مظلوم فلسطین نظروں سے اوجھل کیوں…؟؟؟

09:34 AM, 12 Jun, 2025

پاکستان کی جانب سے غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی ملک بدری کے خلاف انسانی حقوق کی تنظیموں اور صحافیوں کے تحفظ کے اداروں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے،ناروے کے دارالحکومت اوسلو سے 28 مئی کو جاری کردہ ایک مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان حکومت کا یہ اقدام ان افغان شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہا ہے جو طالبان حکومت کے دور میں مذہبی، سماجی اور صحافتی آزادی کیلئے جدوجہد کرتے رہے ہیں انسانی حقوق کے ان نام نہاد ٹھیکیداروں کو شائد یہ معلوم نہیں کہ پاکستان میں افغان مہاجرین کی مجموعی تعداد چوالیس لاکھ ہے، ان میں سے 17 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین غیر قانونی طور پر مقیم ہیں اور ان کے پاس قانونی دستاویزات موجود نہیں ہیں اور پاکستان نے مہمان نوازی کرتے ہوئے اپنے لوگوں کے حق پر ڈاکہ ڈالا اورافغانیوں کو پناہ دی اور اس کے بدلے جرائم بڑھے منشیا ت کا کاروبار بڑھاسب سے بڑھ کر دہشت گردی پروان چڑھی ا س لئے غیر قانونی پناہ گزینوں کو واپس ان کے ملکوں میں بھیجنا جائز ہے، کوئی ملک بھی اپنی سرزمین پر غیر ملکیوں کی غیر قانونی آمد اور موجودگی قبول نہیں کرتا، پاکستان نے بھی یہ فیصلہ بین الاقوامی سطح پر جاری معمول کے مطابق فیصلہ کیا ہے جبکہ جتنے مسائل ہمارے لئے پیدا ہوئے وہ کسی کو نظر نہیں آتے ان این جی اوزکو تو یہ بھی نظر نہیں آتا کہ غزہ میں مسلمانوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے اور اسرائیل امریکی شہ پر ہر قاعدے قانو ن کو پائوں تلے روند رہا ہے اور تو اور اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے میں یورپی سفارتی وفد پر فائرنگ کردی، وفد ارکان نے بھاگ کر جان بچائی یورپی سفارتی وفد جنین کیمپ میں اسرائیلی آپریشن کی تباہ کاریوں کا معائنہ کرنے آیا تھا،بعد ازاں اسرائیلی فوج نے جنین میں غیر ملکی سفارت کاروں کے وفد پر فائرنگ سے متعلق بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ گولیاں وارننگ شاٹس کے طور پر چلائی گئیں کیونکہ وفد نے اپنی منظور شدہ راہ سے انحراف کرتے ہوئے ایک غیر مجاذ علاقے میں جانے کی کوشش کی تھی اگر یہی واقعہ کسی مسلم ملک میں ہوتا تو غیر ملکی میڈیاکی زبانیں ہی کنٹرول سے باہر ہو جانا تھیں لیکن واقعہ ایک صیہونی ملک میں ہوا ہے اس لئے امریکہ سمیت کسی نے بھی لب نہیں کھولے انسانی حقوق کے مامے امریکہ نے آج تک غزہ میں اسرائیلی مظالم کی مذمت تک نہیں کی جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ امریکہ مسلمانوں کا کتنا ہمدرد ہے دوسری جانب غزہ پر بھی اسرائیل کے وحشیانہ حملے جاری ہیں، اسرائیلی ناکہ بندی کے باعث 2 مارچ سے اب تک غذائی قلت سے بھی سیکڑوں فلسطینی شہید ہو گئے، اقوام متحدہ نے فوری خوراک نہ ملنے پر 14 ہزار بچوں کی اموات کا خدشہ ظاہر کردیاہے وکی لیکس کے بانی جولین اسانج نے فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کانز فلم فیسٹیول میں ہزاروں شہید فلسطینی بچوں کی ناموں والی ٹی شرٹ پہن کر شرکت کی جو کام مسلم ممالک کوکرنا چاہیے تھا وہ غیر ملکی کر رہے ہیں کیونکہ سعودیہ سمیت مسلم ممالک امریکہ کے پجاری ہیں جو ہر وقت اس کا دم بھرتے ہیں، ٹی شرٹ پر اسرائیلی حملوں میں شہید 5 ہزار کم سن بچوں کے نام پرنٹ تھے، عرب میڈیا کے مطابق اسانج کی ٹی شرٹ پر بڑے حروف میں اسرائیل کو روکو کی عبارت نمایاں تھی، برطانیہ میں سابق سپریم کورٹ ججز سمیت 828 