ریڈ زون میں سور

09:03 AM, 12 Jan, 2026

پہلی دفعہ اسلام آباد آنے سے پیشتر میں نے کہیں پڑھا یا شاید کسی سے سُنا تھا کہ اس شہر میں سور یعنی خنزیر اچھی خاصی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ اس کے بعد زیادہ تو نہیں جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے دو دفعہ ایوانِ صدر میں مشاعرے میں شرکت کی غرض سے اور اس کے علاوہ پی ٹی وی کے مقبول شو ”کھوئے ہووں کی جستجو“ کی ریکارڈنگ کے سلسلے میں ایک دو بار استادِ محترم عطاءالحق قاسمی، شو کی میزبان فائزہ بخاری اور اس شو کے پروڈیوسر عمر خان کے ہمراہ بھی مختصر عرصے کے لئے اس شہر میں میرا آنا ہوا تھا۔ ظاہر ہے اس دوران میری اچھی خاصی مصروفیت رہی ہو گی لہٰذا ان دنوں اسلام آباد میں اپنے کام سے ہٹ کر اِدھر اُدھر کی سوچنے کی فرصت ملی اور نہ ہی کسی سور کو قریب یا دور سے دیکھنے کا کوئی موقع ملا۔ ممکن ہے اس وقت کہیں آتے جاتے راہ میں یا کہیں اور کسی خاص یا عام جگہ پر کوئی سور یا کسی سور کا بچہ موجود ہو مگر اللہ کے کرم اور قاسمی صاحب کی وجہ سے دستیاب وی آئی پی پروٹوکول کی وجہ سے اسلام آباد میں میرا کسی چھوٹے بڑے سور سے کبھی سامنے نہیں ہوا۔ ویسے تو سور کوئی ایسی ”شے“ نہیں کہ کوئی بھی ایک عام شخص خاص طور پر اسے دیکھنے یا ملنے کی خواہش کرے بھلے اُس سور کا تعلق اسلام آباد سے ہی کیوں نہ ہو۔ مگر وہ جو دل و دماغ کا ایک خلل بقول ہمارے دوست اکمل شہزاد گھمن کے اپنے تئیں میرے جیسے نام نہاد انقلابی کالم نگاروں کو ہوتا ہے ناں اس کا علاج سوائے کالے شیشوں والے ”ڈالے“ کے شاید کسی چارہ گر کے پاس نہیں ہے۔ باوجود اس کے کہ کتوں کے ساتھ ساتھ سور بھی مجھے کبھی اچھے نہیں لگتے ماضی بعید میں اسلام آباد میں سوروں کی موجودگی کے حوالے سے سنی سنائی روایت کو لے کر میرے دل و دماغ کے کسی نہاں گوشے میں کہیں نہ کہیں کسی سور کو دور یا قریب سے دیکھنے کی خواہش ضرور موجود تھی۔ خاص طور پر جب سے میرا ٹرانسفر اسلام آباد میں ہوا ہے اسلام آباد میں سور دیکھنے کا میرا سسپنس زور پکڑ گیا ہے۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ آفس سے واپسی پر بحریہ انکلیو کے راستے میں میری راہ میں بنی گالہ بھی آتا ہے تو میرا گمان تھا کہ یہاں تو ضرور کسی نہ کسی سور سے میرا سامنا ہو گا کیونکہ یہ جگہ شہر سے ہٹ کر اچھی خاصی ویران ہے یا پھر شاید اب ویران ہو گئی ہے۔ مگر کیا ہے کہ باوجود خواہش کے گذشتہ ساڑھے تین ماہ سے جب سے میں لاہور سے ٹرانسفر ہو کے اپنے ادارے کے صدر دفتر اسلام آباد منتقل ہوا ہوں ابھی تک میرا کسی سور سے براہ راست آمنا سامنا نہیں ہوا یا پھر اپنی کم علمی کی وجہ سے میں سور کو ٹھیک سے شناخت نہیں کر پایا۔ اس کی ایک وجہ شاید یہ ہو کہ میرا زیادہ تر وقت اسلام آباد کے ریڈ زون ایریا میں گزرتا ہے جہاں میرا دفتر واقع ہے۔ لہٰذا اس ایریا کی حساسیت کے حوالے سے میرے ذہن میں ایک بات یہ بھی تھی کہ اس ایریا میں کسی سور کی آمد ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہو گی۔ اس لئے کہ ریڈ زون وفاقی دارالحکومت کا وہ حساس ترین علاقہ ہے جہاں پارلیمنٹ ہا¶س، سپریم کورٹ، ایوانِ صدر، وزیراعظم ہا¶س اور دیگر اہم سرکاری عمارتیں واقع ہیں۔ اس اہم علاقے کی حفاظت کے لئے سخت چیکنگ، متعدد ناکوں اور خار دار باڑوں کے ساتھ چوبیس گھنٹے نگرانی کا ایسا کڑا نظام موجود ہے جس میں بغیر کسی جانچ پڑتال کے کسی عام انسان کا داخلہ تو دور کی بات ہے چڑیا کا بچہ بھی پر نہیں مار سکتا۔ مگر میری یہ خام خیالی یا خوش فہمی اس وقت ہوا ہو گئی جب گذشتہ دنوں اسلام آباد کے اس حساس ترین علاقے یعنی ریڈزون میں کہیں سے اچانک ایک سور بغیر کسی روک ٹوک کے داخل ہو گیا۔ میرا اس ریڈ زون سے چونکہ اب براہ راست ایک تعلق ہے اس لئے اس علاقے میں اس سور کی اس طرح آمد سے میری حیرانی اور پریشانی تو اپنی جگہ لیکن کسی سور کے اس طرح اس اہم علاقے میں داخل ہونے کے عجیب و غریب واقعہ نے عام شہریوں کے ساتھ سکیورٹی اداروں کو بھی حیرت میں 
ڈال دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ویڈیوز اور تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس حساس علاقے میں تمام تر حفاظتی اقدامات کے باوجود دن دیہاڑے کیسے ایک سور یا خنزیر پوری آزادی سے گھومتا پھرتا بلکہ دندناتا رہا۔ ریڈ زون تک کسی بھی جنگلی جانور کا اتنی آسانی سے پہنچ جانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یا تو سکیورٹی میں کہیں نہ کہیں کوئی خلا موجود ہے جو غیر معمولی اور تشویشناک امر ہے جس پر فوری تحقیقات کی ضرورت ہے۔ گو واقعہ کے بعد متعلقہ اداروں نے سور کو قابو میں لے کر علاقے سے منتقل کر دیا تاہم تاحال اس بارے میں کوئی واضح بیان سامنے نہیں آیا کہ وہ سور ریڈ زون میں داخل کیسے ہوا اور کیا ریڈ زون سے پکڑا جانے والا وہ ایک ہی سور تھا یا اس حساس ایریا میں کسی اور مقام پر ممکنہ طور پر کچھ اور بھی سور موجود ہو سکتے ہیں۔ اسلام آباد میں کسی سور کو قریب یا دور سے دیکھنے کا میرا ذاتی شوق اپنی جگہ مگر دیگر پاکستانیوں کی طرح ایک محب وطن شہری کے طور پر اس ناخوشگوار واقعہ کو لے کر میرے ذہن میں بھی طرح طرح کے خدشات ہیں جس کا ازالہ ضروری ہے۔ میری ذاتی رائے میں یہ واقعہ ایک علامتی وارننگ بھی ہو سکتا ہے لہٰذا اس واقعہ کے پیچھے سازشی پہلوﺅں کو مدنظر رکھ کر وفاقی دارالحکومت کے ریڈ زون ایریا میں صرف سور یا خنزیر نہیں بلکہ کسی بھی قسم کے جنگلی جانوروں کی نقل و حرکت کو سنجیدگی سے لینا ہو گا تاکہ دارالحکومت کے انتہائی حساس علاقے کی تعظیم اور حفاظت کو ہر لحاظ سے یقینی بنایا جا سکے۔ دیگر شہری حلقوں کے ساتھ میرا بھی یہ پُر زور مطالبہ ہے کہ نہ صرف اس واقعے کی مکمل اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کی جائیں بلکہ مستقل بنیادوں پر ایسے م¶ثر اقدامات بھی کیے جائیں کہ آئندہ کوئی سور یا خنزیر کا بچہ وفاقی دارالحکومت کے ریڈ زون میں داخل ہونے کی جرا¿ت نہ کر سکے۔ واضح رہے کہ 1959ءمیں جب ایوب خان کی حکومت کو اسلام آباد شہر بسانے کا خیال آیا تھا تو اس وقت یہ فیصلہ ہوا تھا کہ ہر قسم کے سوروں سے پاک اس نئی بستی میں خوابوں کا ایک ایسا خوبصورت، صاف ستھرا، پُرامن اور محفوظ شہر بسایا جائے گا جو قومی امنگوں کا آئینہ اور نظم و ضبط کی علامت کے ساتھ ریاست کی سنجیدگی کا مظہر بھی ہو گا۔

مزیدخبریں