سرجیکل مینجمنٹ 

09:06 AM, 13 Jun, 2025

بعض اوقات چیزوں کو ایک حصے سے کاٹ کر دوسری جگہ لگانے یا رکھنے سے بہت سے مسائل حل ہو جاتے ہیں۔ جسم کے کسی ایک آرگن کی بحالی کے لیے دوسرے آرگن سے مدد لی جاتی ہے۔ ہم اس بات کو عام فہم مثالوں کی مدد سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔اگر ہم ہیئر ٹرانسپلانٹ پر غور کریں تو اس سرجری میں زائد بالوں والے حصے سے بال نکال کر ایسے حصے میں لگا دیئے جاتے ہیں جہاں پر بالوں کی کمی ہوتی ہے۔ یوں بڑی حد تک مسئلے پر قابو پا لیا جاتا ہے۔ یہ عمل سائنسی ہونے کے ساتھ ساتھ سمجھ بوجھ کے عمومی تصورات سے بھی جڑا ہے۔ ہم مسائل سے دوچار ہونے کی صورت میں اگر سرجیکل مینجمنٹ کا طریقہ اپنائیں تو بڑی سطح پر تبدیلی دیکھنے میں آ سکتی ہے۔ ہمارے ملک بھر میں پھیلے مسائل میں اداروں کی نجکاری، بے روزگاری، مہنگائی کے ساتھ ساتھ وسائل کا درست استعمال نہ ہونا اور ثمرات کا عام آدمی تک نہ پہنچنا بھی شامل ہے۔ 
مثلاً ہمارے بہت سے ادارے ایسے ہیں جہاں افرادی قوت کم ہے بعض پیچیدگیوں یا، بجٹ کی کمی پھر انتظامی مسائل کی وجہ سے ماہر اور قابل افراد کی بھرتی آسان نہیں ہوتی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ادارے پورے پوٹینشل کے ساتھ پرفارم نہیں کر پاتے۔ دوسری جانب ایسے ادارے بھی موجود ہیں جہاں لوگ ضرورت سے زائد موجود ہیں یا پھر روایتی کاموں کے ترک ہو جانے کی وجہ سے اب ان سے متعلق کام کاج بہت ہی کم رہ گئے ہیں یا ان کی اپنے ادارے میں ریلیونس نہیں رہی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ ادارے مسلسل خسارے میں رہتے ہیں اور حکومت کو ایسے اداروں میں یا تو ڈاو¿ن سائزنگ کرنا پڑتی ہے یا پھر ان کی نجکاری کی طرف جانا پڑتا ہے۔ ان دونوں صورتوں میں عوام حکومت مخالف مظاہرے کرتے ہیں اور سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ 
ایسی صورت میں سرجیکل مینجمنٹ کا طریقہ زیادہ سود مند ثابت ہو سکتا ہے۔ جس میں حکومت کی جانب سے تمام ایسے اداروں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جائے جو افرادی قوت کی کمی کی وجہ سے پرفارم نہیں کر پا رہے اور وہ ادارے بھی جو ملازمین کی زیادہ اور غیر متعلقہ تعداد کے باعث خسارے میں جا رہے ہیں یا ان کی پرفارمنس خاطر خواہ نہیں رہی ہے۔ ان اداروں کے ملازمین کی پراڈکٹیوٹی رپورٹ لی جائے۔ اضافی اور غیر ضروری ملازمین کو خصوصی ٹریننگ کورس کے بعد دوسرے اداروں میں بھیج کر ان سے کام لیا جائے۔ مثلاً ملک بھر کے کالجوں میں اساتذہ کی کمی کی وجہ سے ہر سال سی ٹی آئی بھرتی کیے جاتے ہیں جو تدریس کا تجربہ نہیں رکھتے۔ دوسری جانب بہت سے ایسے ہائی یا ہائیر سیکنڈری سکولوں کے اعلیٰ تعلیم یافتہ ملازمین ہیں جہاں انرولمنٹ بہت کم ہے۔ ان ملازمین کی ڈیوٹی عارضی بنیادوں پر مقامی کالجوں میں لگائی جا سکتی ہے اور ان کے تجربے سے فائدہ اٹھا جا سکتا ہے۔