اتفاقات بار بار ہوں توسائنس بن جاتے ہیں اور سائنسی نتیجے کسی الہام کی بنیاد پر نہیں بلکہ نئے سائنسی نتائج کی بنیاد پر رد ہوتے ہیں۔اتفاق یہ ہے کہ پاکستان کی گود میں پرورش پانے والے افغانوں کی نسل یکلخت پاکستانیوںاور افواج ِ پاکستان کےخلاف ہوگئی ہے ۔افغان طالبان کے حوالے سے تو بات جنگی نوعیت کی ہے اور نائن الیون کے بعد اس میں اتار چڑھاﺅ آتے رہے ہیں ۔تحریک طالبان پاکستان جن کو لاتعداد فوجی آپریشنز کے زریعے پاکستان سے دھکیل کر واپس افغانستان بھیجا گیا تھا ¾عمران حکومت میں شادیانے بجاتے واپس لوٹ آئے حالانکہ پیشہ ور قاتلوں کایہ گروہ انگنت سنگین جرائم میں ملوث اورمطلوب تھا اورپھر اتفاق یہ ہوا کہ عمران نیازی کی حکومت کے خلاف پاکستان کی تاریخ کے پہلے عدم اعتماد کے بعد وہی بلائے گئے مطلوب طالبان ایک بار پھر افواج ِ پاکستان اورپاکستانیوں کے خلاف برسرِ پیکار ہو گئے حالانکہ اُس زمانے کی ڈی جی آئی ایس آئی امریکی فوج کے افغانستان سے روانگی کے بعد طالبان کے ساتھ چائے کاکپ ہاتھ میں لئے دکھائی دیئے تھے اور اتفاق یہ ہے کہ چائے کی پیالی کایہ طوفان ابھی تک نہیں تھما کہ افواج پاکستان کی جانب سے روزانہ کی چھترول کے باوجود وہ بھاگ بھاگ کر پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں ۔اتفاق یہ بھی ہے کہ بلوچستان میں جاری پاکستان مخالف سرگرمیاں کوئٹہ سے لے کرکابل تک افغان طالبان سے جڑی ہیں اور افغان طالبان اتفاقیہ طورپر بھارت کے ساتھ محبت کی پینگیں قوس ِ قزح پرڈالے جھول رہے ہیں ۔یہی اتفاق پشاورسے لے کر کابل تک بھی دکھائی دے رہا ہے مگر اتفاقات کا یہ سلسلہ کہیں تھمتا دکھائی نہیں دے رہاکیونکہ یہی اتفاق اب پاکستان کے زیر انتظام کشمیرتک جاپہنچاہے۔جہاں سرکاری املاک سے لے کرریاستی ملازمین اورانتظامی اداروں پراتفاقیہ حملے شروع ہو چکے ہیں ۔ناقابل ِقبول مطالبات پر اتفاقیہ ضد ایسی ہے کہ جیسے فتح کے بعدامریکہ نے جاپان کے آگے ایک ذلت آمیزصلح نامہ رکھ دیاتھا ۔کشمیری اتفاقیہ طورپر نہیں جانتے کہ وہ مطالبات نہیں رکھ رہے بلکہ احکامات دے رہے ہیں ۔پی ٹی آئی کابیانیہ بھی اقتدارسے نکل کر اتفاقیہ فوج مخالف ہوگیاتھا اور عمران نیازی تو سرعام پاکستان کے چوک چوراہوں میں کھڑا ہوکرپاکستانی جرنیلوں کو میرجعفراورمیرصادق کے علاوہ ڈرٹی ہیری کے القابات سے نوازتا تھا ۔اتفاق سے پی ٹی آئی کے یوٹیوبرز ¾ یوتھیے صحافیوں اور بھارتی ریسرچر ¾ بھارتی ایکس سروس مین اورپی ٹی آئی کے اوورسیز سوشل میڈیاایکٹوسٹ کاپاکستانی کی فوج کے مخالف بیانیہ بالکل ایک دوسرے کی فوٹو کاپی ہے ۔جس میں اتفاق سے پی ٹی آئی نے اووسیزپاکستانیوں میں کشمیریوں کا سوشل میڈیاسیل الگ بنا دیاہے اوروہ اتفاق سے کشمیر کے حوالے سے وہی موقف اپنا ئے ہوئے ہیں جوپاکستان کے موقف سے بالکل الگ ہے۔
جنوبی ایشیا کی سیاست میں اگر کوئی نام سب سے زیادہ پراسرار، متنازع اور زیرِ بحث رہا ہے تو وہ بھارتی خفیہ ایجنسی ''را'' کا ہے۔ پاکستان میں گزشتہ کئی دہائیوں سے جب بھی قومی سلامتی، بلوچستان کی شورش، کشمیر کی صورتحال، افغانستان کی جنگ، تحریک طالبان پاکستان یا داخلی سیاسی کشمکش کا موضوع زیرِ بحث آتا ہے تو را کا نام کسی نہ کسی شکل میں سامنے ضرور آ جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ را کے بارے میں صرف فوجی یا انٹیلی جنس حلقے ہی گفتگو نہیں کرتے بلکہ پاکستان کے تقریباً تمام بڑے سیاسی رہنما بھی مختلف ادوار میں اس کا ذکر کرتے رہے ہیں۔