنی حدود میں رہتے ہوئے جب رافیل جیسے جدید ترین لڑاکا طیارے سمیت پانچ اور بعض اطلاعات کے مطابق چھ طیارے گرائے تو بھارت کے ہاتھ پائوں پھول گئے۔ اس نے ڈرون حملوں کے ساتھ ساتھ میزائل حملے شروع کر دیئے۔ وہ جنگی محاذ تک رہتا تو اسے جنگ کا حصہ سمجھ لیا جاتا لیکن اس کی طرف سے سول آبادیوں پر میزائل داغے گئے تو اندازہ ہو گیا کہ وہ حواس کھو بیٹھا ہے۔ فضا میں عظیم الشان کامیابی حاصل کرنے کے بعد بڑھتے ہوئے دشمن کو واپس دھکیلنا تھا جو فوجی اور فنی مہارت سے کیا گیا۔ بھارت کی ملٹری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور فتح ون و دیگر میزائلوں کی شکل میں بارود کی بارش برسا دی گئی۔ اربوں ڈالر کا انڈین دفاعی نظام ناکارہ بنا دیا۔ بھارتی افواج کا سیٹلائٹ نظام جام کر دیا تو ان کی حالت ایسی تھی جسے بند اندھیرے کمرے میں کوئی ہاتھوں کی مدد سے ٹٹولتا پھرتا ہے۔ راستہ تلاش کرنے کی کوششیں کرتا ہے، اسے ہر قدم پر ٹھوکر لگتی ہے۔ وہ گرتا ہے، اٹھتا ہے اور پھر گر پڑتا ہے۔ بھارت کے چھبیس کے قریب اہم مقامات کو نشانہ بنایاگیا جن میں اس کی ائیرفیلڈ، براہموس میزائلوں کے ڈپو سٹوریج شامل ہیں۔ بھارت نے کنٹرول لائن کے ساتھ ساتھ مختلف مقامات پر مسلسل فائرنگ جاری رکھی جس کا ہماری طرف سے مؤثر جواب دیا جاتا رہا۔ ہر محاذ پر منہ توڑ جواب دیا گیا جس کی شاید بھارت توقع نہ کر رہا تھا، اس جواب کے بعد اس کی حالت وہ تھی جو باکسنگ رنگ میں خوش فہمی کا شکار باکسر کو مخالف باکسر کی جانب سے زور دار پنچ پڑنے کے بعد ہوتی ہے۔ وہ اس کے بعد لڑکھڑاتا اور رنگ کی رسیوں کا سہارا لیتا نظر آتا ہے۔ بھارت نے اپنا ائیرکرافٹ کیرئیر پاکستان کی سمندری حدود سے کچھ فاصلے پر لاکھڑا کیا، اس کا خیال تھا پاکستان ڈر جائے گا۔ ایک روز کے اندر اسے اندازہ ہو گیا کہ ہم اس کے ائیرکرافٹ کیرئیر اور اس کے جہازوں کے پرخچے اڑا دیں گے، جس پر وہ جدھر سے آیا ادھر ہی منہ کر گیا۔ فضا میں بدترین شکست کے بعد اسے سمندر کے پانیوں میں موت کا منظر نظر آگیا۔ ائیرکرافٹ کیرئیر تو مٹی کا مادھو ہوتا ہے، اس پر موجود درجنوں ہوائی جہازوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ہمارے پائلٹ اپنی کارکردگی کا لوہا منوا چکے تھے۔ بھارت کا یہ بحری جہاز ہمارے میزائلوں کی رینج میں تھا، ہماری آب دوزیں بھی وقت اور موقع کا انتظار کر رہی تھیں۔
جنگ کتنی خطرناک ہوتی ہے اور کیا تباہی لاتی ہے۔ بھارت کی نئی نسل نے یہ سب کچھ فلموں میں دیکھا ہے، اسے اس کا اندازہ اس وقت ہو گا جب وہ یہ سب کچھ اپنی دہلیز پر دیکھے گا، ہم نے یہ منظر اسے دکھا دیا ہے۔
