یہ بہت آسان ہے کہ اپنی ناکامیوں کا ملبہ دوسروں پر ڈال دیا جائے۔ پی ٹی آئی کی حکومت کا یہ وتیرہ رہا ہے کہ عوام کی آنکھوں میں مسلسل دھول جھونکنے کی راہ اپنائی جائے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ بے یقینی کے بادل گہرے ہو چکے۔ عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ ہسپتالوں کی حالت ابتر ہے۔ مگر سہیل آفریدی اینڈ کمپنی اپنی ناکامیوں کا ملبہ وفاق پر ڈال رہی ہے۔ خیبر پختونخوا آج ایک ایسے تضاد کی تصویر بنا ہوا ہے جہاں وسائل کی فراوانی کے باوجود عوام بنیادی سہولیات کے لیے ترس رہے ہیں۔ یہ وہ صوبہ ہے جو مالی اعتبار سے وفاق پر سب سے زیادہ انحصار کرتا ہے، مگر اس کے باوجود ترقی کے اشاریوں میں مسلسل پسماندگی کا شکار ہے۔ سوال یہ نہیں کہ خیبر پختونخوا کو کتنا پیسہ ملا، اصل سوال یہ ہے کہ یہ پیسہ کہاں گیا اور کن ترجیحات کے تحت خرچ کیا گیا۔
اعداد و شمار واضح طور پر بتاتے ہیں کہ صوبے کی مجموعی آمدنی کا تقریباً 94 فیصد وفاقی وسائل سے آتا ہے۔ مالی سال 2025-26 میں خیبر پختونخوا کی کل آمدنی 2119 ارب روپے رکھی گئی، جس میں سے تقریباً 1990 ارب روپے وفاقی منتقلیوں پر مشتمل ہیں، جبکہ صوبے کی اپنی آمدنی صرف 129 ارب روپے ہے، جو مجموعی بجٹ کا محض 6 فیصد بنتی ہے۔ یہ صورتحال نہ صرف صوبائی حکومت کی ٹیکس وصولی میں ناکامی کو ظاہر کرتی ہے بلکہ مالی خودمختاری کے دعووں پر بھی سوالیہ نشان ہے۔
2018 میں سابقہ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کو ایک تاریخی قدم قرار دیا گیا تھا۔ اس موقع پر وعدہ کیا گیا کہ ضم شدہ اضلاع کو قومی دھارے میں لانے کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکیج دئیے جائیں گے۔ طے پایا تھا کہ 2018 سے 2025 تک ان علاقوں کو سالانہ 100 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے، تاہم عملی طور پر سرکاری ریکارڈ کے مطابق ان اضلاع کو ہر سال اوسطاً 168 ارب روپے ملے، جو وعدہ شدہ رقم سے کہیں زیادہ ہیں۔ اس کے باوجود اگر آج ان علاقوں کا دورہ کیا جائے تو ٹوٹی سڑکیں، ناکارہ سکول، بنیادی سہولیات سے محروم ہسپتال اور بے روزگاری کی مایوس کن تصویر سامنے آتی ہے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب وسائل مقررہ حد سے بھی زیادہ فراہم کیے گئے تو ترقی کیوں نہ ہو سکی؟ کیوں ضم شدہ اضلاع آج بھی احساسِ محرومی کا شکار ہیں؟ اس کا سیدھا سا جواب ناقص حکمرانی، غیر مو¿ثر منصوبہ بندی اور وسائل کے غیر شفاف استعمال میں پوشیدہ ہے۔ ان اضلاع میں ترقیاتی منصوبوں کا انتخاب عوامی ضرورت کے بجائے سیاسی مفادات کی بنیاد پر کیا گیا، جس کے نتیجے میں اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود زمینی حقائق تبدیل نہ ہو سکے۔
