صحت کا بوسیدہ نظام،منشیات کا زہر

09:34 AM, 12 Jun, 2025

بحیثیت معاشرہ اور ملک ہم تنزلی کی آخری حدوںکو چھو رہے ہیں کسی بھی ایسے ملک یا معاشرے کو مثالی ملک یا معاشرہ کیسے کہا جاسکتا ہے جس میں مصیبت زدگان کو نہ صرف تنہا چھوڑ دیا جائے بلکہ انہیں انسان بھی نہ سمجھا جائے،پاکستان بھر میں صحت عامہ کے حوالے سے انتہائی تشویش ناک صورت حال ہے لوگ بیماری سے یوں بدکتے ہیں جیسے پولیس کو دیکھ کر شریف آدمی بدکتا اور خوف زدہ ہوتا ہے سرکاری ہسپتال بوچڑ خانوں کو منظر پیش کرتے ہیں ڈاکٹرز اور نرسز کے رویے مریضوں کے ساتھ غیر انسانی ہیں المیہ ملاحظہ کیجیے ڈاکٹرز کی مجرمانہ غفلت کی بنا پر اموات ہوتی ہیں یا ان کی وجہ سے کوئی مریض عمر بھر کے لئے معذور ہوجاتا ہے یا اس کے علاج میں کوتاہی برتی جاتی ہے ان کو معمول کی کارروائی قرار دے کر معمولات کو جاری رکھا جاتا ہے۔ پنجاب میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل و صوبائی ہیلتھ کیئر کمیشن نام کا ایک ادارہ بنایا گیا ہے جس کا کام صحت سے کھلواڑ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کے ساتھ صحت کے نظام کو درست کرنا اور میڈیکل نظام کو ریگولیٹ کرنا اور ڈاکٹرز ، کلینکس ، ہسپتالوں و تشخیصی لیبز وغیرہ کے خلاف سخت "لیگل ایکشن" لینا بتایا جاتا ہے لیکن کیا یہ محکمہ اپنے فرائض پورا کرتا دکھائی دیتا جس کا جواب نفی میں ہے ۔ 
سرکاری ہسپتالوں میں اگر مریضوں کا علاج انہیں ذلیل کئے بنا ہوتا اورہر یونین کونسل کی سطع پر سرکاری شفاخانے قائم کر دیئے جاتے تو ہیلتھ کیئر کمیشن کے اس عمل کو عوام الناس میں پذیرائی ضرور ملتی۔ گلی محلوں میں کھلنے والے اتائیوں کے کلینک کے پیچھے چھپی وجوہات تلاش کرنے کی کسی نے زحمت گوارہ کی؟ غربت کی چکی میں پسے لوگ نہ ہی مہنگا علاج کرا سکتے ہیں اور نہ سرکاری ہسپتالوں میں ذلیل و خوار ہونا چاہتے ہیںان کے لئے یہی کلینک کسی نعمت مترقبہ سے کم نہیں اسی طرح نشے کا شکار مریضوں کے لئے کھلی علاج گاہیں ہیں جہاں نشے کے مریضوں کو کچھ علاج معالجے کی سہولتیں میسر ہونے کے ساتھ جتنے دن وہ وہاں رہتے ہیںبندش ملتی ہے جس سے کچھ دن ان کے گھر والوں اور معاشرے کو سکون نصیب ہوتا ہے۔ اس بحث میں پڑے بغیر کہ یہاں کیسا علاج ہو رہا ہے سوال اس بات پر اٹھایا جانا چاہیے کہ حکومت اس ضمن میں کیا کر رہی ہے لاہور جیسے بڑے شہر میں جس کی آ بادی پونے دو کروڑ کے قریب ہے جہاں لاکھوں منشیات کے عادی افراد ہیں جن میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے کے لئے ایک بھی سرکاری شفاخانہ نہیں ہے مینٹل ہسپتال لاہور میں جو ایڈکشن وارڈ بنائی گئی ہے وہاں کس طرح کا علاج مہیا ہو رہا ہے اس سے عوام بہرحال بے خبر ہے۔ 
ایک خبر کے مطابق شہر کے پارکوں اور فٹ پاتھوں پر انجکشن اور ادویات کے ذریعے نشہ کرنے والے افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ دوسری جانب یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ پاکستان میں نشے کے عادی افراد کی تعداد تقریباً سات ملین سے زائد ہے ۔ ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال ڈھائی لاکھ افراد منشیات کے استعمال کے نتیجے میں موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔
پاکستان میں منشیات استعمال کرنے والے شہریوں کی تعداد کتنی ہے، اس بارے میں وفاقی یا صوبائی حکومتیں کوئی سالانہ اعداد و شمار جمع کرنے کے لیے کوئی ریسرچ نہیں کراتیں۔ اس سلسلے میں ایک بااعتماد ذریعہ اقوام متحدہ کا منشیات اور جرائم کی روک تھام کا دفتر ہے، جو یو این او ڈی سی کہلاتا ہے۔ اقوام متحدہ کا یہ دفتر بین الاقوامی سطح پر منشیات کے استعمال اور ان کی تجارت سے متعلق حقائق جمع کرتا ہے۔ UNODC کے کچھ عرصہ پہلے کے ڈیٹا کے مطابق پاکستان میں منشیات اور نشہ آور ادویات کا غیر قانونی استعمال کرنے والے افراد کی تعداد سڑسٹھ لاکھ سے زائد ہے، اور ان میں بھی سب سے بڑی تعداد پچیس سے لے کر انتالیس برس تک کی عمر کے افراد کی ہے۔ دوسرا سب سے بڑا گروپ پندرہ سال سے لے کر چوبیس سال تک کی عمر کے نوجوانوں کا ہے۔ ان قریب سات ملین افراد میں سے بیالیس لاکھ ایسے ہیں، جو مکمل طور پر نشے کے عادی ہیں۔ ایک طرف قانون نافذ کرنے والے ادارے منشیات فرشوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے سے قاصر رہے ہیں تو دوسری جانب ان بد نصیبوں کے لئے کوئی علاج گاہ بھی نہیں ہے اور جوکلینک پرائیویٹ لوگ چلا رہے وہاں علاج اتنا مہنگا ہے کہ کوئی غریب آدمی افورڈ ہی نہیں کر سکتا ۔پاکستان میں منشیات کا استعمال کتنا بڑا مسئلہ ہے، اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں پچھلے دس سال میں دہشت گردی کے نتیجے میں قریب ساٹھ ہزار افراد مارے گئے اور ابھی ایک ڈیڑھ سال میں کرونا کی وجہ سے چند ہزار افراد کی ہلاکت ہوئیں لیکن اس سے چار گنا زیادہ تعداد میں پاکستان ہر سال منشیات کی وجہ سے انسانی ہلاکتیں دیکھنے میں آتی ہیں لیکن اس مسئلے کو کوئی بڑا مسئلہ سمجھا ہی نہیں جاتا اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہماری حکومتوں کے نزدیک انسانی جان کی کتنی اہمیت ہے ۔
 بتایا جاتا ہے کہ منشیات کی روک تھام کے محکمے اینٹی نارکوٹکس فورس کے زیر انتظام’’اسلام آباد، کراچی اور کوئٹہ میں ایسے بہت جدید علاج اور بحالی کے مراکز کام کر رہے ہیں، جہاں منشیات کے عادی مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ محکمہ سکولوں اور کالجوں میں زیادہ سے زیادہ آگہی کے لیے مختلف ورکشاپس اور سیمینارز کا اہتمام بھی کرتا ہے۔‘‘ لیکن حیرت ہے کہ نہ ہی ایسے کسی محکمے کے بارے عوام الناس کو آگاہی ہے اور نہ ہی منشیات استعمال کرنے والے افراد میں کمی واقع ہو رہی ہے ۔جبکہ پرائیویٹ کلینک کے ڈاکٹروں کے مطابق نشے کے عادی ایک مریض کے علاج پر کم سے کم پچیس ہزار سے ایک لاکھ روپے ماہانہ خرچ آتا ہے اور بحالی میں کم از کم بھی تین سے چار ماہ کا عرصہ لگتا ہے۔ لیکن اگر نشے کی عادت کے ساتھ ساتھ مریض کو دیگر نفسیاتی یا جسمانی مسائل کا سامنا بھی ہو، تو علاج کا دورانیہ خاصا لمبا ہو جاتا ہے۔
 یہ بھی المیہ ہے کہ منشیات کی فروخت سے منسلک گروہ اتنے طاقت ور اور فعال ہیں کہ کھلے عام فروخت ہو رہی ہوتی ہے، منشیات کی اس لعنت سے بڑوں کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بہت چھوٹے بچے بھی محفوظ نہیں۔ پاکستان میں تمام اقسام کی منشیات آ سانی دستیاب ہیں اور ان کی فراہمی گھروں تک با آسانی میسر ہے۔ منظم علاج معالجہ مفت نہ ہونے سے ہزاروں افراد منشیات سے چھٹکارہ حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔ ۔ حکومت پاکستان نے منشیات کے روک تھام کیلئے ہنگامی بنیادوں پر جلداقدامات نہ اٹھائے تو یہ زہر اس ملک کی نسلیں نگل جائے گا۔ ذہنی و جسمانی مفلوج نسلیں اس ملک پر بوجھ ہی نہیں بلکہ اس ملک کیلئے ناسور ثابت ہو رہی ہیں۔ منشیات کے خاتمے کیلئے عوام کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ منشیات کی لعنت سے چھٹکارا پانے کیلئے باقی ملکوں کی طرح پاکستانی قوم کو بھی باہمی قوت اور یکجہتی کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔

مزیدخبریں