دہشت گردی کے خلاف پاکستان کا عزم 

09:12 AM, 12 Mar, 2026

پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس نے اپنی تاریخ کے مختلف ادوار میں داخلی اور خارجی چیلنجز کا سامنا کیا ہے، مگر دہشت گردی کا عفریت ان مسائل میں سب سے سنگین ثابت ہوا۔ گزشتہ دو دہائیوں میں دہشت گردی نے نہ صرف انسانی جانوں کا بڑا نقصان کیا بلکہ معاشی ترقی، سماجی استحکام اور قومی یکجہتی کو بھی متاثر کیا۔ تاہم ان تمام مشکلات کے باوجود پاکستان نے ایک واضح اور دوٹوک مؤقف اختیار کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ محض ایک سکیورٹی آپریشن نہیں بلکہ ریاست کے وجود، سلامتی اور مستقبل کی جنگ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاستی ادارے، افواجِ پاکستان اور عوام مل کر اس ناسور کے خاتمے کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔
حالیہ دنوں میں آئی ایس پی آر کی جانب سے مختلف میڈیا اداروں کے صحافیوں کو دہشت گردی کے خلاف جاری آپریشن ’’غضب للحق ‘‘ کی کارروائیوں کے حوالے سے بریفنگ دی گئی اور بعض اہم مقامات کے دورے بھی کروائے گئے۔ اس اقدام کا مقصد نہ صرف حقائق کو عوام تک پہنچانا تھا بلکہ اس عزم کا اعادہ بھی تھا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اپنی جدوجہد میں کسی مصلحت کا شکار نہیں ہوگا۔ اس سلسلے میں جاری آپریشنز دراصل اسی قومی پالیسی کا تسلسل ہیں جن کا مقصد دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا اور ملک میں پائیدار امن قائم کرنا ہے۔پاکستان کی ریاست نے واضح کر دیا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اختیار کیے گئے اقدامات وقتی نہیں بلکہ ایک طویل المدتی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ دہشت گردی کا مقابلہ صرف بندوق کی طاقت سے ممکن نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے ایک جامع قومی حکمت عملی درکار ہوتی ہے جس میں عسکری، سفارتی، سیاسی اور سماجی اقدامات شامل ہوتے ہیں۔ اسی سوچ کے تحت پاکستان نے نہ صرف دہشت گرد گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں کیں بلکہ سرحدی نگرانی، انٹیلی جنس تعاون اور داخلی سکیورٹی نظام کو بھی مضبوط بنایا۔اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ خطے کی پیچیدہ جغرافیائی اور سیاسی صورتحال نے دہشت گردی کے مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ افغانستان میں جاری عدم استحکام اور بعض شدت پسند گروہوں کی موجودگی نے پاکستان کے لیے سکیورٹی کے نئے چیلنجز پیدا کیے ہیں۔ پاکستان بارہا یہ مؤقف اختیار کر چکا ہے کہ اس کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، لیکن اسی اصول کے تحت یہ توقع بھی رکھتا ہے کہ پڑوسی ممالک کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال نہ ہو۔
حالیہ کارروائیوں میں افغان طالبان کے زیرِ اثر علاقوں میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں اور ٹھکانوں کے حوالے سے تشویش کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ بعض شدت پسند عناصر سرحد پار محفوظ پناہ گاہیں حاصل کر کے پاکستان کے اندر کارروائیاں کرتے ہیں۔ اس تناظر میں پاکستان نے واضح پیغام دیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی بھی قسم کی دوہری پالیسی قابل قبول نہیں۔ اگر خطے میں امن قائم کرنا ہے تو تمام ممالک کو مشترکہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔دہشت گردی کے خلاف اس جدوجہد کا ایک اہم پہلو نظریاتی اور فکری سطح پر بھی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ یہ واضح کیا ہے کہ اسلام کا دہشت گردی یا خودکش حملوں سے کوئی تعلق نہیں۔ اسلام امن، رواداری اور اعتدال کا مذہب ہے جو انسانی جان کے احترام اور معاشرتی انصاف کا درس دیتا ہے۔ بدقسمتی سے بعض شدت پسند گروہ مذہب کی غلط تشریح کر کے نوجوانوں کو گمراہ کرتے ہیں اور تشدد کو جائز قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ریاست پاکستان اس بیانیے کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے اور اس بات پر زور دیتی ہے کہ اسلام کے نام پر دہشت گردی دراصل دین کی تعلیمات کی صریح نفی ہے۔
اسی لیے دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف عسکری میدان تک محدود نہیں بلکہ فکری محاذ پر بھی جاری ہے۔ ریاستی ادارے، مذہبی اسکالرز، تعلیمی ادارے اور میڈیا اس بات کی کوشش کر رہے ہیں کہ معاشرے میں امن، برداشت اور اعتدال کا پیغام عام کیا جائے۔ انتہاپسندی کے نظریات کا مقابلہ علم، شعور اور درست مذہبی فہم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف پالیسی کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یہ جنگ صرف فوج کی نہیں بلکہ پوری قوم کی جنگ ہے۔ افواجِ پاکستان نے اس جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں، ہزاروں جوانوں اور افسران نے اپنی جانیں قربان کر کے ملک کے امن کو یقینی بنایا۔ اسی طرح شہریوں، پولیس اہلکاروں اور دیگر سکیورٹی اداروں نے بھی دہشت گردی کے خلاف جدوجہد میں قابل قدر کردار ادا کیا ہے۔ یہ قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستانی قوم اپنے وطن کے دفاع اور امن کے قیام کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔
دوسری جانب عالمی برادری کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک فرنٹ لائن ریاست رہا ہے۔ اس جنگ میں پاکستان نے بھاری جانی و مالی نقصان برداشت کیا ہے، مگر اس کے باوجود اس نے اپنی ذمہ داریوں سے کبھی پہلو تہی نہیں کی۔ عالمی امن کے لیے پاکستان کی کوششیں قابل قدر ہیں اور دنیا کو چاہیے کہ اس جدوجہد میں پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنائے۔موجودہ حالات میں یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ بعض عناصر اب بھی خطے کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر پاکستان کا عزم پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔ ریاست نے واضح کر دیا ہے کہ دہشت گردی کے نیٹ ورکس، ان کے سہولت کاروں اور سرپرستوں کے خلاف کارروائی بلا امتیاز جاری رہے گی۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد دراصل ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال معاشرے کے قیام کی جدوجہد ہے۔ یہ جنگ صرف بندوقوں اور بارود کی نہیں بلکہ نظریات، اصولوں اور قومی عزم کی جنگ ہے۔ اگر ریاست، ادارے اور عوام اسی اتحاد اور عزم کے ساتھ آگے بڑھتے رہے تو وہ دن دور نہیں جب پاکستان دہشت گردی کے عفریت سے مکمل طور پر نجات حاصل کر کے امن و استحکام کی نئی منزلوں کی طرف گامزن ہوگا۔

مزیدخبریں