خیبر پختونخوا کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بدلے اضافی ایک فیصد حصہ بھی دیا جاتا رہا ہے، جو 2010 سے 2025 تک مجموعی طور پر تقریباً 700 ارب روپے بنتا ہے۔ یہ رقم صوبے میں امن و امان، بحالی اور انسانی ترقی پر خرچ ہونا تھی، مگر افسوس کہ اس خطیر رقم کے استعمال پر کوئی مو¿ثر عوامی آڈٹ موجود نہیں۔ اسمبلی میں اس پر سنجیدہ بحث ہوئی اور نہ ہی عوام کو بتایا گیا کہ یہ پیسہ کن منصوبوں پر اور کس حد تک خرچ ہوا۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ فی کس بجٹ کے اعتبار سے خیبر پختونخوا ملک کا سب سے زیادہ وسائل رکھنے والا صوبہ ہے۔ یہاں فی شہری تقریباً 52 ہزار روپے خرچ کیے جاتے ہیں، جبکہ پنجاب میں یہ رقم تقریباً 41,800 روپے ہے۔ اس کے باوجود خیبر پختونخوا کے انسانی ترقی کے اشاریے تشویشناک حد تک کمزور ہیں۔ صوبے میں خواندگی کی شرح صرف 55 فیصد ہے، ویکسینیشن کی کوریج 71 فیصد، صاف پینے کے پانی تک رسائی 82 فیصد اور ہسپتال کے بستروں کی دستیابی محض 0.5 فی ایک ہزار افراد ہے۔ یہ اعداد و شمار ثابت کرتے ہیں کہ زیادہ پیسہ خود بخود بہتر نتائج کی ضمانت نہیں ہوتا، اگر حکمرانی کمزور ہو۔
صوبائی حکومت کی توجہ عوامی فلاح کے بجائے زیادہ تر سیاسی بیانیہ سازی پر مرکوز رہی ہے۔ ہر ناکامی کا ملبہ وفاق پر ڈال دیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ وفاق سے ملنے والے وسائل کی مقدار کسی بھی دوسرے صوبے کے مقابلے میں کم نہیں بلکہ بعض پہلووں سے زیادہ ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان وسائل کو تعلیم، صحت، پانی، صفائی اور روزگار جیسے بنیادی شعبوں میں پائیدار انداز میں استعمال نہیں کیا گیا۔
خیبر پختونخوا میں ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے پر بھی سنجیدہ توجہ نہیں دی گئی۔ صوبے کی اپنی آمدنی بڑھانے کے بجائے ہر سال وفاق کی طرف دیکھنا آسان راستہ سمجھا گیا۔ نتیجتاً صوبائی ادارے کمزور ہوتے گئے اور مالی نظم و ضبط مزید بگڑتا چلا گیا۔ اگر صوبہ واقعی خودمختاری اور پائیدار ترقی چاہتا ہے تو اسے اپنی آمدنی بڑھانے، غیر ضروری اخراجات کم کرنے اور وسائل کے استعمال پر کڑی نگرانی یقینی بنانا ہو گی۔
سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ عوام کو یہ معلوم ہی نہیں کہ ان کے نام پر آنے والا پیسہ کہاں خرچ ہو رہا ہے۔ شفافیت کے فقدان نے بداعتمادی کو جنم دیا ہے، اور یہی بداعتمادی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ جب تک عوام کو اعتماد میں نہیں لیا جائے گا اور وسائل کے استعمال کا حساب نہیں دیا جائے گا، تب تک کسی بھی ترقیاتی منصوبے کے نتائج دیرپا نہیں ہو سکتے۔
خیبر پختونخوا کو اس وقت سیاسی نعروں سے زیادہ عملی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ مضبوط انتظامی نظام، شفاف آڈٹ، ڈیجیٹل گورننس، ٹیکس اصلاحات اور عوامی فلاح کو ترجیح دئیے بغیر یہ صوبہ اپنے وسیع مالی وسائل کو انسانی ترقی میں تبدیل نہیں کر سکتا۔ اصل سوال یہ نہیں کہ خیبر پختونخوا کو کتنا ملا، اصل سوال یہ ہے کہ اس نے اس سب کے باوجود عوام کو کیا دیا۔ جب تک اس سوال کا دیانتدارانہ جواب نہیں دیا جاتا، صوبے کی پسماندگی کا سلسلہ یونہی جاری رہے گا۔
پی ٹی آئی کے ہاتھوں صوبے کی بربادی!
09:05 AM, 12 Jan, 2026