وزیر اعظم کی قابل تحسین تقریر، مگر…

09:09 AM, 12 Mar, 2026

یہودیوں کی جانب سے مسلمانوں کے مقدس ماہ رمضان میںمسلمان ممالک پر جو جنگ کی آفت ڈھائی گئی ہے اسکا اثر صرف مسلمان ممالک پر نہیں بلکہ پوری دنیا کی معیشت کو ہونے جارہا ہے جنگ کے خاتمے کے بعد دنیا کی معیشت پر اثرات آنے والے برسوں میں بھی جاری رہیں گے۔ وزیراعظم میاں شہباز شریف نے قوم سے خطاب کے دوران دنیا کے موجودہ حالات ، کساد بازاری، پیٹرول کی قیمتیں جو بڑھ گئی ہیں اور نہ جانے کب تک مزید بڑھیں گی کے مقابلے کیلئے حکومتی سطح پر بچت کے اعلانات کئے ہیں وزیراعظم نے بچت اور ملکی معیشت کے سہارے کیلئے کئے جانے والے اقدامات کا ذکر کیا۔ وزیراعظم یہ وضاحت نہ کر سکے کہ جو پیٹرول ملک میں یا پیٹرول پمپس کے پاس موجود تھا وہ مہنگے دام عوام کو کیوں فروخت کیا گیا اس سے عوام میں بے چینی پھیلی۔ اس طرح پیٹرول پمپ کے مالکان اور حکومت کو چند دنوںمیں اربوں روپے حاصل ہوئے، وزیراعظم کی نیت پر کوئی شک نہیں وہ ایک بہتریں منتظم ہیں مگر ان کے آس پاس والوں نے اسطرف توجہ کیوںنہ دلائی، نہ ہی عوام کے اس سوال کا تاحال کوئی جواب ہے کہ کفایت شعاری کے اس ماحول میں یہ پیسہ کس کے پاس گیا۔ بدقسمتی سے فی الحال پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے 21 فیصد نرخ برھائے ہیں۔ یہ حکومت کی کوتاہی ہے اس اقدام سے وزیر اعظم کے دیگر اعلانات کو شک کی نگاہ سے نہ دیکھا جائے تو غلط نہ ہوگا ملک میں بیٹھی حزب اختلاف جو مجبوری میں امریکی و اسرائیلی حملوںکی تائید نہیں کر پا رہی وہ اس طرح کے مسائل اور کوتاہیوںکی جتنی بھی تشہیر کرے وہ کم ہے چونکہ پیٹرول کی اس ناجائز بڑھائی گئی قیمتوںسے براہ راست غریب عوام متاثر ہورہے ہیں، پیٹرول کی قیمتوںمیں اضافہ سے ملک میںموجود ہر ایک چیز کی بھی قیمت میں اضافہ ہونا ناگزیر ہو۔ نیز اب یہ بات سب کے علم میں ہے کہ پیٹرول کی قیمت پاکستان میںناجائز بڑھائی گئی ہے ہم سے پانچ گنا آبادی والے ملک بھارت نے ایک پیسہ بھی فی الحال نہیں بڑھایا ،سعودی عرب جہاںسے پاکستان تیل لیتا ہے وہاںبھی قیمتوںمیں کوئی فرخ نہیں آیا ، بنگلہ دیش نے 
بھی کچھ قیمت بڑھائی ہے مگر پاکستان جیسی نہیں اب تو عالمی منڈی میںبھی تیل کی قیمت کم ہوگئی ہے ملک میں آنے والے پیٹرول کی قیمت کے بارے میں شائد حکومت نے عوام سے چھپایا ہے کہ IMFکی خواہش کے مطابق پیٹرول کی قیمت ابھی سے بڑھا دی ہے، ملک کی شاہ خرچیوںکو روکنے کے وزیر اعظم کے خوش کن اعلانات اچھے ہیں مگر کیا ایسا نہیں ہو سکتا اسطرح کی شاہ خرچیاں صرف ہنگامی صورتحال میںنہیں عام حالات میں بھی نہ ہوںتو ملک کی معیشت ایک تاب ناک معیشت کہلائے گی، وزیر اعظم اور عسکری قیادت کی کوششوںسے اسوقت پاکستان اپنے قرضوںکی واپسی کی طرف جار ہا تھا اور ایک قسط بھی دی ہے، ضروری ہے کہ انتظامی شعبے سختی سے ایسے لوگوں کے خلاف کارروائی کریں جو ایل پی جی کی ذخیرہ اندوزی کر رہے ہیں تاکہ عوام کو گیس کی مہنگائی سے نجات ملے، یہ بات دنیا جانتی ہے کہ ہمارے ملک کے حکومتی سسٹم مین شاہ خرچیاں تو بے شمار ہیں جس نے ملک کی معیشت کا بیڑ ہ غرق کیا ہوا ہے، مگرخلیجی جنگ نے بھی معاشی مسئلے کو نیا رخ دیدیا ہے حکومتی اخراجات میں نہ صرف ہنگامی حالت میں کنٹرول