لالہ جی کے لئے صحت کی درخواست ہے 

09:08 AM, 13 Jun, 2025

پاکستان کے نامور فوک گلوکار عطاءاللہ خان عیسیٰ خیلوی ان دنوں شدید علیل ہیں۔ وہ ہماری فوک میوزک کا ایسا اثاثہ ہیں اور انہوں نے ایسی روایات چھوڑی ہیں جن کو آنے والے زمانوں میں کوئی اور مکمل نہ کر سکے گا۔ میری تمام دعائیں لالہ جی کے لئے ہیں کہ وہ ہمارا اثاثہ ہیں ۔
عشق و محبت کی داستان، قصے، کہانیاں کتابوں میں پڑھتے آ رہے ہیں۔ نسل در نسل نہ ختم ہونے والے عشقیہ گیت، عشقیہ شعر، عشقیہ خطوط اگر پنجاب کی بات کروں تو پھر عشقیہ داستانیں، ٹوٹتی، بنتی محبتیں، ٹوٹتے بنتے عشق ہماری روایات کا حصہ ہیں۔ ہم نے اپنی ہوش میں میانوالی کی دھرتی سے اٹھنے والے ایک ایسے عشق کو دیکھا سنا اور پھر دنیا بھر میں اس نے اپنے عشق کو گیت کی شکل میں جس انداز سے پھیلایا وہ بھی اپنی ایک مثال ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ کسی بھی دھرتی سے اٹھنے والی ایک آواز زمانوں کی آواز بن جاتی ہے جس آواز کا میں ذکر کرنے جا رہا ہوں وہ لالہ عطاءاللہ عیسیٰ خیلوی کی ہے جس کے عشق کی داستان بچپن سے شروع ہوتی ہے اور پھر جب پہلے ہی عشق میں ناکامی ہوئی تو اس نے اپنے ناکام عشق کو ایک گیت میں ڈھال دیا۔ 
ادھر زندگی کا جنازہ اٹھے گا
ادھر زندگی ان کی دلہن بنے گی
یہ گیت ایسا مشہور ہوا کہ عشروں قبل گایا آج بھی یہ گیت روز اول کی طرح مقبولیت کی رفتار پکڑے ہوئے ہے۔ عطاءاللہ عیسیٰ خیلوی عرف زمانہ لالہ جی آج کل بہت زیادہ بیمار ہیں۔ 73سالہ عطاءاللہ عیسیٰ خیلوی کا تعلق میانوالی کے علاقے عیسیٰ خیل کے نیازی خاندان سے ہے۔ پاکستان میں فوک میوزک کے حوالے سے بات کریں تو بہت سوں کی موجودگی میں یہ واحد نام ہے جس نے ناصرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے میوزک شیدائیوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ 1971ءمیں ان کا گایا جانے والا گیت ادھر زندگی کا جنازہ اٹھے گا کیسٹ کے زمانہ میں کروڑوں سے بھی زائد گیت کا ریکارڈ توڑ گیا۔ اس گیت کو بین الاقوامی شہرت ملنے کی وجہ آواز میں ایسا درد تھا جسے ہر سننے والے نے اپنا درد جان لیا۔ لالہ جی سے میری دوستی کا آغاز سن اسی کی دہائی میں ہوتا ہے۔ جیل روڈ روزنامہ پاکستان کے سامنے لالہ جی کا آفس ہوا کرتا تھا جبکہ ان کا اپنا میوزک سٹوڈیو عابد مارکیٹ لاہور میں تھا۔ 
لالہ جی کی شخصیت کا سحر ایک طلسماتی جادو کی طرح ہے جو ہر ایک کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے۔ یوں تو میں نے لالہ جی کے بے شمار انٹرویو کئے جو روزنامہ جنگ، روزنامہ پاکستان، روزنامہ نوائے وقت اور روزنامہ خبریں کے سنڈے میگزین میں شائع ہوئے۔ دلچسپ بات یہ رہی کہ ان کے ہر انٹرویو میں ایک نیا انداز لئے عطاءاللہ عیسیٰ خیلوی میرے سامنے آ جاتا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے جب میں نے انٹرویو میں ان کے پہلے گیت کی وجہ شہرت پوچھتا تو وہ ایک ہی بات کہتے۔ عشق بڑی ہی نامراد چیز ہے۔ اچھے بھلے زندگی کے چلتے نظام کو روک دیتا ہے۔ زمانہ سکول میں ہی دل دے بیٹھا پھر ایسا دل دیا کہ آج تک وہ میرے قابو میں نہیں ۔ ہمارے خاندان میں دور دور تک کسی نے نہیں سنا تھا کہ کوئی گانے والا بھی ہے۔ اس زمانے میں گانے والے کو میراثی کے لقب سے پکارتے تھے۔ میرے والد کو میرا اس طرح کی زندگی میں جانا بالکل پسند نہیں تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ میں پڑھ لکھ کر افسر بنوں مگر خداتعالیٰ نے میرا مقدر کسی اور جگہ لگا ہوا تھا۔ عشق گیت اور میوزک مجھ سے بھی کوسوں دور تھا جب میں نے اپنی زندگی کا پہلا گیت گایا اور وہ پہلا گیت ہی مجھے عطاءاللہ عیسیٰ خیلوی بنا گیا۔ میرا نہیں خیال کہ اگر میں اپنے پہلے عشق میں کامیاب ہو جاتا تو یہ گیت ہی نہ گاتا یا میں فوک گائیکی کی طرف قدم نہ بڑھاتا۔ البتہ مجھے بچپن میں گانے کا شوق تھا اور گھر والوں سے چھپ چھپا کے اپنے اندر کی آواز کو باہر لاتا پھر بقول لالہ جی کہ میں شوقیہ گلوکار تھا یا میں اس دنیا میں ہی اپنا نام بنانا چاہتا تھا میرے اندر اس کی ہلکی سی خواہش تو تھی مگر یہ معلوم نہ تھا کہ قدرت اس قدر مہربان ہو جائے گی۔ 
وہ اکثر یہ بات کہتے ہیں کہ ہر انسان کی زندگی میں کوئی نہ کوئی ایک حادثہ اس کو شہرت دلوا جاتا ہے۔ میری وجہ شہرت میرا عشق کرنا ہی وہ حادثہ تھا جو میری آواز کو پوری دنیا میں پھیلا گیا۔ میں نے بہت گایا اور کہاں کہاں جا کے نہیں گایا یہ تو میں اب بھول جاتا ہوں۔ لوگ میری گائیکی کے انداز اور میری گائی شاعری کو بہت پسند کرتے ہیں۔ میں نے ایک بار لالہ جی سے پوچھا کہ خواتین تو آج بھی آس لگائے بیٹھی ہیں کہ آپ نے گیت ہی ایسے گائے جن کا مرکز دل، محبت، خوبصورتی اور مجسمہ عورت رہا۔ اس بارے آپ کی سوچ کیا ہے تو لالہ ہنس کر کہتے یہ سوال تو آپ ان عورتوں سے پوچھیں۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ میری گائی شاعری میں اس طرف جھلک زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ اب متاثر ہونا ایک فطری عمل ہے اس میں میرا کوئی دوش نہیں ۔
میرے نزدیک عطاءاللہ عیسیٰ خیلوی نے پاکستان کے فوک میوزک کو جو زندگی دی وہ کوئی اور گلوکار نہ دے سکا۔ ہزاروں گیت گانے والے اس عظیم گلوکار کو میرا ایک ہی خراج تحسین ہے کہ اس کے لئے ایک زندگی کافی نہیں۔ آج ان کو معاشرے کے ہر طبقے کو بہت ہی پسندیدگی کے انداز سے سنا اور پسند کیا جاتا ہے اگر یہاں ان کی زندگی کے صرف چند گوشوں کی نقاب کشائی کروں تو اس پر ایک دو کتابیں بھی کم پڑ جائیں۔ عطاءاللہ نے عشق کیا تو جی بھر کے کیا، گایا تو اتنا گایا کہ آج بھی ان کے گیتوں کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ شوبز سیاست تو سیاست سے شہرت تک وہ جہاں بھی رکا اپنا مقام بنا لیا۔ لالہ کی رواداری، انکساری ان کی گائیکی سے بھی بہت آگے ہے۔ عزت اور احترام دینا کوئی لالہ سے سیکھے۔ سچا، کھرا اور دوٹوک بات کرنے والا یہ انسان جتنا باہر سے خوبصورت ہے اس سے زیادہ وہ اپنے باطن کو بھی خوبصورت بنائے ہوئے ہے۔
اور آخری بات....
لالہ جی کی پاکستانی فوک میوزک میں خدمات کو ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔ محبتوں کے اس راہی کے لئے آپ سب سے گزارش ہے کہ وہ اپنی نمازوں میں ان کی صحت یابی کے لئے دعا کریں۔ خداتعالیٰ اس عظیم انسان، عظیم گلوکار اور ہیرو آف پاکستان کی صحت یابی کیلئے دعا کریں کہ وہ جلد صحت یاب ہو کر پھر سے میوزک کی رونقیں آباد کریں۔ 

مزیدخبریں