پاکستان کے اندر حکمران ہر دور میں بڑے ڈرامائی رہے ہیں۔ میاں نواز شریف پہلی بار وزیراعظم بنے جوش جوانی ان کی سیاست پر غالب تھا۔ وہ معاملات کو جذباتی انداز میں حل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ ایک دفعہ وہ سرکاری دورے پر فیصل آبادتشریف لے گئے۔ اس وقت فیصل آباد میں چوہدری شیر علی کے نام کا ڈنکا بجتا تھا جو موجودہ سیاسی شخصیت عابد شیر علی کے والد ہیں۔ چوہدری شیر علی میئر فیصل آباد تھے بعد ازاں ایم این اے بھی منتخب ہوتے رہے۔ وزیراعظم فیصل آباد میں کھلی کچہری یا جلسہ عام کر رہے تھے جس کے روح رواں چوہدری شیر علی تھے۔ چوہدری صاحب کو ایف ڈی اے کے کچھ افسران سے مسئلہ تھا اور انہوں نے چیلنج کر رکھا تھا کہ وہ ان کو ہتھکڑیاں لگوائیں گے۔ جلسہ میں ان افسران کے خلاف شکایات اور بدعنوانیوں کے انبار لگ گئے۔ وزیراعظم صاحب نے حکم جاری کیا کہ مذکورہ تینوں افسروں کو جلسہ میں ان کے سامنے پیش کیا جائے۔ سرکاری مشینری فوری حرکت میں آئی اور تین میں سے دو افسروں کو پیش کر دیا گیا ۔ وزیراعظم نے ان کی گرفتاری کا حکم دیا اور وہیں انہیں ہتھکڑیاں لگا دی گئیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تیسرا ملزم اس دن کسی سرکاری کام کے لیے لاہور گیا ہوا تھا۔ وزیراعظم نے حکم دیا کہ ان کا ہیلی کاپٹر لاہور بھیجا جائے اور اس بندے کو بذریعہ ہیلی کاپٹر گرفتار کر کے فیصل آباد لایا گیا اور وزیراعظم کے ایک روزہ دورے میں اسے پیش کر کے ہتھکڑی لگائی گئی۔ یہ واقعہ اپنی نوعیت کا غیر معمولی واقعہ تھا کہ ایک ملزم کی گرفتاری کے لیے وزیراعظم کا ہیلی کاپٹر استعمال کیا گیا۔ اس پر سیاسی حلقوں میں بہت زیادہ اعتراضات ہوئے بعد ازاں میاں صاحب نے اس طرح کے طرز عمل سے گریز کیا۔ ملزمان عدالتوں سے ضمانت پر رہا ہو گئے ۔عدالت نے گرفتاری کے طریق کار سے اتفاق نہیں کیا۔
اس ہفتے وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز نے جب میو ہسپتال لاہور کے دورے کے موقع پر ایم ایس ڈاکٹر فیصل مسعود کو سر عام سرزنش کا نشانہ بنایا اور انہیں نوکری سے ہٹانے کا زبانی حکم دیتے ہوئے ساتھ یہ بھی کہا کہ شکر کریں آپ کو گرفتار نہیں کرا رہے تو ہمیں نہ جانے کیوں میاں نواز شریف کی سیاست کے ابتدائی دور کا وہ واقعہ یاد آگیا۔ ایم ایس کی معطلی کے انداز پر صحت کے حلقوں خصوصاً ڈاکٹر کمیونٹی میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کہ وہ 20 ویں گریڈ کے ایک ڈاکٹر کو جو اپنے شعبے کے استاد ہیں اور جنہوں نے ہزاروں کی تعداد میں آرتھو پیڈک کے طالب علموں کو سکھایا ہے انہیں ہسپتال کی راہداری میں اس انداز سے عہدے سے ہٹایا جائے۔
اس معاملے پر صحت کے شعبے اور میڈیا میں ایک ہیجان کی کیفیت ہے۔ سوشل میڈیا بھرا پڑا ہے حکومت کی طرف سے صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری کی پریس کانفرنس بھی ہو چکی ہے ٹی وی ٹاک شوز ہو رہے ہیں اور سلسلہ تھمنے میں نہیں آ رہا لیکن اچھی بات یہ ہے کہ اب میو ہسپتال کے مریضوں کو سرکاری ادویات کی فراہمی پھر سے شروع ہو گئی ہے۔ اس ساری بحث میں عوام کو پتہ یہ چلا کہ سرکاری ہسپتال میں مفت دواو¿ں کی عدم دستیابی کی وجہ کیا تھی۔ جو فارما کمپنیاں میو ہسپتال کو دوائیاں سپلائی کرتی تھیں گزشتہ دو سال سے زیادہ عرصے سے ان کے تقریباً ساڑھے تین ارب روپے کے واجب الادا بل تھے جو حکومت نے نہیں دیئے تھے جس پر کمپنیوں نے مزید دوائی سپلائی کرنا بند کر دیا تھا۔ اس طرح کی صورت حال صرف میو ہسپتال ہی نہیں لاہور کے دیگر ہسپتالوں کے بقایا جات بھی اربوں میں ہیں۔ یہ ایم ایس لیول سے اوپر کی بات تھی۔ جس میں سیکرٹری ہیلتھ اور وزیر صحت کی ذمہ داریاں ایم ایس سے کہیں زیادہ تھیں۔ اب اگر میو ہسپتال میں دوائیاں پھر سے ملنا شروع ہو گئی ہیں تو اس کی وجہ ایم ایس کی معطلی نہیں بلکہ وزیراعلیٰ کے فوری طور پر 340 ملین روپے کے فنڈز کی فراہمی ہے جو انہوں نے اس واقعہ کے بعد جاری کیے ہیں۔
جب مریم نواز ایم ایس سے سوال کر رہی تھیں کہ آپ کو یہاں کس نے رکھا ہوا ہے تو ان کے دائیں بائیں کھڑے ہوئے سیکرٹری ہیلتھ عظمت محمود اور وزیر صحت سلمان رفیق دونوں خاموش تھے جو ان کو وہاں رکھنے کے ذمہ دار بھی تھے اور دواو¿ں کی عدم فراہمی کے بھی اصل ذمہ دار تھے وزیراعلیٰ کی سادہ دلی کہہ لیں یا ناتجربہ کاری کہیں کہ انہیں پتہ نہیں تھا کہ ایم ایس کو تعینات کون کرتا ہے۔ اگر پنجاب حکومت کی طرف سے اربوں روپے کے واجبات ادا نہ کرنے پر دوائیاں بند ہوئی تھیں تو اس کا وزیر صحت کا بخوبی علم تھا انہوں نے وزیراعلیٰ کو کیوں نہیں بتایا کہ فنڈز جاری کریں۔ اتنی بڑی بے ضابطگی پر اصل معطلی تو وزیر صحت کی ہونی چاہیے۔ لیکن یہ ریکارڈ کی بات ہے کہ ن لیگ کی جب بھی حکومت ہوتی ہے پنجاب میں صحت کا شعبہ سلمان رفیق صاحب کی جھولی میں ڈال دیا جاتا ہے۔ پارٹی یہ سمجھتی ہے کہ صحت کے شعبہ کے لیے ہمارے پاس اس سے بہتر وزیر موجود ہی نہیں ہے۔
اگر یہ کہا جائے کہ ہسپتال کا ایک سابق ملازم کس طرح آٹھ فارما کمپنیاں بنا کر میو ہسپتال کو دوائیاں سپلائی کر رہا ہے تو بات کسی اور طرف نکل جائے گی لیکن وزیراعلیٰ کے دورے کا ایک فائدہ ضرور ہوا ہے ایک تو عوام کو دوائیاں ملنا شروع ہو گئیں۔ دوسرا وزیراعلیٰ آفس کو بھی پتہ چل گیا کہ دوائیوں کی رکاوٹ کی وجہ تھی کہ وزیراعلیٰ آفس سے محکمہ صحت کو فنڈ جاری نہیں ہو رہے تھے جو اب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ بچہ بغل میں ڈھنڈورا شہر میں۔ ہسپتال میں دوائیوں کی ترسیل کے علاوہ بھی بہت سے مسائل حل طلب ہیں۔ وزیراعلیٰ کو کسی نے نہیں بتایا کہ ہسپتال نے سکیورٹی اور صفائی کے شعبے آو¿ٹ سورس کر رکھے ہیں اور ان دونوں شعبوں کے عملے کو گزشتہ 5ماہ سے تنخواہیں نہیں ملیں اس سلسلے میں سکیورٹی اور صفائی عملہ گھڑی وارڈ کے سامنے احتجاج بھی کر چکا ہے۔ اسی طرح گزشتہ دنوں لفٹ گرنے سے 8 سے زیادہ نر سیں اور ڈاکٹر زخمی ہوئے کیوں کہ لفٹ اور اے سی سروس کے شعبوں کو کنٹریکٹ ختم ہو چکا ہے۔ آگے گرمیاں آرہی ہیں پھر مریضوں کو کہا جائے گا کہ وہ وارڈز میں اپنے گھروں سے پنکھے لے کر آئیں معاملات جتنے خراب نظر آ رہے ہیں حقیقتاً صورتحال اس سے زیادہ مخدوش ہے۔
کہا جا رہا ہے کہ ایک ڈاکٹر کو ایم ایس نہیں بنانا چاہیے ہڈیاں جوڑنے والے کو کیا پتہ ایڈمنسٹریشن کیا ہوتی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ بی اے یا ایم کرنے والے سی ایس ایس افسر کو کیا پتہ کہ سیکرٹری کی سیٹ پر بیٹھ کر ہسپتال کیسے چلانے ہیں۔ یہ نظام کی اندرونی خرابیاں ہیں جس کی اصلاح احوال کے لیے بہت اوپر کی سطح سے فیصلے درکار ہیں۔
میو ہسپتال لاہور: ایک مطالعاتی دورہ
07:35 PM, 12 Mar, 2025