سرکاری یونیورسٹیوں کے ایسے تمام شعبہ جات جہاں انرولمنٹ بہت ہی کم ہے ان کے اساتذہ اور دیگر عملے کو ضرورت کے مطابق اداروں میں کام میں لایا جا سکتا ہے۔ صرف یونیورسٹیوں سے ہی سیکڑوں ملازمین دستیاب کیے جا سکتے ہیں۔اسی طرح ضلعی انتظامیہ میں اگر زائد عملے والے اداروں سے افراد کو شامل کر لیا جائے تو بہت سے پراجیکٹ تیزی سے مکمل ہو سکتے ہیں بلکہ عوام تک حکومتی پالیسیوں کے ثمرات تیزی سے پہنچ سکتے ہیں۔ ستھرا پنجاب حکومت پنجاب کا ایک انقلابی قدم ہے۔ اگر اس مہم میں افرادی قوت کو دو یا تین گنا کر دیا جائے تو اس کے ثمرات اور انتہائی تیزی سے لوگوں تک منتقل ہوں گے۔ اسی طرح رفاحی اور انتظامی اداروں کے لوگوں کو تربیت کے بعد دوسرے اداروں میں کام کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ 
مالی، بیلدار، خاکروب، چپڑاسی اور درجہ چہارم کے دیگر ملازمین بلدیاتی اداروں میں اپنی خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ نیز ان ملازمین کو اوور ٹائم کام کرنے کا انعام یا انسینٹو بھی دیا جا سکتا ہے۔ اس طرح شہروں کی صفائی ستھرائی کا انتظام غیر معمولی طور پر تبدیل ہو جائے گا۔ تمام سرکاری مساجد کے خطیب، مو¿ذن اور دیگر عملے کی قیادت میں آگاہی مہم کا آغاز کیا جانا چاہیے جو لوگوں کو شجر کاری، پانی کی بچت اور صفائی کی اہمیت اور اس کی ضرورت کے حوالے سے بیٹھکوں اور پنچایتوں میں دروس دیں اور ضروری لٹریچر تقسیم کریں۔ اسی طرح فائن آرٹس اور دوسرے تکنیکی اداروں کے ملازمین کو گلی محلوں کی تزئین و آرائش کے پراجیکٹس میں کام میں لایا جا سکتا ہے۔ ایسے ہی کلیریکل سٹاف، کمپوٹر آپریٹرز کو نادرا، پولیس سمیت شہر بھر کے اداروں میں ڈیٹا انٹری، مانیٹرنگ، انفارمیشن کلیکشن یا حکومت رسپانس سیل میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے نہ تو اضافی بجٹ درکار ہو گا اور نہ کسی کو ملازمت سے نکالنا پڑے گا بلکہ حکومت کی انتظامی قوت میں اضافہ ہو گا۔محکمہ صحت کے ملازمین کو بھی ضرورت اور ان کی صلاحیت کے پیش نظر مختلف اداروں میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ یہ عمل نئے دور کی تیاری بھی ثابت ہو گا کیوں کہ اس سے لوگوں میں کچھ نئی سکلز بھی پیدا ہوں گی جو انھیں روایتی کاموں سے ہٹ کر کام کرنے کے لیے تیار کریں گی۔
سروسز کے میدان میں نئے آنے والے لوگوں کے لیے نئی جابز پیدا کی جانی چاہئیں۔ جو پیسہ مذکورہ بالا عوامل سے بچ جائے اسے نئے شعبوں میں لگا کر ملک کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیا جا سکتا ہے جس سے برآمدات اور زر مبادلہ میں اضافہ ممکن ہے۔ پاکستان صرف ایک زرعی ملک نہیں ہے یہ دیگر نوعیت کے وسائل سے بھی مالا مال ہے۔ یہاں فوڈ چین کمپنیوں سے لے کر ہوٹل مینجمنٹ ، سیاحت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں زبردست پوٹینشل موجود ہے۔ نئے لوگوں کو نئی طرز کی ملازمتوں کی طرف راغب کرنا ملک و قوم کو نئے دور میں داخل کرنے جیسا ثابت ہو گا۔

مزیدخبریں