اسلام آباد: نیشنل پیغامِ امن کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں تمام مکاتبِ فکر کے مقتدر علماء کرام نے ملک گیر سطح پر "وحدت و اتحاد" کے فروغ اور عالمی سطح پر مسلم ممالک کے درمیان ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔اجلاس میں پاکستان کو امتِ مسلمہ کا فخر اور واحد ایٹمی قوت قرار دیتے ہوئے پاک ،ایران تعلقات کی مضبوطی پر خصوصی توجہ دی گئی۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ مسلم ریاستوں کے درمیان مثالی ہم آہنگی ہی وقت کا تقاضا ہے تاکہ بیرونی سازشوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔
کمیٹی نے فلسطین میں جاری اسرائیلی مظالم اور مسجدِ اقصیٰ کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے درج ذیل نکات پیش کیے۔مسجدِ اقصیٰ اور تمام مقاماتِ مقدسہ کی حفاظت ہر مسلمان پر مذہبی فریضہ کے طور پر عائد ہوتی ہے۔اسرائیل کی جانب سے امتِ مسلمہ کو تقسیم کرنے کی "دشنام طراز" کوششوں کی بھرپور مذمت کی جاتی ہے۔علماء اور ریاست کو عالمی سطح پر فلسطین کا مقدمہ مزید موثر انداز میں لڑنے کی ضرورت ہے۔
علماء نے سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلائی جانے والی فرقہ وارانہ منافرت کو ملک کے لیے "فتنہ" قرار دیتے ہوئے وزارتِ داخلہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر تفرقہ پھیلانے والے عناصر کے خلاف فی الفور سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ تمام مکاتبِ فکر نے متحد ہو کر فرقہ وارانہ فساد کی ہر کوشش کو ناکام بنانے کا اعادہ کیا۔
فلسطینی بھائیوں سے یکجہتی کے لیے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر اجتماعات منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جنہیں "یومِ تحفظِ حرمین شریفین"، "یومِ القدس" اور "یومِ اقصیٰ" کے طور پر منایا جائے گا۔
فرقہ وارانہ فتنے کی بیخ کنی اور فلسطین سے مکمل یکجہتی کا عہد:نیشنل پیغامِ امن کمیٹی کا اعلامیہ
11:19 PM, 12 Mar, 2026