پاکستان میں روزمرہ کی ضروریات کے علاوہ زیادہ تر شاپنگ تہواروں کے موقع پر ہی کی جاتی ہے۔ خاص طور پر عید کے موقع پر ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق بچوں، بڑوں اور خواتین کے لئے کپڑے،جوتے اور جیولری سمیت بہت سی اشیاءخریدتاہے۔ اس سارے عمل کا کاروباری طبقے کے ساتھ حکومت کو بھی فائدہ ہوتا ہے۔عید پر ٹی وی اور اخبارات کی خبروں سے پتہ چلتا ہے کہ اس مرتبہ کتنے سو ارب کا بزنس ہوا ہے؟ اس موقع پر ٹیکس کمپلائنٹ ڈومیسٹک بزنسز سے پیدا ہونے والا ٹیکس ایف بی آر کا ٹارگٹ پورا کرنے میں بہت مددگار ہوتا ہے۔عید الفطر کے موقع پر خریداری کا عمل ہردکاندار کے لئے بھی بہت اہم ہے کیونکہ یہ پورے سال کی سیل کے نصف کے برابر جا پہنچتا ہے۔ زیادہ بزنس زیادہ ٹیکس لیکن پاکستان اس وقت آئی ایم ایف کے دبا¶ میں ایسے فیصلے کر رہا ہے کہ جو حکومتی ''ایز آف ڈوئنگ بزنس'' اور کاروباری استحکام کے دعو¶ں کی نفی کرتا ہے۔ ٹیکس کمپلائنٹ بزنسز خاص طور پر آرگنائزڈ ریٹیل سیکٹر کو ایف بی آر کی جانب سے عملی طور پرسخت انتظامی اور تکنیکی مشکلات کا سامنا ہے۔آئے دن جاری ہونے والی نئے ایس آر اوز نے پوائنٹ آف سیل سے منسلک بزنسز کی نہ صرف مشکلات بڑھا دی ہیں بلکہ خوف کا ماحول بنا دیا ہے۔ ایف بی آر کے ایس آر اوز دیکھ کر کالونیل دور کی یاد تازہو جاتی ہے۔ ایک نئے ایس آر او 69 کے تحت ایف بی آر کو یہ اختیار حاصل ہو گیاہے کہ چوبیس گھنٹے میں اگر پی او ایس سے نکالی گئی رسید کی تصدیق نہ ہو سکی تو متعلقہ دکان کو سیل کر دیا جائے گا۔ مکمل آڈٹ اور اضافی جرمانوں کے بعد دکان کھولنے کی اجازت ہو گی۔ اس دوران ایف بی آر کی جانب سے جو ہراسگی اور اضافی جرمانوں کی شکایات ہیں وہ ایک الگ تکلیف دہ عمل ہے۔ ایف بی آر کے اس نئے ایس آر او کے بعد کئی برانڈز کی اسلام آباد،کراچی اور لاہور میں دکانیں سیل کر دی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں آرگنائز ریٹیل کی نمائندہ تنظیم چین اسٹور ایسوسی ایشن کے چیئرمین اسفند یار فرخ کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں جہاں انٹرنیٹ اور تکنیکی مسائل کی شکایات عام ہیں۔ ایف بی آر کے پی او ایس سسٹم میں پہلی بار ''پروفائل ایکسپائری'' کا مسئلہ سامنے آیا ہے۔ جس کی وجہ سے ریٹیل آ¶ٹ لیٹ ،سسٹم سے خود بخود خارج ہو جاتی ہے۔ اس کا حل صرف ایف بی آر کی تکنیکی ٹیم کے ذریعے ممکن ہوتا ہے، لیکن اس دوران جاری شدہ رسیدیں غیر مصدقہ رہتی ہیں، جس سے کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہوتی ہیں۔کئی ریٹیلرز نے شکایت کی ہے کہ ان کے پی او ایس سسٹم مکمل طور پر فعال ہونے کے باوجود ایف بی آر پورٹل پر اسے ''ڈسکنیکٹڈ'' ظاہر کیا جاتا ہے۔ اس مسئلے کے حل کے لیے ایف بی آر کو ایک خودکار نوٹیفکیشن سسٹم متعارف کرانا چاہیے۔ ایف بی آر کے ای-پورٹل سے پی او ایس ڈیٹا ڈا¶ن لوڈ کرنے کے لیے ہر آئی ڈی کے لیے علیحدہ علیحدہ انٹری کرنا پڑتی ہے، جو کہ انتہائی مشکل اور دقت طلب عمل ہے۔ ایک ''بلک ڈا¶ن لوڈ'' آپشن متعارف کرانا ضروری ہے۔ ایف بی آر کی سرکاری ویب سائٹ پر آئی ایم ایس فزیکل یوٹیلیٹی کا کوئی مستند ڈا¶ن لوڈ لنک بھی دستیاب نہیں ہے، جس کی وجہ سے کمرشل صارفین کو دشواری ہوتی ہے۔ ایک باضابطہ ڈا¶ن لوڈ پیج فوری طور پر متعارف کرایا جانا چاہیے۔ ایف بی آر کے سسٹم کی ناکامی کے باعث کئی مرتبہ ریٹیلرز کے کاروباری مراکز بلاجواز سیل کر دیئے جاتے ہیں۔ جب کہ حقیقت میں ان کی انوائسز ایف بی آر کے سسٹم میں کسی تکنیکی خرابی کے باعث غیر مصدقہ ہوتی ہیں۔ ایف بی آر کے فیلڈ افسران اکثر ریٹیلرز کو اضافی ٹیکس ادا کرنے کے نوٹس جاری کرتے ہیں، حالانکہ تمام ٹیکسز قانونی طور پر پہلے ہی جمع کرائے جا چکے ہوتے ہیں۔ ایسی ناانصافیوں کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا میں وہی ممالک ترقی کر سکے ہیں جہاں کاروبار کے لیے سازگار پالیسیاں بنائی گئیں۔ متحدہ عرب امارات نے ایک ون ونڈو آپریشن سسٹم متعارف کرایا ہے جہاں کاروباری افراد کو ایک ہی جگہ پر تمام سہولیات مل جاتی ہیں۔ وہاں ایف بی آر جیسے ادارے کاروبار کی سہولت فراہم کرتے ہیں نہ کہ اسے مشکلات میں ڈالنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ ترکی میں کاروباری لائسنس کے اجرا اور ٹیکس کمپلائنس کے عمل کو انتہائی آسان بنا دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے وہاں مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے۔ چین نے اپنے کاروباری نظام میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دیا ہے، جہاں تمام ٹیکس دستاویزات خودکار سسٹم کے ذریعے پراسیس ہو جاتی ہیں، جبکہ پاکستان میں ہر کام کے لیے مینوئل مداخلت ضروری ہے۔ سنگاپور میں کاروباری رجسٹریشن، بینکنگ اور ٹیکس ادائیگی ایک ہی پورٹل سے کی جا سکتی ہے، جو کاروباری افراد کا وقت بچاتی ہے۔ ویتنام نے ٹیکس کی شرح کم رکھی ہے تاکہ کاروباری طبقہ آسانی سے کام کر سکے اور مزید سرمایہ کاری لا سکے۔ لیکن ہم سیکھنے کی بجائے صرف سبق سکھانے پر تلے ہوئے ہیں۔ ایف بی آر کو یکطرفہ ڈریکونین قوانین بنانے کی بجائے کاروباری برادری کے ساتھ مشاورت کرنی چاہئے۔ ایف بی آر کے تکنیکی سسٹم کو فوری طور پر اپ گریڈ کیا جائے تاکہ آرگنائزڈ ریٹیل سیکٹر کو غیر ضروری مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ پاکستان میں دبئی، ترکی، چین اور سنگاپور کی طرز پر ون ونڈو بزنس ماڈل متعارف کرایا جائے تاکہ کاروباری رجسٹریشن، ٹیکس ادائیگی اور قانونی ضروریات ایک ہی پلیٹ فارم سے پوری کی جا سکیں۔ ٹیکس قوانین کا ازسرنو جائزہ لیا جائے تاکہ کاروباری طبقے پر غیر ضروری دبا¶ کم ہو اور مزید کاروباربھی ایف بی آر کے پی او ایس سسٹم میں شامل ہوں۔ اس ضمن میں جب تک ایف بی آر کے سسٹم میں ٹیکنیکل خرابیاں ختم نہیں ہو جاتیں ایس آر و 69 کو فوری طور پر غیر م¶ثر کر دیا جانا چاہئے۔ حکومت کو سمجھنا ہو گا کہ اگر وہ واقعی ''ایز آف ڈوئنگ بزنس'' پر یقین رکھتی ہے تو اسے عملی اقدامات بھی کرنا ہوں گے۔ آج اگر پاکستان میں کاروبار کرنا مشکل ترین کام بن چکا ہے تو اس کی بڑی وجہ غیر مستحکم اور پیچیدہ پالیسیوں کے ساتھ ساتھ ناقص ایف بی آر سسٹم ہے۔ اگر دبئی، ترکی، چین اور ویتنام جیسے ممالک کامیاب ہو سکتے ہیں تو پاکستان بھی ہو سکتا ہے، مگر اس کے لیے سنجیدہ اور فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔
بدامنی کی نئی لہر اور طالبان قیادت
وقت کے ساتھ طالبان پر شبہات میں کمی نہیں آئی بلکہ اضافہ ہوا ہے لیکن ایسے کوئی اِشارے نہیں ملتے کہ دنیا کی تشویش کا طالبان کوبھی احساس ہے
پاکستان میں 'ایز آف ڈوئنگ بزنس' محض ایک نعرہ؟
07:33 PM, 12 Mar, 2025