آج یہ لکھنا عجیب محسوس نہیں ہو گا کہ جدید ریاستوں کی تخلیق سے پہلے بھی سینٹرل ایشین اور ہندوستانیوں کے تعلقات کبھی خوشگوار نہیں رہے۔ البتہ خیبر سے وارد ہونے والے حملہ آوروں کی تاریخ ہمیں یہ ضرور بتاتی ہے کہ سوائے محمد بن قاسم کے اس خطے پر حملہ کرنے والے تمام حملہ آور سکندر اعظم سے لے کر نادر اور ابدالی تک اسی روٹ سے آئے تھے۔ پاکستان اور ہندوستان کے لوگ مغلو ں کو صرف اس لیے رعایتی نمبر دیتے ہیں کہ وہ یہاں سے کچھ لوٹ کر سمرقند، بخارا یا فرغانہ نہیں لے کر گئے بلکہ یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ ہماری تہذیبی نرگسیت یا مسلم امہ کا خود ساختہ تصور ہم سے کوئی بھی بیان دلوا دے یا پھر ہم اپنی کسی بھی غلط بات پر اڑ جائیں یہ الگ بات ہے لیکن یہ تاریخی سچ ہے کہ ترائن کی پہلی اور دوسری جنگ جو شہاب الدین غوری اور پھرتھوی راج چوہان کے درمیان ہوئی، آج پاک بھارت کے میزائلوں کے نام انہیں دو جنگجوو¿ں کے نام پر ہیں یعنی کہ میں یہ لکھ سکتا ہوں کہ صدیوں کے سفر کے بعد بھی مسلمان اور ہندو ترائن کے میدان میں ہی کھڑ ے ہیں جہاں سے خیمے اٹھائے بغیر دونوں ممالک کی سلامتی اور ترقی پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔ بہر حال ترائن کی دوسری جنگ کے بعد تخت دہلی پر جتنے حملے ہوئے وہ ایک مسلمان حملہ آور نے دوسرے مسلمان پر کیے اور تخت و تاج حاصل کیا لیکن اُن کا روٹ اپنا ”افغان باقی، کہسار باقی“ کا فلک شگاف نعرہ ہی رہا۔ آج پاکستان اور بھارت دو آزاد اور خود مختار ملک ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ افغانوں کی عظمت کے جو گیت ہم گاتے رہے ہیں وہ اب بھارت میں تیار ہو رہے ہیں۔ کبھی میٹرک میں پاکستان کے ابتدائی مسائل میں مہاجرین کا مسئلہ تھا پھر ہم نے کراچی اور حیدر آباد میں مہاجروں کو حقیقی مسئلہ بنتے دیکھا اور صرف کراچی کے مہاجر ہی کیوں افغان مہاجرین بھی اُسی عہد کی یادگار ہیں۔ پاکستان کی قومی سلامتی کے اداروں نے کراچی کو ایک مہاجر تنظیم کی دہشت گردی سے تو آزاد کرا لیا لیکن سوال تو یہ پیدا ہوتا ہے کہ جو افغان پاکستان میں رہتے ہوئے افغانستان یا بھارت کیلئے کام کر رہا ہے اُس کے مسنگ ہونے کی کوئی اطلاع ابھی تک عوام تک نہیں پہنچی۔ یہ کس طرح ممکن ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کیلئے کھلے عام استعمال ہو رہی ہو اور پاکستان میں موجود قانونی اور غیر قانونی رہنے والے افغان باشندے ہمارے پختون بھائیوں کو ایک زبان اور ایک خطے (جو افغانستان کو اٹک تک سمجھتے ہیں) کی بنیاد پر ورغلانے میں کامیاب نہ ہوئے ہوں۔ ہمیں جہاں پاکستان کے جغرافیے میں بسنے والوں کو غور سے دیکھنا ہے وہیں ہمیں عالمی سیاست کے شعبدہ بازوں پر بھی نظر رکھنا ہو گی کہ اس عالمی شطرنج پر بکھرے مہروں میں سے لاتعداد ہمارے خطے میں اپنے آقاو¿ں کے حکم سے چالیں چل رہے ہیں۔ افغانیوں کے بھارتیوں کے بڑھتے ہوئے تعلقات یقینا پاکستان کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے جسے ہمیں ابھی سن لینا چاہیے۔
آج امریکہ جیسا ترقی یافتہ ملک کہیں میکسیکو کی دیوار بنا کر غیر ملکیوں کا داخلہ روکنا چاہتا ہے اور کبھی امریکہ میں بسنے والے غیر قانونی ہندوستانیوں کے الٹے ہاتھ باندھ کر امرتسر ائرپورٹ پر اتار رہا ہے۔ یہ امریکہ ہی ہے جس نے افغان وار کے دوران ہمیں جہاں بہت سے سبز باغ دکھائے تھے اُن میں سے ایک یہ افغان مہاجرین بھی تھے لیکن اصیل مرغے کے بچے کو کوئی لڑنا نہیں سکھاتا وہ پیدا ہوتے ساتھ ہی اپنے ہی بہن بھائیوں سے لڑنا شروع کر دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ پیدا ہونے کے بعد تمام اصیل چوزوں کی آنکھوں پر عینکیں (جو کوہلو کے بیل کی آنکھوں پر ہوتی ہے) چڑھا دی جاتی ہیں تا کہ وہ ایک دوسرے کو لہو لہان نہ کریں۔ اب جن کی انڈسٹری ہی ”جنگ، منشیات، انسانی سمگلنگ، دہشتگردی، خود کش دھماکے“ جیسی لعنتیں ہیں ہم اُن سے یہ توقع کرتے رہے ہیں کہ وہ پاکستان کے ہمدرد یا خیر خوا ہوں گے تو ایسا بھلے کیسے ممکن ہے؟ اس سارے کھیل میں ہمارے اپنے کرداروں نے بھی اہم بلکہ مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ اب حالات نے ایک بار پھر کروٹ لی ہے۔ ایک طرف ہمارے سامنے سینٹرل ایشیا کی ریاستوں تک رسائی کا مسئلہ ہے جس کیلئے وزیر اعظم اور وفاقی وزیر برائے نجکاری و مواصلات و چیئرمین انوسٹمنٹ بورڈ عبد العلیم خان بار بار وسط ایشیا کی ریاستوں کے ساتھ مل کر منصوبہ بندی کر رہے ہیں جس میں سٹرکیں اور ٹرین کے رستے بھی شامل ہیں جو پاکستان اور افغانستان کے علاوہ جن ریاستو ں سے پاکستان جڑنا چاہتا ہے اُن کی ترقی کی ضمانت ہیں اور دوسری طرف امریکہ، اسرائیل اور بھارت افغان حکومت کو آگے کر کے آئے روز ہمارے افغان بارڈر پر جھڑپیں شروع کرا دیتے ہیں۔ سو اگر ریاست پاکستان مستقبل کا کوئی بہتر نقشہ چاہتی ہے تو اُسے چین، روس اور ایران کے ساتھ اپنے حالات کو بہت بہتر کرنا ہو گا کیونکہ افغانستان کے ساتھ معاملات اُسی صورت بہتر ہوں گے جب انہیں یقین ہو جائے گا کہ اگر وہ سینٹرل ایشیا کے رستوں کے درمیان کسی کے کہنے پر رکاوٹ بنے تو پھر اگلا آپشن چین اور ایران پاکستان کا منتظر ہے۔
خوش آئند بات یہ ہے کہ غیر قانونی غیر ملکیوں کی وطن واپسی کا پروگرام (IFRP) 1 نومبر 2023 سے نافذ کیا جا چکا ہے اور ”تمام غیر قانونی غیر ملکیوں کو وطن واپس بھیجنے کے حکومتی فیصلے کے تسلسل میں، قومی قیادت نے اب اے سی سی ہولڈرز کو بھی وطن واپس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تمام غیر قانونی غیر ملکیوں اور ACC ہولڈرز کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ 31 مارچ 2025 سے پہلے رضاکارانہ طور پر پاکستان چھوڑ دیں چھوڑ ورنہ یکم اپریل 2025 سے اُن کی ملک بدری شروع ہو جائے گی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ ماہ امریکی پناہ گزینوں کے داخلے کے پروگرام کو روکنے کے بعد امریکہ منتقلی کے منتظر تقریباً 15000 افغان باشندوں کی دوبارہ آبادکاری کو مشکوک بنا دیا ہے، جس سے ان افغانوں کی وطن واپسی خطرے میں پڑ گئی ہے جو 2021 میں افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد پاکستان منتقل ہوئے تھے اور ان کی بحالی کا وعدہ کیا گیا تھا۔ ”ڈیلی ڈان“ کے مطابق ایک لیک ہونے والی دستاویز میں اشارہ کیا گیا ہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں مقیم ACCs کو باہر منتقل کر دیا جائے گا اور افغان تارکین وطن کے لیے ایک کثیر جہتی نقل مکانی کے منصوبے کے حصے کے طور پر واپس افغانستان بھیج دیا جائے گا، جن میں تیسرے ممالک میں دوبارہ آبادکاری کے منتظر بھی ہیں۔ رجسٹریشن کے ثبوت (پی او آر) کارڈ ہولڈرز، جنہیں 30 جون 2025 تک ملک میں قیام کی اجازت دی گئی تھی، اسلام آباد اور راولپنڈی سے کسی اور علاقے میں منتقل ہو جائیں گے۔ اس کے علاوہ قومی سلامتی کے اداروں کو بھی اس حوالے سے اہم ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ ڈان کی یہ خبر یقینا معتبر ہے اب دیکھنا تو یہ باقی رہ گیا ہے کہ یکم ایرپل 2025 کے بعد افغانیوںکو سرحد پار بھیجنے کیلئے عملی اقدامات کیے جاتے ہیں یا یہ بھی 1980 سے شروع ہونے والے اپریل فول کی کوئی اگلی قسط ہے جو قوم کو دکھائی جائے گی۔ پاکستان کی معیشت، پاکستانی عوام کا اداروں پر اعتماد اور پُر امن پاکستان اب افغانیوں کی باعزت وطن واپسی کے ساتھ ہی جڑا ہے اسے جتنا جلد پایہ تکمیل تک پہنچا دیا جائے گا حالات اتنا جلد بہتر اورعوامی حمایت بھی حاصل ہو جائے گی۔
یکم اپریل: افغان مہاجروں کی ڈیڈ لائن یا اپریل فول
07:23 PM, 12 Mar, 2025