وفاقی بجٹ آج پیش کیا جائے گا: مجموعی حجم 17 ہزار 500 ارب سے زائد، سود کی ادائیگیوں اور دفاع کے لیے بھاری رقم مختص کرنے کی تجویز

09:15 AM, 12 Jun, 2026

اسلام آباد: پاکستان کا آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ آج پیش کیا جا رہا ہے، جس کا مجموعی حجم 17 ہزار 500 ارب روپے سے زائد ہونے کا امکان ہے۔ ملک کی موجودہ معاشی صورتحال کے پیشِ نظر اس بجٹ کو انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔
 حکومت نے آمدن بڑھانے کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کو 15 ہزار 267 ارب روپے کا بھاری ٹیکس ہدف دینے کا فیصلہ کیا ہے۔بجٹ کا ایک بہت بڑا حصہ پرانے قرضوں کی نذر ہو جائے گا۔ سود کی ادائیگیوں کے لیے 7 ہزار 824 ارب روپے کی ریکارڈ رقم مختص کی جائے گی۔
ملکی سیکیورٹی اور دفاعی ضروریات کے پیشِ نظر دفاع کے لیے 3 ہزار ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

 معاشی تنگی اور مالیاتی ڈسپلن برقرار رکھنے کے لیے بجٹ میں کسی بھی نئے ترقیاتی منصوبے کو شروع نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اور تمام تر توجہ صرف جاری منصوبوں کو مکمل کرنے پر مرکوز رہے گی۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ سود کی ادائیگیوں کا بھاری بوجھ اور نیا ترقیاتی کام شروع نہ ہونا ملکی معیشت پر شدید دباؤ کی عکاسی کرتا ہے۔

مزیدخبریں