ایک واقعہ اور اس سے جڑا اہم سوال بے چین کئے ہوئے ہے، جواب کی تلاش میں آپ کے ذہن کے دروازے پر دستک دے رہا ہوں۔ جنگ افغانستان میں راولپنڈی شہر میں ایک اسلحہ ڈپو تھا، اس علاقے کو اوجڑی کیمپ کے نام سے آپ جانتے ہیں، یہاں اس دور کا جدید ترین اسلحہ رکھا گیا تھا جس میں مختلف قسم کے چھوٹے بڑے بہت بڑے شیل اور میزائل سٹور کئے گئے تھے۔ کسی غلطی یا غیر احتیاطی عمل کے سبب اس میں آگ لگ گئی اور اسلحے نے آگ پکڑ لی۔ میزائل چلنا شروع ہو گئے۔ راولپنڈی سے اسلام آباد تک کا علاقہ اور فضا اس کی لپیٹ میں آگئی۔ میزائلوں نے انسانوں، املاک، گزرنے والی گاڑیوں حتیٰ کہ ایک دو پروازوں کو بھی نقصان پہنچا۔ صبح سے شام تک یہ قیامت برپا رہی۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے والد اور بھائی ایک کار میں وہاں سے گزر رہے تھے وہ ایک میزائل کی زد میں آکر شہید ہو گئے۔ مجموعی طور پر ان میزائلوں کی برسات میں درجنوں مرد ، خواتین اور بچے شہید ہوئے، بعض اطلاعات کے مطابق ان کی تعداد سیکڑوں میں تھی۔
ہمارے میزائلوں نے بھارت کے درجنوں مقامات کو نشانہ بنایا جس کے بعد بھارت جنگ بندی کیلئے گھٹنوں پر آیا۔ میزائلوں کی برسات میں میرے خیال کے مطابق ایک بہت بڑی تعداد میں بھارتیوں کی ہلاکتیں ہو سکتی ہیں۔ بھارت اور بھارتی میڈیا اس حوالے سے دم سادھے بیٹھا ہے، کچھ بتانے کو تیار نہیں۔ ماڈرن وار فیر میں اگر توقع سے زیادہ جنگی انسانی نقصان ہو جائے تو لاشیں لواحقین کے حوالے نہیں کی جاتیں، نہ ان کی تعداد بتائی جاتی ہے تاکہ سول سوسائٹی میں کہرام نہ مچے، ان لاشوں کو سرد خانوں میں لگا دیا جاتا ہے۔ جنگ عراق اور بعدازاں جنگ افغانستان میں امریکہ اور یورپ نے ایسا ہی کیا تھا اور ہزاروں ہلاک ہونے والے فوجیوں کی لاشیں طویل عرصہ بعد وہاں سے نکالیں۔ کیا بھارت بھی ایسا ہی کر رہا ہے، یہ تو ممکن نہیں کہ ہمارے میزائلوں نے ان کے جسموں پر صرف مساج کیاہو انہیں جھلسایا نہ ہو، ان کی جان نہ نکالی ہو تو پھر بھارت کا جانی نقصان کیا ہے۔ کب سامنے آئے گا کون سامنے لائے گا۔ فتح کے معرکے میں دشمن کی لاشوں کی تعداد بہت اہم ہے۔ یہ تعداد سامنے آئے گی تو پاکستان میں شہید ہونے والوں کے اہل خانہ کے سینوں کو ٹھنڈک ملے گی۔ میں بھی جلتی چتائوں کو دیکھنے کا منتظر ہوں، سینوں میں آگ 1971ء سے بھڑک رہی ہے۔
جلتی چتائوں کی منتظر آنکھیں
09:08 AM, 12 May, 2025