بھارت کی خارجہ پالیسی پر سونیا گاندھی کا تاریخی اعتراض

09:09 AM, 12 Mar, 2026

آج کی عالمی سیاست میں بعض فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو صرف سفارتی قدم نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کا رخ بدل دیتے ہیں۔ کبھی ایک بیان، کبھی ایک خاموشی اور کبھی ایک دورہ پوری خارجہ پالیسی کو بے نقاب کر دیتا ہے۔ حالیہ دنوں میں یہی منظر بھارت کی سیاست میں دیکھنے کو ملا جب کانگریس رہنما سونیا گاندھی نے اپنے مضمون میں مودی کی حکومت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی نے اپنی آزاد خارجہ پالیسی کو عملاً گروی رکھ دیا ہے۔
 ان کے مطابق بھارت نے دہائیوں سے قائم توازن کو توڑ کر خود کو کھل کر اسرائیل کے ساتھ جوڑ لیا ہے اور اپنے دیرینہ دوست ایران کو تنہا چھوڑ دیا ہے۔ یہ محض ایک سیاسی اختلاف نہیں بلکہ اس حقیقت کی نشاندہی ہے کہ جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی ریاست اب خطے میں ایک نئی صف بندی کا حصہ بن چکی ہے۔ لیکن کچھ اہم نقاط جو سونیا جی نے مس کر دئیے ان پہ بات کرنا یہاں بہت اہم ہے بھارت نے کبھی بھی پاکستان کو کمزور کرنے والی پالیسی کو نظر انداز نہیں کیا چاہے دولت اسلحہ دیکر ہی افغانستان کو ہمارے خلاف استعمال کرنا ہو یا پراکیسیز کروا کر نقصان پہنچانا ہو۔
بھارت اور ایران کے تعلقات کبھی سفارتی روایت اور باہمی اعتماد کی ایک مثال سمجھے جاتے تھے۔ سرد جنگ کے بعد بھی دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے ساتھ قریبی تعاون برقرار رکھا۔ 1994 میں جب کشمیر کے معاملے پر اسلامی تعاون تنظیم میں بھارت کے خلاف سخت قرارداد لانے کی کوشش ہوئی تو ایران نے اس دباؤ کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب نئی دہلی کو احساس ہوا کہ تہران صرف ایک علاقائی طاقت نہیں بلکہ ایک ایسا سفارتی ستون بھی ہے جو مشکل وقت میں بھارت کے ساتھ کھڑا رہ سکتا ہے۔ بعد ازاں 2003 اور 2016 کے درمیان دونوں ممالک نے چاہ بہار بندرگاہ کے منصوبے پر مل کر کام کیا، جسے افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی کے ایک اسٹریٹجک دروازے کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔
لیکن وقت کے ساتھ یہ تصویر بدلنے لگی۔ خاص طور پر 2014 میں نریندر مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد بھارت کی خارجہ پالیسی میں ایک نمایاں جھکاؤ نظر آنے لگا۔ 2017 میں مودی اسرائیل کا دورہ کرنے والے پہلے بھارتی وزیر اعظم بنے۔ اس دورے کو نئی دہلی میں تاریخی قرار دیا گیا، مگر سفارتی حلقوں میں یہ سوال اٹھنے لگا کہ کیا بھارت نے جان بوجھ کر اس توازن کو توڑ دیا ہے جو دہائیوں سے اس کی خارجہ پالیسی کی بنیاد تھا۔ حیرت کی بات یہ تھی کہ اسی عرصے میں مودی نے ایران کا کوئی متوازن یا علامتی دورہ نہیں کیا جو اس تبدیلی کو متوازن بنا سکتا۔ 
اس تبدیلی کے پیچھے صرف سفارتی ترجیحات نہیں بلکہ ایک وسیع تر جغرافیائی سیاسی اتحاد بھی دکھائی دیتا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں کے ساتھ ہم آہنگی اور ایشیا میں افغانستان کے گرد بدلتی ہوئی صف بندیاں اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ خطے میں طاقت کا ایک نیا نقشہ بن رہا ہے۔ افغانستان میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بھارت کی بڑھتی ہوئی موجودگی کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جاتا ہے، جہاں نئی دہلی نے تعمیراتی منصوبوں اور سفارتی سرگرمیوں کے ذریعے اپنا اثر بڑھایا۔ دوسری طرف مشرق وسطیٰ میں امریکہ اور اسرائیل کے اقدامات نے پہلے ہی عدم استحکام کو جنم دیا ہے۔ ایسے میں جب بھارت کھل کر اسرائیل کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے تو یہ پورے خطے کے توازن کو متاثر کرتا ہے۔
سونیا گاندھی نے اپنے مضمون میں اسی تضاد کو نمایاں کیا۔ ان کے مطابق بھارت کی خارجہ پالیسی کبھی توازن، احتیاط اور خودمختاری کی مثال سمجھی جاتی تھی، مگر آج وہی پالیسی مبہم بیانات اور خاموش ردعمل تک محدود ہو گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ایران کے خلاف بڑے واقعات پیش آئے تو نئی دہلی کا ردعمل حیران کن حد تک کمزور تھا۔ ایک ایسی ریاست جو کبھی غیر جانبدار سفارت کاری کی مثال تھی، اب عالمی فورمز پر ایک فریق کے قریب دکھائی دیتی ہے۔ اس صورت حال نے بھارت کی ساکھ پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ دنیا میں بڑی طاقتیں اکثر توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرتی ہیں تاکہ ان کے سفارتی دروازے سب کے لیے کھلے رہیں۔ مگر جب کوئی ملک واضح طور پر ایک طرف جھک جائے تو اس کی غیر جانبداری ختم ہو جاتی ہے۔ 
یہاں ایک اور حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی۔ گزشتہ دہائیوں میں ایران اور بھارت کے درمیان توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی کے معاملات میں گہرا تعاون رہا ہے۔ چاہ بہار بندرگاہ کا منصوبہ صرف اقتصادی نہیں بلکہ اسٹریٹجک اہمیت رکھتا تھا کیونکہ اس کے ذریعے بھارت پاکستان کو بائی پاس کر کے افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی حاصل کرنا چاہتا تھا۔ مگر اسرائیل کے ساتھ بڑھتی ہوئی قربت نے اس تعاون کو بھی متاثر کیا اور ایران کے ساتھ اعتماد کی فضا کمزور پڑنے لگی۔ آخرکار تاریخ یہی فیصلہ کرے گی کہ یہ تبدیلی حکمت عملی تھی یا جلد بازی۔ مگر ایک بات واضح ہے کہ جب کوئی ریاست اپنے دیرینہ اتحادیوں کو نظر انداز کر کے نئی صف بندیوں کا حصہ بنتی ہے تو اس کے اثرات صرف سفارت کاری تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے خطے کے توازن کو متاثر کرتے ہیں۔ نئی دہلی کا اپنے ہمسایوں کے ساتھ رویہ ہمیشہ سے منفی ہی رہا ہے ، پاکستان اس کی بہترین مثال ہے۔ یہی وہ سوال ہے جو آج نئی دہلی کے سامنے کھڑا ہے، کیا اس نے واقعی اپنی آزاد خارجہ پالیسی کو قربان کر دیا ہے یا یہ محض وقتی سیاسی حکمت عملی ہے جس کا خمیازہ آنے والے برسوں میں سامنے آئے گا۔

مزیدخبریں