و کٹوتی کی ضرورت ہے بلکہ یہ عام حالات میںبھی ہو تو ملک کولاکھوں، کروڑوں کا نہیں بلکہ اربوںکی بچت ہوگی اور عوام کا معیار زندگی بہتر ہوسکے گا اسوقت صوبہ پنجاب میں 50فیصد صنعتیں بند ہیں پنجاب کی صنعتوں کیلئے 19000 میگا واٹ کی بجلی منظور ہے لیکن اسوقت اس میں سے صرف 2800 میگاواٹ استعمال ہو رہی ہے پنجاب میں صنعت کیلئے بجلی کا یونٹ 32روپے فی میگاواٹ ہے، پنجاب میں سندھ کے مقابلے میں صنعتوں کیلئے بجلی دوگنا مہنگی ہے۔ بزنس مین اور صاحب ثروت لوگ سہولیات کے فقدان کا رونا روتے ہیں اور اپنا پیسہ کاروبار میں لگانے سے بہتر بنکوںمیں رکھتے ہیں ’’سود ‘‘جسے ہمارے مذہب میں حرام قراردیا گیا ہے خود بھی کھا رہے ہیں اور اپنی اولادوں کو کھلا رہے ہیں سود کھانے والے معاشرے کی بہتر ی میں کیا کردار ادا کرسکتے ہیں ؟؟ اسے تحریر کرنے کو ضرورت نہیں ۔بنکوں سے حکومت ادھار لیتی ہے اور سود ادا کرتی ہے وہی سود بنک اپنے کھاتہ داروںکو اد ا کرتی ہے جسکی وجہ سے ملکی زرعی اور معاشی نمو ہو ہی نہیں پا رہی۔ کسی ملک کی بیٹری معیشت ہوتی ہے معیشت نہ چلے تو بیٹری ڈائون ہونا لازم اور ناگزیر ہو جاتا ہے۔وزیر اعظم کی قوم کی حالیہ قوم کے نام تقریر میں وی آئی پی کلچر کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی ہے اسکی پوری قوم تعریف کررہی ہے ماسوائے پیٹرول کی قیمتوں کے ، وفاقی وزراء ، مراعات یافتہ طبقے ، نوکر شاہی نے شاہ خرچیوںپر بقول شخص کے ’’ انی مچارکھی ہے ‘‘ ذرا ملاحظہ کریں پاکستان کی وفاقی کابینہ میں تقریباً 40سے 50وزراء اور وزراء مملکت ہیں وفاقی وزراء اور وی آئی پیز کے پیٹرول اخراجات، ہر وزیر کی 2 سے 3 گاڑیوں کو مفت پیٹرول فراہم کیا جاتا ہے پیٹرول کی مد میں ہر وزیر کو چار لاکھ روپے ماہانہ ملتا ہے، بقیہ گھر، بجلی ، ٹرانسپورٹ ، پیٹرول ، سفری سہولیات حکومت سے لیکر عوام پر احسان کرتے ہیں ،وزراء کی سکیورٹی گاڑیوںکے اخراجات شامل کئے جائیں تو فی وزیر ایک سے دو کروڑ کا خرچہ ہوتا ہے اگر اس میں صدر، وزیر اعظم ہاؤس، گورنرز، اعلیٰ بیوروکریسی اور دیگر وی آئی پی پروٹوکول گاڑیاں شامل کی جائیں تواندازاً 10 سے 15 کروڑ روپے ماہانہ یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔ اخراجات کی یہ آفت سرکاری خزانے سے ادا ہوتی ہے جہاں ٹیکس دہندگان کا پیسہ ہوتا ہے ، ہمارے ملک میں صاحب ثروت تو الحمداللہ بہت ہیں مگر ٹیکس نا دہندہ بہت ہیں یہ بھی ہماری معیشت کے المیے کا حصہ ہے ۔ کئی بار آڈیٹر جنرل نے اخراجات کم کرنے کی سفارش بھی کی ہے مگر ایسی باتیں کون سنتا ہے ؟؟؟عام حالات میں وزیر کو 400 لیٹر ماہانہ ملتا ہے جو ماہانہ دو لاکھ بنتا ہے فی وزیر، پچاس سے زائد وزراء ہیں حساب لگا لیں تباہی کا۔۔ عوام خواہش کرتے ہیں وزیراعظم ان اعلانات پر عمل درآمد حالیہ جنگی صورتحال کے بعد بھی کریں اللہ انکی مشینری کو اس پر عمل درآمد کرنے کی توفیق دے آمین۔ وزارت خارجہ ، وزارت خزانہ وزیر اعظم کا ساتھ دیں اور غیر ممالک میں موجود پاکستانی سفارتخانوں، قونصل خانوں پر پھی نظر ڈالیں اور وہاں بیٹھے عقل کل لوگوں کے اخراجات پر بھی لگام دیں وہ پیسہ بھی عوام کی جیبوں سے جاتا ہے وہاں دیکھیں کہ کون سے شعبے ضروری ہیں اور کون پاکستان کے خزانے پر بوجھ۔

مزیدخبریں