غریب دوست بجٹ

09:05 AM, 13 Jun, 2025

آج تک ہمارے ہاں جتنے بھی بجٹ آئے ہےں پےش کرنے والوں کا اےک ہی دعویٰ ہوتا ہے کہ غرےب دوست بجٹ ہے، معےشت پاو¿ں پر کھڑی ہو چکی ہے اور اب ترقی کی لمبی لمبی چھلانگےں لگانے کو ہے۔ سوال ےہ ہے کہ ہمارے موجودہ بجٹ کی آمد تک وطنِ عزےز مےںدرجنوں بجٹ آ چکے تو پھر بےچارے غرےبوں کی کاےا کےوں نہےں پلٹی؟ گوےا بجٹ کے غرےب دوست ہونے کے جو دعوے کئے جاتے ہےں وہ صرف خوش خےالی تک ہی محدود ہوتے ہےں، اگر بجٹ عوامی امنگوں کا آئےنہ دار ہو تو ملک مےں اقتصادی و سماجی تبدےلی ہر اےک کو نظر آنی چاہئے۔اس کی بنےادی وجہ تو ےہی نظر آتی ہے کہ ےہ سب اعداد و شمارکا گورکھ دھندا ہوتا ہے جس کا مقصد عوام کو الجھانا ہے جب کہ وہ ملک جو آج ترقی کی منازل طے کر چکے ہےں وہاں بجٹ اعداد و شمار کا گورکھ دھندا نہےں ہوتا بلکہ ےہ قومی اقدار اور عوامی امنگوں کا آئےنہ دار ہوتا ہے۔ بجٹ سے خواہشات کے گھوڑے کو روکا نہےں جا سکتا مگر بجٹ کا اعلان ہوتے ہی اضطراب اور تذبذب مےں پڑے عوام کو پتہ چل جاتا ہے کہ وہ کس کس چےز کے خرےدنے کے متحمل نہےں ہو سکتے۔ ےوں بجٹ قومی معمولات کے حوالہ سے اےک جمہوری حکومت کے لئے اےسی اقتصادی مشعل ہے جس کی روشنی مےں حکومت اپنے مےنڈےٹ کے ذرےعے شہرےوں کو ضرورےات زندگی کی فراہمی ےقےنی بنا سکتی ہے اور مختلف اہم منصوبوں کی تکمےل، قومی اداروں اور ملکی سلامتی و دفاع کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر اپنی معاشی قوت اور جمہوری اقدار پر قائم رہنے کا احساس دلا سکتی ہے۔
قومی مےزانیے دنےا بھر مےں بنتے ہےں جو حقائق پر مبنی ہوتے ہےں لےکن ہمارے ہاں اس مقصد کے لئے غےر حقےقی مفروضوں کا سہارا لےا جاتا ہے جب کہ اس پورے اقتصادی اور مالےاتی عمل مےں پاکستان کا غرےب ستم رسےدہ آدمی ہر بجٹ کو اپنی آرزوو¿ں کا محور سمجھتا رہا، صورتحال ےہ ہے کہ نہ تو ہمارے ہاں سارا سال بجٹ کو ملحوظِ خاطر رکھ کر اخراجات کئے جاتے ہےں اور نہ ہی سال کے بعد کبھی اس بات کا حقےقی اعتراف کےا گےا ہے کہ اس سال مےں بجٹ کے فلاں فلاں اہداف پورے کئے گئے ہےں۔ بےروزگاری مےںمسلسل اضافہ ہوتا رہا، نوجوان بےروزگاری سے اس حد تک تنگ آ گئے کہ جان کی پروا کئے بغےر جان کی بازی لگا کر ےورپ اور دےگر ترقی ےافتہ ممالک مےں غےر قانونی طور پر جانے کو ترجےح دےنے لگے اور اس کوشش مےں بہت سے نوجوان کبھی تو جان بازی ہار گئے اور کبھی انسانی سمگلروں کے ہاتھ چڑھ گئے۔ اسی بنا پر مہنگائی، بےروزگاری اور غربت کے مسائل سے نمٹنے کے لئے معاشی عدل لازمی ہے۔ پاکستان مےں روزگار کی فراہمی کا سب سے بڑا ذرےعہ اگر صنعت کو لےا جائے تو ٹےکسٹائل کی صنعت سے لاکھوں افراد وابستہ ہےں لےکن بجلی کی شدےد کمی اور گےس کی قلت کے باعث سیکڑوں کارخانوں کو تالا لگا کر مالکان بےرونِ ملک جا کر صنعتےں قائم کر چکے ہےں۔ جس سے پاکستان کی ٹےکسٹائل گروپ کی برآمدات مےں بھی کمی واقع ہوئی ہے بلکہ ےہ گزشتہ کچھ سال سے بدستور کم ہو رہی ہےںجب کہ درآمدات بڑھتی جا رہی ہےں جس سے بجٹ کا خسارہ بھی بہت بڑھ گےا ہے۔
