پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی پچہترویں سالگرہ صرف ایک تاریخی سنگِ میل نہیں بلکہ ایک ایسی لازوال دوستی کا جشن ہے جو باہمی اعتماد، احترام، اخلاص اور مشترکہ مفادات کی مضبوط بنیادوں پر استوار ہے۔ 21 مئی 1951ءکو قائم ہونے والے یہ تعلقات وقت کے ساتھ ایک ایسی اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل ہو چکے ہیں جسے دنیا ”آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ“ کے نام سے جانتی ہے۔گزشتہ 75 برسوں کے دوران عالمی سیاست میں بے شمار تبدیلیاں آئیں، طاقت کے مراکز تبدیل ہوئے، علاقائی تنازعات اور معاشی بحران سامنے آئے، لیکن پاک چین دوستی ہر آزمائش میں پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر ابھری۔ یہی وجہ ہے کہ آج یہ تعلقات بین الاقوامی سفارتکاری میں مستقل مزاجی، اعتماد اور باہمی تعاون کی مثالی مثال سمجھے جاتے ہیں۔ پاک چین تعلقات کی اصل طاقت صرف تجارت، سرمایہ کاری، دفاعی تعاون یا انفراسٹرکچر منصوبوں تک محدود نہیں بلکہ اس کی بنیاد عوامی اعتماد اور ایک دوسرے کے لیے غیر متزلزل حمایت پر قائم ہے۔ چین نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا جبکہ پاکستان نے بھی چین کے بنیادی قومی مفادات کی حمایت کو ہمیشہ اپنی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ بنایا۔چین نے گزشتہ چند دہائیوں میں ترقی، صنعتی جدت، جدید انفراسٹرکچر اور غربت کے خاتمے کے میدان میں جو غیر معمولی کامیابیاں حاصل کی ہیں، وہ دنیا کے لیے ایک قابلِ تقلید ماڈل بن چکی ہیں۔کروڑوں افراد کو غربت سے نکالنا، جدید صنعتی نظام قائم کرنا اور ٹیکنالوجی کی عالمی قیادت حاصل کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ مستقل مزاج منصوبہ بندی، مو¿ثر حکمرانی اور انسانی وسائل میں سرمایہ کاری قوموں کی تقدیر بدل سکتی ہے۔پاکستان اور چین کے تعلقات کا ایک اہم سنگِ میل چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) ہے، جس نے دونوں ممالک کے تعاون کو ایک نئی جہت عطا کی۔ سی پیک کے تحت توانائی، سڑکوں، بندرگاہوں اور مواصلاتی نظام کے متعدد منصوبوں نے پاکستان کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ اس تعاون کو اگلے مرحلے میں داخل کیا جائے جہاں توجہ صرف انفراسٹرکچر کی تعمیر پر نہیں بلکہ صنعتی ترقی، برآمدات، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور انسانی وسائل کی بہتری پر مرکوز ہو۔آج دنیا مصنوعی ذہانت، بایوٹیکنالوجی، جدید مینوفیکچرنگ، ڈیجیٹل معیشت، ای کامرس اور گرین ٹیکنالوجی کے نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ مستقبل انہی اقوام کا ہے جو علم، تحقیق، اختراع اور ٹیکنالوجی کو اپنی ترقی کا محور بنائیں گی۔ پاکستان اور چین ان شعبوں میں تعاون کے بے شمار مواقع رکھتے ہیں۔ مشترکہ تحقیقی منصوبے، ٹیکنالوجی انکیوبیشن مراکز، اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور فنی تعلیم کے پروگرام دونوں ممالک کے لیے نئی ترقیاتی راہیں کھول سکتے ہیں۔