عراق اور یو اے ای کے قریب آئل ٹینکرز پر حملے، سعودیہ کا 18 ڈرونز روکنے کا دعویٰ

09:36 AM, 12 Mar, 2026

تہران : مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے تیرہویں دن مختلف ممالک میں حملے اور ہلاکتیں رپورٹ ہوئیں۔ عراق کی سمندری حدود میں دو آئل ٹینکرز پر آگ لگی، متحدہ عرب امارات کے قریب ایک کنٹینر جہاز کو نقصان پہنچا، اور عمان کے سلالہ پورٹ پر تیل کے ذخائر میں آگ بھڑک اٹھی۔ کویت میں ڈرون حملے سے دو افراد زخمی ہوئے جبکہ اسرائیل اور لبنان میں شہری ہلاکتیں بڑھ کر 634 تک پہنچ گئیں، ہزاروں زخمی اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔

ایران میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 1300 سے زائد شہری ہلاک اور 12 ہزار زخمی ہوئے، جبکہ 10 ہزار سے زیادہ عمارات تباہ ہو چکی ہیں۔ اسرائیل، عراق، اردن، کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور عمان میں بھی متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔

سعودی وزارت دفاع نے بتایا کہ مشرقی علاقے میں 18 ڈرونز ناکارہ بنا دیے گئے، اور شیبہ آئل فیلڈ کی جانب جانے والا ایک ڈرون بھی تباہ کیا گیا۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ جنگ ختم کرنے کے لیے ایران کے حقوق تسلیم کیے جائیں، نقصانات کا معاوضہ دیا جائے اور مستقبل میں جارحیت کے خلاف بین الاقوامی ضمانتیں دی جائیں۔ انہوں نے روس اور پاکستان کے رہنماؤں سے بھی امن کے لیے رابطے کیے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکی فوج نے ایران کی بحری اور فضائی طاقت کو تقریباً ختم کر دیا ہے اور جنگ جیتنے کے قریب ہیں، لیکن ابھی مکمل طور پر نکلنے کا ارادہ نہیں۔ انہوں نے تیل کے بحران کے لیے عالمی ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل جاری کرنے کا اعلان بھی کیا۔

نیو یارک ٹائمز کے مطابق ایران کے حملوں سے مشرق وسطیٰ میں کم از کم 17 امریکی فوجی مقامات کو نقصان پہنچا، جن میں سعودی عرب، قطر، کویت، بحرین اور متحدہ عرب امارات کے اڈے شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں روس کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی قرارداد امریکی ویٹو کی وجہ سے منظور نہیں ہو سکی، جبکہ خلیجی ریاستوں کی جانب سے ایران کے حملوں کے خلاف الگ قرارداد منظور کر لی گئی۔

مزیدخبریں