ایران معاہدے پر راضی ہوا، ایک گھنٹے بعد آبنائے ہرمز میں ڈرون حملہ کر دیا: ٹرمپ

11:10 PM, 12 Jul, 2026

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہفتے کے روز ایک اہم معاہدے پر اتفاق ہو چکا تھا، لیکن مذاکرات کے اختتام کے فوراً بعد ایران نے آبنائے ہرمز میں ایک بحری جہاز کو ڈرون حملے کا نشانہ بنا دیا۔

امریکی نشریاتی ادارے این بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران مذاکرات کے دوران اپنے جوہری پروگرام سمیت دیگر اہم معاملات سے پیچھے ہٹنے پر رضامند ہو گیا تھا، جس کے نتیجے میں ایک مثبت معاہدہ طے پایا۔ تاہم ان کے مطابق مذاکرات ختم ہونے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد ہی ایران کی جانب سے ڈرون حملہ کیا گیا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس واقعے کے جواب میں امریکا نے اسی رات ایران پر فضائی حملے کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی کارروائی سخت اور فوری تھی، جبکہ انہوں نے ایرانی قیادت کو شدید تنقید کا نشانہ بھی بنایا۔

انہوں نے مزید کہا کہ تمام کشیدگی کے باوجود آبنائے ہرمز بین الاقوامی تجارتی جہازوں کے لیے کھلی ہوئی ہے اور وہاں بحری آمدورفت جاری ہے۔

انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے اپنے قریبی ساتھی اور ریپبلکن سینیٹر لنزے گراہم کی وفات پر بھی اظہارِ افسوس کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتقال سے چند گھنٹے قبل ان کی گراہم سے فون پر بات ہوئی تھی، وہ صرف تھکے ہوئے دکھائی دے رہے تھے اور ان کی اچانک موت غیر متوقع تھی۔

مزیدخبریں