یہ کرکٹ ہے اور یہ وہ کرکٹ جس میں کسی وقت کیا ہو جائے کون بہت اچھا کھیل جائے اور کون بہت برا کہ یہی اس بڑے کھیل کی بڑی نزاکتیں ہیں۔ گزشتہ دنوں لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں لاہور قلندرز نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو ایک سنسنی خیز مقابلے میں لڑنے کے بعد تیسری مرتبہ چمپئن بننے کا اعزاز حاصل کر لیا۔ اس سے قبل یہ تین مرتبہ کا اعزاز اسلام آباد یونائیٹڈ کے پاس تھا۔ بات کھیل کی نہیں بلکہ جذبے کی ہے۔ اس دفعہ لاہور قلندرز نے میدان کے اندر کھیل اور جذبے یعنی دونوں کی جنگ لڑی اور پھر سب نے دیکھا کہ جذبے زیادہ جیتے۔ اس کی ایک مثال لاہور قلندرز کے کھلاڑی سکندر رضا کی ہے جو پاکستانی ہونے کے ناطے کرکٹ کے برے ترین سسٹم میں تو جگہ نہ بنا سکا مگر وہ اپنی شاندار پرفارمنس سے وہ زمبابوے کی کرکٹ ٹیم کا کپتان بن گیا۔ میرے نزدیک یہ ایک سکندر رضا کی بات نہیں ہم نے تو نجانے سینکڑوں سکندر رضائوں کو اپنی پسند اور ناپسند میں ضائع کرا دیئے تو بات ہو رہی تھی جذبے کی اور یہ جذبہ ہم نے اس وقت دیکھا جب پاکستان سپر لیگ کے دسویں ایڈیشن کے دوران پاک بھارت جنگ ہوتی ہے اور غیرملکی کھلاڑی واپس اپنے ممالک سدھار جاتے ہیں، ان میں لاہور قلندرز کا سکندر رضا بھی شامل تھا پھر جب پاکستان نے بھارت کو عبرتناک شکست دی تو کرکٹ بورڈ نے بھی سپر لیگ کے بقیہ پروگرام کو بحال کرتے ہوئے نیا شیڈول جاری کر دیا اور غیر ملکی کھلاڑی واپس آ گئے۔ دوسری طرف لاہور قلندرز نے جب آخری سیشن کے دونوں میچ جیت کر فائنل میچ میں قدم رکھا تو اس کو سکندر رضا کی بہت یاد آئی جو لندن میں اپنی ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے انگلینڈ کیخلاف ٹیسٹ کھیل رہا تھا کہ میچ کے چوتھے روز اس کو ڈائریکٹر لاہور قلندر ثمین رانا کی کال جاتی ہے کہ اگر ٹیسٹ آج ختم ہوتا ہے تو آپ فوراً پاکستان آ جائو۔ اتفاق سے میچ ختم ہوا اور اس نے ناٹنگھم سے برمنگھم تک کا سفر ڈیڑھ گھنٹے میں کار میں کیا۔ جہاز میں بیٹھا وہاں سے دبئی آیا، دبئی سے پھر کار میں بیٹھا اور ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو کرکے وہ ابوظہبی پہنچا۔ وہاں سے فلائیٹ پکڑی۔ شام چھ بج کر تیس منٹ میں لاہور ایئرپورٹ اترا اور سات بجکر بیس منٹ پر قذافی سٹیڈیم کے اندر ترانہ پڑھا اور ساڑھے سات بجے وہ بائولنگ اینڈ سے بال کر رہا تھا۔ میرا نہیں خیال کہ اس طرح کسی فلم میں کسی ہیرو کو ایسے کردار میں ڈالا گیا ہو… اور پھر اسی سکندر رضا نے اپنی آل رائونڈ پرفارمنس سے لاہور قلندرز کو تیسری مرتبہ چمپئن بنانے میں اپنا بڑا حصہ ڈال دیا۔
