کویت سٹی :اگر آپ کویت میں کام کر رہے ہیں اور جلد وطن واپسی کا سوچ رہے ہیں تو آپ کے لیے ایک نئی شرط عائد کی گئی ہے۔ یکم جولائی 2025 سے، کویت میں کام کرنے والے غیر ملکی شہری اپنے آجر (اسپانسر) کی اجازت کے بغیر ملک نہیں چھوڑ سکیں گے۔
یہ فیصلہ کویت کے نائب وزیراعظم شیخ فہد یوسف کی جانب سے جاری کردہ سرکلر میں سامنے آیا ہے، جس کے مطابق نجی شعبے میں کام کرنے والے ہر غیر ملکی کو ایگزٹ پرمٹ لینا لازمی ہوگا۔
کویتی حکام کا کہنا ہے کہ اس قانون کا مقصد لیبر مارکیٹ میں نظم و ضبط قائم رکھنا، ملازمین کی بلا اجازت نقل و حرکت پر قابو پانا، آجروں اور ملازمین کے درمیان ذمہ داری کا واضح تعین کرناہے۔
سعودی عرب میں یہ قانون پہلے سے نافذ ہے، جہاں ہر غیر ملکی ملازم کو ایگزٹ اور ری انٹری پرمٹ آجر سے لینا ضروری ہوتا ہے۔ تاہم، قطر اور یو اے ای جیسے ممالک نے اس نظام میں نرمی پیدا کرتے ہوئے مزدوروں کو زیادہ آزادی فراہم کی ہے۔
اگر آپ کویت میں مقیم ہیں اور چھٹی یا مستقل واپسی کا ارادہ رکھتے ہیں تو اپنے آجر سے بروقت رابطہ کریں اور ایگزٹ پرمٹ کے لیے درخواست دیں، ورنہ آپ کو روانگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