سالانہ بجٹ کئی حوالوں سے معےشت پر انتہائی اہم اثرات مرتب کرتا ہے۔ کسی بھی ملک کے بجٹ کو دےکھ کر فوراً ےہ اندازہ لگاےا جا سکتا ہے کہ متعلقہ ملک کی حکومت کی مالی حےثےت کےا ہے، حکومت کی آمدنی کتنی ہے اور اس کے اخراجات کا حجم کےا ہے؟ آمدنی کم اور اخراجات بہت زےادہ ہوں تو سمجھ لےں کہ حکومت کی مالی حالت بہت خراب ہے ۔ اسے ےا تو اپنے اخراجات کم کرنا پڑےں گے ےا پھر ٹےکس اور محصولات مےں اضافہ کر کے اپنی آمدنی مےں اضافہ کرنا ہو گا۔ حکومت کو مختلف مدوں سے جو آمدنی حاصل ہوتی ہے وہ صرف بےرونی اور اندرونی قرضوں کی ادائےگی دفاع اور دےگر غےر ترقےاتی شعبوں مےں خرچ ہو جاتی ہے۔ ترقےاتی اخراجات کے لئے حکومت کے پاس کوئی رقم نہےں بچتی لہٰذا مزےد قرضوں کے ذرےعے ان اخراجات کو پورا کےا جاتا ہے جس کے نتےجے مےںسرکاری قرضے مےں اضافہ ہو جاتا ہے۔ 
پاکستان کی معےشت کئی سال سے کئی بنےادی تضادات کا شکار ہے آمرانہ دور آےا ےا جمہوری زمانہ ےہ تضادات کم و بےش اسی طرح جاری رہا۔ گزشتہ سات آٹھ سال کے دوران پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح انتہائی کم رہی اور انہی سال مےں خطے مےں موجود دوسرے ممالک مےں ےہ شرح نمو ہم سے تقرےباً دوگنی رہی۔ مطلب ےہ ہوا کہ اس عرصہ مےں ان ممالک اور ہماری معاشی ترقی مےں تفاوت بڑھتی چلی گئی۔ جب کہ ہر حکومت بجٹ پےش کرتے ہوئے ےہ بلند و بانگ دعویٰ کرتی ہے کہ اس کا پےش کردہ بجٹ مکمل طور پر عوامی ہے اور اس مےں عوام کے مفاد کا ہر ممکن خےال رکھا گےا ہے اور اس نے جو منصوبے پےش کئے ہےں ان کی تکمےل کے بعد ملک مےں خوشحالی کا دور دورہ ہو گا اور معےشت کا ہر شعبہ پوری رفتار سے ترقی کرے گا لےکن ماضی مےں پےش کئے جانے بجٹ اور اس کے بعد پےدا ہونے والے حالات کے تناظر مےں دےکھا جائے تو ےہ تسلےم کرنا پڑتا ہے کہ بجٹ مےں پےش کئے گئے بہت سے اہداف حاصل نہےں کئے جا سکے اور عوام کی حالت بہتر ہونے کی بجائے پہلے سے بھی زےادہ بگڑتی چلی گئی ہے۔ مختلف ذرائع سے جاری ہونے والی رپورٹس بھی ےہ واضح کرتی ہےں کہ وطنِ عزےز مےں ہر سال غربت کی لکےر سے نےچے جانے والے افراد کی تعداد مےں تےزی سے اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ےہ بھی مشاہدے مےں آےا ہے کہ حکومت بجٹ پےش کرتے ہوئے اسے بڑا ٹےکس فری قرار دےتی ہے اور ےہ دعویٰ کرتی ہے کہ اس کے بعد کوئی منی بجٹ نہےں آئے گا مگر چند ماہ بعد ہی ان حکومتی دعوو¿ں کے برعکس منی بجٹ عوام پر مسلط ہو جاتا ہے۔
دوسری طرف قومی غےرت، وقار و سلامتی کے ساتھ ساتھ عوامی و قومی مفادات کو آئی اےم اےف اور سامراجی طاقتوں کی خواہشات پر قربان کےا جا رہا ہے، روپے کی قدر مےں مسلسل کمی ہو رہی ہے، گزشتہ چار سال مےں مہنگائی کی شرح مےں خوفناک اضافہ ہوا ہے۔ ملک مےں جس چےز کی کھپت بڑھنے لگتی ہے حکومت اسے آمدنی کے لئے تر نوالہ سمجھتے ہوئے اس کی قےمت ےا ٹےکس مےں اضافہ کر دےتی ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اسمبلےوں کو مراعات حاصل کرنے کے ادارے بنا لےا ہے۔ مفاد پرست سےاسی عناصر اپنے مفاد کے لئے قومی مفادات کو پسِ پشت ڈال رہے ہےں، ملک کا پورا نظام کرپٹ کلچر پر چل رہا ہے، حکومت کا ہر فرد اربوں کمانے کے چکر مےں ہے۔

مزیدخبریں