مشرق وسطیٰ بارود کے ڈھیر پر

09:05 AM, 12 Jun, 2026

عالمی سیاست کا اونٹ ایک بار پھر ایسے رخ پر بیٹھ رہا ہے جہاں امن کی ناو¿ ہچکولے کھا رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اوول آفس سے تہران حکومت کو دی جانے والی حالیہ براہِ راست دھمکیاں، اسرائیل کی پشت پناہی میں کی جانے والی ڈھٹائی اور ایران کا جارحانہ پلٹ وار، اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت بارود کا وہ ڈھیر بن چکا ہے جسے لگی ایک معمولی چنگاری بھی پوری دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے مہیب اندھیروں میں دھکیل سکتی ہے۔ صدر ٹرمپ کا یہ بیان کہ وہ "ایران کے پاور پلانٹس اور پلوں پر حملوں کا حکم دینے کے قریب ہیں" محض ایک گیدڑ بھبکی نہیں، بلکہ ایک ایسی خطرناک مائنڈ سیٹ کی عکاسی ہے جو عالمی قوانین اور دوسرے ممالک کی خودمختاری کو پیروں تلے روندنے پر تلی ہوئی ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کی ہٹ دھرمی کا اندازہ ان کے اس جملے سے لگایا جا سکتا ہے کہ "ایران کو اپنی بقا کے لیے معاہدہ کرنا ہوگا"۔ یہ وہ سامراجی سوچ ہے جو سفارت کاری کو مذاکرات کے بجائے "ڈکٹیشن" اور "تسلیمِ خم" کی نظر سے دیکھتی ہے۔ 
واشنگٹن یہ چاہتا ہے کہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بالائے طاق رکھ کر محض ایک کاغذ کے ٹکڑے پر دستخط کر دے، جسے جب جی چاہے امریکا پچھلے معاہدوں کی طرح یکطرفہ طور پر پھاڑ کر پھینک دے۔ ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ تہران نے جوہری ہتھیار نہ رکھنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، دراصل ایران پر دباو¿ بڑھانے کی ایک نفسیاتی چال ہے، کیونکہ ایران ہمیشہ سے اپنے پرامن جوہری پروگرام کا دفاع کرتا آیا ہے۔ امریکا کی یہ روش خطے میں امن قائم کرنے کے بجائے اشتعال انگیزی کو ہوا دے رہی ہے، جس کے اثرات اب پوری دنیا پر مرتب ہونا شروع ہو چکے ہیں۔دوسری طرف، اسرائیل کی ڈھٹائی اور اس کی مسلسل بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیاں اس پورے تنازعے کا سب سے بڑا محرک ہیں۔ اسرائیل مشرقِ وسطیٰ میں جس دیدہ دلیری کے 
ساتھ جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے، اسے واشنگٹن کی اندھی حمایت حاصل ہے۔ جب تک سپر پاورز اسرائیل کی جارحیت پر خاموش تماشائی بنی رہیں گی اور اس کی پشت پناہی کرتی رہیں گی، تب تک ایران یا خطے کا کوئی بھی دوسرا ملک اپنی بقا کے لیے سخت ترین اقدامات اٹھانے پر مجبور رہے گا۔
 اسرائیل کی یہی ڈھٹائی ہے جو مشرقِ وسطیٰ میں امن کے تمام سفارتی امکانات کو یکے بعد دیگرے سبوتاژ کر رہی ہے اور اب تہران اور واشنگٹن کو آمنے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ امریکا کی اس ننگی جارحیت کے جواب میں ایران کی قیادت کا مو¿قف بھی غیر لچکدار اور انتہائی سخت نظر آتا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی کا ٹرمپ کو دیا جانے والا کرارا جواب اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ایران اب دفاعی پوزیشن سے نکل کر جارحانہ حکمتِ عملی اپنا چکا ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ "ہم ہارنے والوں سے لڑنے سے نہیں ڈرتے" اور "اس بار جنگ صرف خطے تک محدود نہیں رہے گی" ایک واضح پیغام ہے کہ اگر تہران پر بمباری کی گئی تو واشنگٹن، تل ابیب یا دنیا کا کوئی بھی کونا محفوظ نہیں رہے گا۔ ایران یہ واضح کر چکا ہے کہ جنگ کی صورت میں امریکی ہلاکتوں کی تعداد میں ایسا خوفناک اضافہ ہوگا جس کا تصور بھی امریکی عوام نے نہیں کیا ہو گا۔ 
