مطالعہ، لکھائی اور نئی زبانیں دماغی تنزلی سے بچانے میں مددگار

07:09 PM, 12 Feb, 2026

واشنگٹن:  امریکا کی ایک نئی طبی تحقیق کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ دماغی صلاحیت کو برقرار رکھنے کے لیے مطالعہ کرنا، لکھنا یا نئی زبان سیکھنا انتہائی مفید ہے۔ یہ عادتیں الزائمر اور دیگر دماغی کمزوریوں کے خطرے کو کافی حد تک کم کر سکتی ہیں۔

رش یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کے محققین نے 1,939 افراد کا مطالعہ کیا، جن کی اوسط عمر 80 سال تھی اور شروع میں کوئی بھی دماغی بیماری کا شکار نہیں تھا۔ ان افراد کی ذہنی صحت کو آٹھ سال تک ٹریک کیا گیا اور ان کے روزمرہ کے ذہنی مشاغل کا جائزہ لیا گیا۔

تحقیق میں نوجوانی اور درمیانی عمر کے دوران مطالعہ، لکھائی اور نئی زبان سیکھنے کی سرگرمیوں میں دلچسپی کو بھی دیکھا گیا۔ نتائج میں سامنے آیا کہ تحقیق کے آخر تک 551 افراد میں الزائمر کی تشخیص ہوئی جبکہ 719 افراد میں معمولی دماغی کمزوری ریکارڈ کی گئی۔

محققین نے پایا کہ اگر زندگی بھر دماغی مشاغل جیسے مطالعہ، لکھنا اور نئی زبان سیکھنے کو معمول بنایا جائے تو ڈیمینشیا کے خطرے میں 38 فیصد اور معمولی دماغی کمزوری کے خطرے میں 36 فیصد کمی آ سکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر عمر میں دماغ کو سرگرم رکھنے والی عادات اپنانا ذہنی صحت کو برقرار رکھنے اور دماغی تنزلی سے بچاؤ کے لیے نہایت اہم ہے۔

مزیدخبریں