اسلام آباد : ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران پاکستان کی خارجہ پالیسی کے کلیدی نکات واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے اپنی فعال سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ انہوں نے مشرقِ وسطیٰ کی سنگین صورتحال پر گہری تشطیش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین پر عالمی قوانین کی پاسداری کے لیے زور دیا۔
ترجمان نے ایران پر ہونے والے حالیہ حملوں کی شدید مذمت کی اور تمام فریقین کو ضبط و تحمل برتنے کا مشورہ دیا۔ پاکستان نے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین سمیت دیگر خلیجی ممالک کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا۔ ان ممالک کی خود مختاری کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت ناقابلِ قبول ہے پاکستان برادر اسلامی ممالک کی سلامتی کے تحفظ کے لیے ان کے ساتھ کھڑا ہے۔
افغانستان کی جانب سے پاکستانی طیارہ گرانے کے دعوے کو ترجمان نے "لغو اور حقیقت کے برعکس" قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ترجمان نے مطالبہ کیا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دی جائے۔ جب تک افغان حکام کی جانب سے سکیورٹی خدشات پر قابلِ تصدیق یقین دہانیاں حاصل نہیں ہوتیں، موجودہ افغان پالیسی برقرار رکھی جائے گی۔
بریفنگ میں وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ سفارتی اقدامات کی تفصیلات بھی دی گئیں۔ دورہ سعودی عرب کو علاقائی امن اور باہمی مشاورت کے عمل کا اہم حصہ قرار دیا گیا۔
وزیراعظم نے ایرانی صدر سے تعزیتی گفتگو میں آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر دکھ کا اظہار کیا اور مجتبیٰ خامنہ ای کو نئی ذمہ داریوں پر مبارکباد پیش کی۔
علاقائی امن کے لیے پاکستان متحرک: وزیراعظم کے اہم سفارتی رابطے اور افغانستان کے حوالے سے ریاستی پالیسی واضح
05:27 PM, 12 Mar, 2026