کھلا مذاق اور سفید جھوٹ

09:06 AM, 12 Jun, 2026


زندگی کو ایک حادثے سے تعبیر کیا جاتا ہے، بعض شخصیات بعض دانشور انسان کے دنیا میں آنے کو ایک واقعہ سمجھتے ہیں جبکہ دنیا سے رخصتی کو حادثہ قرار دیتے ہیں۔ دوسری رائے کے مطابق انسان کی دنیا میں آمد اور یہاں سے واپسی دونوں ہی حادثے ہیں۔ آمد پر انسان خوشی مناتا ہے، یہاں سے واپسی پر اس کے پیچھے رہ جانے والے رنجیدہ ہو جاتے ہیں۔ مجموعی طور پر زندگی دکھ اور سکھ کا مجموعہ کہلاتی ہے۔ دنیا کے کسی خطے میں دکھ زیادہ ہیں تو کہیں سکھ بہت ہیں پاکستان کی زندگی دکھوں میں گھری ہے۔ خطے میں جنگ جاری ہے، ہم اپنی سرحدوں پر امن دیکھنے کے خواہشمند ہیں لیکن بدامنی سے لڑ رہے ہیں اور ایک جنگ ایسی ہے جس میں ہم مصالحت کی کوششیں کرتے نظر آتے ہیں جو آسان کام نہیں۔
پاکستان کی سرحدوں کی حفاظت کرنے والوں کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے۔ یہ چیلنجز برف پوش پہاڑوں سے لے کر صحراﺅں اور وہاں سے لے کر فضاﺅں اور سمندروں میں ہیں۔ فرائض کی بجاآوری میں جانیں قربان کرنے کا سلسلہ نیا نہیں ہے۔ گزشتہ نصف صدی سے جاری ہے۔ تازہ ترین واقعے میں ہیلی کاپٹر کے حادثے میں اکیس افراد شہید ہو گئے ہیں۔ ان میں ایک لیفٹیننٹ کرنل دو میجر اور انیس جوان شامل ہیں۔ حادثہ فنی خرابی قرار دیا جا رہا ہے۔ فنی خرابی کس نوعیت کی تھی، اس کا علم تو تحقیقات کے بعد ہو سکے گا۔ قوم کے بیٹے وطن کی خدمت کرتے اس پر نثار ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔ ایم آئی 17 فوجی ہیلی کاپٹر ٹیک آف کے بعد حادثے کا شکار ہو گیا۔ یہ بڑے سائز کا ہیلی کاپٹر ہے جو افرادی قوت اور دیگر ضروری سامان کو ایک سے دوسری جگہ پہنچانے میں استعمال کیا جاتا ہے یہ بڑا حادثہ ہے اس میں بڑی تعداد میں فوجی افسر اور جوان شہید ہوئے ہیں۔ آئی ایس پی آر کی اس حوالے سے پریس ریلیز کے مطابق ہیلی کاپٹر میں سوار کوئی بھی زندہ نہیں بچ سکا۔ اس سے قبل 1988ءمیں ایک بڑا فضائی حادثہ ہوا جس میں سی ون تھرٹی C130 جہاز زمین بوس ہوا۔ اس فوجی جہاز میں صدر پاکستان جنرل محمد ضیاءالحق جنرل اختر عبدالرحمن کے علاوہ متعدد سینئر فوجی افسر سوار تھے۔ اس حادثے میں بھی جہاز کا کوئی سوار زندہ نہ بچ سکا تھا۔ جہاز میں سوار افسروںاور عملے کے دیگر ارکان کے علاوہ ایک امریکی بریگیڈئیر آرنلڈ رافیل بھی تھے جو اس وقت پاکستان میں امریکہ کی طرف سے سفارتی فرائض انجام دے رہے تھے۔ بہاولپور کے قریب اس حادثے میں سترہ افراد میں سے کوئی ایک بھی زندہ نہ بچ سکا تھا۔ ان کے علاوہ تیرہ کریو ممبر بھی اس جہاز میں سوار تھے وہ بھی جانبر نہ ہو سکے یوں مجموعی طور پر اس حادثے میں 30افراد دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ہیلی کاپٹر ہو یا کوئی فوجی جہاز جب وہ کسی فنی خرابی کا شکار ہو جائے اور خاص طور پر اگر اس کا انجن کام کرنا بند کر دے تو پھر وہ فضا سے زمین پر ایک بھاری پتھر کی طرح گرتا ہے جس کے زمین سے ٹکرانے کے بعد اس بات کی گنجائش بہت ہی کم رہ جاتی ہے کہ اس کا کوئی سوار زندہ بچ جائے۔ عرصہ قبل لاہور کے قریب ہی ایک فوجی ہیلی کاپٹر کریش ہوا جس میں اس وقت کے کور کمانڈر بلوچستان لیفٹیننٹ جنرل ایس ایف لودھی سوار تھے۔ ہیلی کاپٹر کریش ہوا تو زمین پر گرنے کے باوجود جنرل لودھی محفوظ رہے البتہ انہیں کمر اور جسم کے بعض دیگر حصوں میں شدید چوٹیں آئیں، وہ کافی عرصہ سی ایم ایچ میں زیر علاج رہے۔ جنرل لودھی میرے چچا سید احسان الرحمن کے ساتھیوں میں سے تھے۔ دونوں نے مختلف مواقع پر مختلف سٹیشنز پر فرائض انجام دیئے، دونوں میں بے انتہا بے تکلفی تھی۔ میرے چچا بعدازاں ایک حادثے میں اپنی ایک ٹانگ کھو بیٹھے پھر انہوں نے مصنوعی ٹانگ کے ساتھ جی ایچ کیو میں طویل عرصہ گزارا۔ جنرل ایس ایف لودھی کی طبیعت قدرے بہتر ہوئی تو ان کے بے تکلف دوستوں اور یونٹ کے ساتھیوں نے ان کی مزاج پرسی کا پروگرام بنایا۔ مجھے بھی اپنے چچا کے ساتھ جنرل صاحب کی مزاج پرسی کا موقعہ ملا۔ وہ اس روز پرانے دوستوں اور ساتھیوں سے مل کر بہت خوش ہوئے۔ سب نے انہیں زندہ بچ جانے اور پھر صحت یاب ہونے کی مبارک دی۔ چائے کا دور شروع ہوا تو بے تکلف دوستوں نے حد ادب ملحوظ رکھتے ہوئے بے تکلفی کا مظاہرہ شروع کر دیا۔ میرے چچا نے ان سے پوچھا سر یہ بتائیے بغیر پیراشوٹ کے ہیلی کاپٹر سے چھلانگ لگانے کا خیال آپ کو کیسے آیا۔ ہنسی مذاق کی محفل میں جنرل لودھی کہنے لگے۔ پیراشوٹ پہن کر تو سب چھلانگ لگاتے ہیں، آپ لوگوں نے بھی زندگی میں بہت چھلانگیں لگائی ہیں، میں نے سوچا بغیر پیراشوٹ کے زمین پر اترنے کا تجربہ کروں۔ اللہ تعالیٰ کی مہربانی میں اس میں کامیاب رہا اور آج اپنا تجربہ آپ سے شیئر کر رہا ہوں لیکن میرا مشورہ ہے آپ ایسی کوشش کرنے کا خیال کبھی دل میں نہ لائیں۔ جنرل صاحب کے جواب پر سب نے قہقہہ لگایا۔ وہ خود بھی اس ملاقات میں قہقہے لگاتے رہے یوں قہقہوں کے درمیان یہ ملاقات اختتام کو پہنچی۔
ساٹھ کی دہائی کا ذکرہے، پاکستان اور مصر کے درمیان ہوائی سفر کا آغاز ہو رہا تھا۔ پی آئی اے کی افتتاحی پرواز میں حکومتی اور کاروباری دنیا کے اہم ترین افراد سوار تھے، کچھ ایسے تھے جنہیں آخری لمحے میں جہاز کی سیڑھی سے اتار کر کسی اور من پسند شخصیت کو سوار کرا دیا گیا جو یقینا کوئی طاقتور شخصیت تھی، جانے والا خوش اور اس فلائٹ سے اتار دیئے جانے والا بے حد رنجیدہ تھا۔ جہاز کراچی سے فضا میں بلند ہوا، قاہرہ ائیرپرٹ پر اترتے ہوئے کریش ہو گیا۔ جہاز میں آگ لگ گئی جو کافی دیر تک نہ بجھائی جا سکی۔ جہاز میں سوار قریباً ایک سو چار مسافر تھے جن میں سے صرف چار زندہ بچ سکے۔ ان بچ جانے والوں میں ایک صاحب کا نام جلال الکریمی تھا جنہیں صرف معمولی خراشیں آئیں۔ انہوں نے ہمت سے کام لیتے ہوئے دیگر تین مسافروں کو آگ کے الاﺅ سے نکالا، انہیں بعدازاں صدر پاکستان فیلڈ مارشل ایوب خان نے پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا۔
کراچی ائیرپورٹ کے قریب پی آئی اے کا ایک جہاز ابھی چند برس قبل کریش ہوا جس میں معروف اداکار جناب منور سعید کے صاحبزادے ظفر مسعود بھی سفر کر رہے تھے جو پنجاب بنک کے سی او اور پنجاب بنک کے صدر تھے، وہ معجزانہ طور پر اس کریش میں محفوظ رہے جبکہ درجنوں افراد اس حادثے میں جاں بحق ہو گئے۔
حادثات زندگیاں نگل جاتے ہیں لیکن انہیں خراش تک نہیں آتی، جن کے اللہ کی طرف سے دیئے گئے سانس باقی ہوں لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات پر یقین نہ کریں، وہ کہتے ہیں اصفہان پر اٹیک کرنے والا پائلٹ بھی زندہ بچ گیا۔ تین لڑاکا ہوائی جہاز ایران نے گرائے، ان کے پائلٹ بھی بچ گئے اور اب اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرائے جانے کے بعد اس کے دونوں پائلٹ بھی محفوظ رہے۔یہ تو کھلا مذاق ہے بلکہ سفید جھوٹ ہے۔

مزیدخبریں