اب یہ اتفاقات توپاکستان کے تناظر میں ایک سرسری جائزہ لینے سے سامنے آ گئے لیکن اگرہم نائن الیون کے بعد کی دنیا دیکھیں تو مسلم دنیاکے حوالے سے یہ عجیب اتفاقات بھی سامنے آ جاتے ہیں کہ بیرونی اور اندرونی دشمنوں نے مل کر پہلے مسلم ممالک کی افواج کو برباد کیا اورپھر ساراملک خانہ جنگی کی نذر ہوگیا ۔ان اتفاقات کی ایک مکمل سیریز موجودہے جسے کسی اور وقت پراٹھائے رکھتے ہیں لیکن اگرپاکستان کے عوام غورسے دیکھیں تو پاکستان کودرپیش تمام ”اتفاقات “ صرف افواج پاکستان اورفیلڈمارشل آرمی چیف سید عاصم منیر کے خلاف نظرآئیں گے کیونکہ دشمن قوتیں جانتی ہیں کہ پاکستان کی سب سے مضبوط دیوار اللہ پریقین کے بعدوہ بیان مرصوص ہے جس نے بھارت کی شہرت اورخطے میں تھانیداری کے خواب کو چکناچورکرکے رکھ دیاتھا ۔اتفاق سے اُس وقت بھی پاکستان میں بسنے والی پاکستان مخالف قوتیں دوران جنگ بھی افواج پاکستان کے خلاف اوربھارتی سندور مانگ میں بھرکرپھررہی تھیں اور پاکستان کی جنگ کو نہ صرف نورا کشتی کہہ رہی تھیں بلکہ بھارت کو سندور ٹوکا مشورہ بھی دے رہی تھیں ۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ بھارتی ایجنسی” را“ پاکستان کے دشمنوں کے ساتھ مل کر”اتفاقات “ کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہی ہے ۔
کشمیر کے مسئلے پر بھی پاکستان کا سرکاری م¶قف طویل عرصے سے یہ رہا ہے کہ بھارت نہ صرف مقبوضہ کشمیر میں سخت گیر پالیسیوں پر عمل پیرا ہے بلکہ پاکستان کے اندر بھی مختلف ذرائع سے اثرانداز ہونے کی کوشش کرتا رہا ہے اورتاحال کررہا ہے۔ پاکستانی سیاسی قیادت نے متعدد مواقع پر اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر یہ م¶قف پیش کیا کہ خطے کے امن کو سبوتاژ کرنے میں بھارتی پالیسیوں کا کردار موجود ہے۔3 جون 1947 ءکے منصوبے کے مطابق کشمیرپاکستان کا حصہ ہے سوجتنے حصے پر پاکستان کا قبضہ ہے اُسے توپاکستان میں شامل کرئے اورباقی کامطالبہ اقوام عالم سے کرتا رہے کہ عالمی سیاست میں اپنے ریاستی مفاد کیلئے ہمیں بہت سے ” اتفاقات“ جانتے بوجھتے بھی کرنے پڑتے ہیں جیسے کہ بھارت نے کشمیر کے حوالے سے کھلا ”اتفاق “ کرکے کشمیر کو بھارت میں شامل کرلیا۔
قومی سلامتی جیسے حساس موضوعات کو سیاسی بیانیے کا حصہ بنا کرالزامات کے طورپراستعمال کرنا یا پھر تحقیق، شواہد اور عدالتی جانچ کے بجائے سیاسی جلسوں، ٹی وی مباحثوں اور سوشل میڈیا مہمات کا موضوع بنانا ہی عوام کے لیے حقیقت اور پروپیگنڈے میں فرق کو مشکل کرنا ہو تاہے اوریہ بھی پروپیگنڈاکاحصہ ہوتا ہے۔ اس صورتحال کا نقصان صرف سیاسی جماعتوں کو نہیں بلکہ قومی مکالمے کو بھی پہنچتا ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ قومی مفاد کا تحفظ صرف مضبوط اداروں، شفاف تحقیقات اور بالغ سیاسی رویوں سے ممکن ہے، نہ کہ محض نعروں اور الزامات سے۔وفاقی وزیر مواصلات عبد العلیم خان کے سوشل میڈیاسے اطلاع ملی کہ مظفرآباد میں پاکستان آرمی کا ہیلی کاپٹر حادثے کاشکار ہو گیا جس میں شہید ہونے والے جوانوں کی شہادت نے رنجیدہ کردیاہے لیکن ایسا ایسا بے شرم سوشل میڈیا پربیٹھا ہے کہ وہ اس حادثے پربھی جشن منارہا تھااور جب اُن کی پروفائل چیک کی جاتی تو وہ فیک اکاﺅنٹ ہوتے جس سے ان اتفاقات کا پول کھل جاتا۔
اتفاقات کی عجیب سیاست
09:06 AM, 12 Jun, 2026