خاص طور پر پاکستان کے نوجوانوں کے لیے چین کے تجربات سے سیکھنے کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ کراچی کا نوجوان کاروباری شخص، لاہور کا انجینئر، اسلام آباد کا محقق اور بیجنگ یا شینزن کا سائنسدان مل کر پاک چین تعلقات کا اگلا باب تحریر کر سکتے ہیں۔ یہی نوجوان نسل مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی حقیقی معمار ثابت ہوگی۔معاشی میدان میں بھی تعاون کے نئے دروازے کھل رہے ہیں۔ اگرچہ دوطرفہ تجارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، لیکن زرعی مصنوعات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ مصنوعات، فارماسیوٹیکل سیکٹر اور ویلیو ایڈڈ مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں مزید پیش رفت کی گنجائش موجود ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو بھی پاک چین تجارتی تعلقات سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے مواقع فراہم کیے جانے چاہئیں۔گرین انرجی اور پائیدار ترقی مستقبل کے تعاون کا ایک اور اہم شعبہ ہے۔ شمسی توانائی، ونڈ پاور، الیکٹرک گاڑیوں، توانائی ذخیرہ کرنے کے جدید نظام اور ماحول دوست انفراسٹرکچر کے منصوبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری نہ صرف دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ پہنچا سکتی ہے بلکہ ماحولیاتی تحفظ کے عالمی اہداف کے حصول میں بھی معاون ثابت ہو سکتی ہے۔اسی طرح جامعات، تحقیقی اداروں، تھنک ٹینکس، چیمبرز آف کامرس اور نجی شعبے کے درمیان روابط کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت ہے۔ تعلیمی تبادلوں، ثقافتی سرگرمیوں، سیاحت کے فروغ اور نوجوانوں کے تبادلہ پروگراموں کے ذریعے عوامی سطح پر تعلقات کو نئی مضبوطی دی جا سکتی ہے۔ قوموں کے درمیان پائیدار تعلقات صرف حکومتوں کے ذریعے نہیں بلکہ عوام کے درمیان مضبوط روابط سے بھی فروغ پاتے ہیں۔ایک معروف چینی کہاوت ہے: ”اگر ایک سال کی خوشحالی چاہتے ہو تو اناج اگاو¿، اگر دس سال کی خوشحالی چاہتے ہو تو درخت لگاو¿، اور اگر سو سال کی خوشحالی چاہتے ہو تو لوگوں کو تعلیم دو۔“ یہ دانشمندانہ سوچ پاک چین تعلقات کے مستقبل کے لیے بہترین رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ انسانی وسائل، تعلیم، مہارتوں کی ترقی، تحقیق اور اختراع وہ ستون ہیں جن پر آئندہ پچیس برسوں کی شراکت داری استوار ہونی چاہیے۔آج جب پاکستان اور چین اپنی دوستی کے 75 سال مکمل ہونے کا جشن منا رہے ہیں تو یہ موقع صرف ماضی کی کامیابیوں کو یاد کرنے کا نہیں بلکہ مستقبل کے امکانات کا تعین کرنے کا بھی ہے۔ اگر دونوں ممالک علم، ٹیکنالوجی، انسانی ترقی اور مشترکہ خوشحالی میں سرمایہ کاری جاری رکھتے ہیں تو آنے والے سال نہ صرف پاکستان اور چین بلکہ پورے خطے کے لیے امن، استحکام اور پائیدار ترقی کا باعث بن سکتے ہیں۔پاک چین تعلقات آج دنیا میں دوستی، اعتماد اور اسٹریٹجک شراکت داری کی ایک روشن مثال ہیں۔ یقیناً اس عظیم داستان کا سب سے روشن باب ابھی لکھا جانا باقی ہے، اور یہ باب نوجوان نسل، کاروباری رہنماو¿ں، ماہرین تعلیم اور پالیسی سازوں کی مشترکہ کوششوں سے تحریر ہوگا۔
پاک چین دوستی زندہ باد۔
پاک چین تعلقات کے 75 برس: خوشحالی، ترقی کا نیا باب
09:06 AM, 12 Jun, 2026