وکلاء اور قانونی ماہرین نے اسرائیل پر غزہ جنگ کے باعث پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے قانونی ماہرین کی جانب سے برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر کو خط لکھ کر اسرائیل سے تجارتی معاہدے معطل کرنے اور اسرائیلی وزراء پر سفری پابندیاں لگانے کا مطالبہ کیا گیا ہے برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق خط میں اسرائیلی حملوں کو بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی اور فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت کی پامالی قرار دیا گیا ہے خط میں برطانوی حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ قتلِ عام روکنے کے لیے فوری اقدامات کرے اور عالمی فوجداری عدالت کے وارنٹس پر عمل درآمد کو یقینی بنائے،عرب ٹی وی کی ویب سائٹ کے مطابق غزہ میں شدت اختیار کرنے والے غذائی بحران پر قابو پانے کیلئے اسرائیل اور امریکا کی حمایت یافتہ نئی تنظیم غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن نے محدود امدادی مراکز قائم کیے جبکہ ان مراکز تک پہنچنے کیلئے ہزاروں بھوکے فلسطینیوں کو شدید گرمی میں طویل فاصلہ طے کرنا پڑا، بھوک سے تنگ افراد نے جی ایچ ایف نامی امدادی مراکز پر لگی رکاوٹیں توڑیں جس کے بعد فائرنگ ہوئی اور بھوک سے مرتے کئی فلسطینیوں کو بندوق کی گولیاں کھا کر بھی مرنا پڑا، اقوام متحدہ اور امدادی اداروں نے اسرائیل اور امریکا کی حمایت یافتہ نئی تنظیم امدادی تنظیم غزہ ہیومینیٹیرین فاؤنڈیشن پر امداد کو سیاسی مقاصد کیلیے استعمال کرنے اور انسانی اصولوں کی خلاف ورزی کا الزام لگایا ہے،یاد رہے کہ غزہ میں پانی، بجلی اور خوراک کی شدید قلت ہے، اقوام متحدہ کے مطابق 93 فیصد آبادی شدید غذائی قلت کا شکار ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے غزہ میں کیسے حالات ہونگے کہتے ہیں کہ ابھی انسانیت زندہ ہے ورنہ جو مظالم غزہ میں برپا ہے دنیا کا بچ جانا کسی معجزے سے کم نہیں اسی انسانی جذبے کے تحت یورپی چیمپئن ترک کنگ فو فائٹر نے فلسطین سے اظہار یکجہتی اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے تمغہ دریائے نیل میں پھینک دیا۔ ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ میرے حاصل 
کردہ تمام اعزازات، فلسطین کے مظلوموں کے ایک قطرے خون سے زیادہ قیمتی نہیں۔ آکیوز نے حال ہی میں یورپی کنگ فو چیمپئن شپ 2024ء میں طلائی تمغہ جیتا تھا واضح رہے کہ دسمبر 2023ء میں استنبول میں ہونے والی یورپی ووشو کنگ فو چیمپئن شپ کے دوران نجم الدین آکیوز نے فلسطینی پرچم لہرایا تھا، جس پر یورپی ووشو کنگ فو فیڈریشن نے سیاسی اظہار پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کیا ، فرانس میں بھی اسی طرح کے جذبات کے گئے جس میں غزہ میں اسرائیلی جارحیت کیخلاف احتجاج، فوارہ سرخ رنگ سے رنگ دیا گیا جبکہ فیڈریشن ایوارڈ کی تقریب کے دوران بعض کھلاڑیوں کی جانب سے سیاسی حرکات دیکھنے کو اصولوں کے منافی قرار دیا ہے اور فوری اقدامات کرتے ہوئے مذکورہ کھلاڑیوں سے ملاقات اور احتجاجی نوٹس دیئے گئے دوسری طرف نجم الدین آکیوز نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا میں اپنی اس حرکت پر فخر محسوس کرتا ہوں، مجھے کوئی پچھتاوا نہیں، اگر موقع ملا تو دوبارہ ایسا ہی کروں گا، آپ میرے تمغے چھین سکتے ہیں، سزا دے سکتے ہیں، مگر میں نے یہ قدم اپنے کیریئر کو داؤ پر لگا کر اٹھایا، دنیا بچوں کی نسل کشی پر کیوں خاموش ہے غزہ کی گلیاں خون سے رنگین ہیں یہ سب این جی اوز کو کیوں نظر نہیں آتا ؟؟؟۔

مزیدخبریں