کراچی: وفاقی حکومت کی جانب سے گورنر سندھ کامران ٹیسوری کو تبدیل کرنے کے فیصلے نے اتحادی سیاست میں بھونچال پیدا کر دیا ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان نے اس اقدام پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے علیحدگی کی دھمکی دے دی ہے۔
پارٹی کے سینئر رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے وفاقی حکومت کے رویے پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایم کیو ایم وفاق میں حکومت کی اہم حلیف ہے، لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ اتنے اہم فیصلے کا علم ہمیں براہِ راست بتانے کے بجائے میڈیا کے ذریعے ہوا۔ انہوں نے پارٹی قیادت کو حکومت سے اتحاد ختم کرنے کی تجویز بھی پیش کر دی ہے۔
اعتماد کا فقدان: ایم کیو ایم کا مؤقف ہے کہ وفاقی حکومت نے انہیں اعتماد میں لیے بغیر یکطرفہ فیصلہ کیا، جو اتحادی سیاست کے اصولوں کے خلاف ہے۔ ڈاکٹر فاروق ستار کے مطابق، یہ ایک طویل عرصے سے قائم روایت رہی ہے کہ سندھ کا گورنر ایم کیو ایم پاکستان کا ہی نامزد کردہ ہوتا ہے۔
ذرائع کے مطابق، ایم کیو ایم پاکستان کی رابطہ کمیٹی کا اہم اجلاس جلد متوقع ہے جس میں وفاقی حکومت کے ساتھ مستقبل کے تعلقات اور احتجاجی لائحہ عمل کے بارے میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔اس صورتحال نے اسلام آباد اور کراچی کے سیاسی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، اور مبصرین کا خیال ہے کہ اگر ایم کیو ایم نے اتحاد ختم کیا تو وفاقی حکومت کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔
سندھ کی سیاست میں ہلچل: گورنر کی تبدیلی پر ایم کیو ایم کا وفاق سے اتحاد ختم کرنے پر غور
09:03 PM, 12 Mar, 2026