صدر ٹرمپ کا اوول آفس میں اعتراف کہ "ہم نے پاکستان کی درخواست پر ایران کے خلاف کارروائی روکی تھی" اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کو "بہترین شخصیات اور اچھے دوست" قرار دینا، یہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان خطے کو کسی بڑی تباہی سے بچانے کے لیے پسِ پردہ کس قدر فعال سفارت کاری کر رہا ہے۔ پاکستان جانتا ہے کہ پڑوس میں لگی آگ اس کی اپنی سلامتی کو بھی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت اب بھی ایران اور امریکا کے مابین تناو¿ کو کم کرنے کے لیے مخلصانہ کوششوں میں مصروف ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان کی یہ امن پسندانہ کوششیں ٹرمپ کی ہٹ دھرمی کے سامنے زیادہ دیر تک بند باندھ سکیں گی؟موجودہ صورتحال میں سفارتی محاذ پر ہلچل مچ چکی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے سعودی اور ترک ہم منصبوں سے ہنگامی رابطے اور قطر کے اعلیٰ سطحی وفد کا تہران پہنچنا اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے کے اسلامی ممالک اس بحران کی سنگینی کو بھانپ چکے ہیں۔ ایران کا یہ مو¿قف بالکل قانونی اور اصولی ہے کہ امریکی حملے اس کی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور اسے اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے۔ عالمی طاقتوں میں سے چین نے ایک بار پھر ذمہ دارانہ کردار ادا کرتے ہوئے دونوں فریقین سے تحمل کا مطالبہ کیا ہے اور واضح کیا ہے کہ مذاکرات کے اس اہم موڑ پر کسی بھی قسم کا فوجی تنازع پورے عالمی نظام کو مفلوج کر سکتا ہے۔اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو پہلی اور دوسری عالمی جنگیں بھی اسی طرح کی ہٹ دھرمی، تسلط پسندی اور سفارتی ناکامیوں کا نتیجہ تھیں۔
 آج کی دنیا 1914 یا 1939 کی دنیا نہیں ہے، بلکہ یہ ایٹمی ہتھیاروں سے لیس اور معاشی طور پر ایک دوسرے سے جڑی ہوئی دنیا ہے۔ اگر امریکا نے ایران کے پاور پلانٹس یا انفراسٹرکچر پر حملہ کیا، تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کے تیل کی سپلائی لائنز تباہ ہو جائیں گی بلکہ عالمی معیشت سیکنڈوں میں زمین بوس ہو جائے گی۔ آبنائے ہرمز کی بندش پوری دنیا کو اندھیروں اور بدترین مہنگائی کے غار میں دھکیل دے گی۔وقت کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری، بالخصوص اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین، ڈونلڈ ٹرمپ کی اس جنگجوانہ سوچ کے سامنے دیوار بنیں۔ اسرائیل کی ڈھٹائی کو لگام دی جائے اور تہران کو دیوار سے لگانے کی پالیسی ترک کی جائے۔ اگر عالمی طاقتوں نے اب بھی مصلحت پسندی کی چادر نہ اتاری تو ٹرمپ کی ہٹ دھرمی اور اسرائیل کی ہوسِ ملک گیری پوری انسانیت کو ایک ایسی جنگ کی آگ میں جھونک دے گی جہاں جیتنے والا بھی ہارنے والے جیسا ہی راکھ کا ڈھیر بن جائے گا۔ تیسری عالمی جنگ اب کوئی مفروضہ نہیں، بلکہ ہٹ دھرمی کی بنیاد پر لکھی جانے والی ایک ایسی ہولناک حقیقت بنتی جا رہی ہے جس کا وقت رہتے سدِباب ناگزیر ہے۔

مزیدخبریں