سکندر رضا کا یہ جذبہ کرکٹ کی دنیا میں آج ایک خوبصورت مثال بن گیا ہے اگر دوسری طرف سکندر رضا کے کھیل اس کی شاندار پرفارمنس اور میچ ونر کی صلاحیت کو دیکھتے ہیں تو وہ ہمارے کرکٹ بورڈ کے منہ پر ایک زوردار طمانچہ ہے کہ جس کھلاڑی کو تم نے اس لئے سلیکٹ نہیں کیا کہ وہ نہ تو سفارشی تھا نہ کسی سلیکٹر کا منظور نظر، نہ اس کی جیب میں کوئی پرچی تھی لہٰذا یہاں سے تو وہ مایوس ہو گیا مگر اپنے کھیل سے وہ بہت پرامین تھا لہٰذا ہمت مرداں مدد خدا اس نے زمبابوے جا کر قسمت آزمائی کی اور پھر اللہ تعالیٰ نے جس کو عزت دینی ہو تو وہ دنیا کے کسی بھی خطے میں دے سکتا ہے۔ زمبابوے کی ٹیم میں سلیکٹ ہوتا ہے اور پھر اپنی سلیکشن کا اس نے پورا تول دیا اور کپتانی کا تاج سر پر سجا بیٹھا۔ اس کے باوجود اس کو اپنے وطن سے کتنی محبت ہے اس کا اندازہ لندن سے لاہور تک کے سفر سے لگا لیا ہو گا… زمبابوے کی T-20کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سکندر رضا نے لاہور قلندر کو اپنی غیر معمولی پرفارمنس سے ناصرف اس کو فتح دلوائی بلکہ اس نے خود کو دنیائے کرکٹ کے بہترین آل رائونڈرز کی فہرست میں لاکھڑا کیا۔ کرکٹر بننے سے پہلے اس کی خواہش تھی کہ وہ ایئرفورس میں پائلٹ بنے گا۔ سیالکوٹ کی دھرتی کا یہ سپوت جس کے والد گاڑیوں کا کاروبار کرتے ہیں انہوں نے بیٹے کے شوق کو پروان چڑھانے کے لئے اس کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالی۔ یوں سیالکوٹ کی گلیوں سے کرکٹ شروع کرنے والے سکندر رضا نے یہ طے کر رکھا تھا کہ وہ دنیا کو کھیلے گا۔ اسی دوران سکندر رضا تعلیم حاصل کرنے سکاٹ لینڈ چلا گیا۔ وہاں سے سکندر رضا نے سافٹ ویئر انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ وہ 2007ء میں زمبابوے کی کرکٹ ٹیم سے وابستہ ہو گیا اور 2013ء میں پاکستان کے خلاف ہرارے میں اپنی کرکٹ کی تاریخ کا پہلا باب لکھ ڈالا۔
2022ء میں اس کو زمبابوے کی T-20 کرکٹ ٹیم کا کپتان بنایا گیا اور زمبابوے کو پاکستان کے خلاف آسٹریلیا میں T-20ورلڈ کپ میں ایک رنز سے کامیابی دلائی۔ لاہور قلندرز میں شاندار پرفارمنس پر کرکٹ بورڈ کے اوپر سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ اس کھلاڑی کو تو پاکستان کی کرکٹ ٹیم کا حصہ ہونا چاہئے تھا تو ان کے لئے میرا ایک ہی جواب ہے کہ بنے بنائے کھلاڑیوں پر بھی ہم محنت نہیں کرتے یا یوں کہہ لیں کہ ہمارے سسٹم کو ایسے کھلاڑی سنبھالنے کا طریقہ ہی نہیں آتا اور نہ وہ عزت دیتے ہیں اور نہ ساتھ رکھنے کی صلاحیت۔ یہی بنیادی وجوہات ہیں کہ ہم سکندر رضا جیسے آل رائونڈر کھلاڑی سے محروم ہیں بہرحال ہم سکندر رضا کے جذبے، اس کے کھیل اور وطن سے اس کی محبت کو سلیوٹ کرتے ہیں۔
سکندر رضا … ہم شرمندہ ہیں
09:37 AM, 12 Jun, 2025