سپریم کورٹ کی بانی پی ٹی آئی کو آنکھوں کے ماہر ڈاکٹرز تک رسائی کی ہدایت ، بچوں سے ٹیلیفونک رابطوں کا حکم جاری

10:56 AM, 12 Feb, 2026

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے عمران خان کے خلاف توشہ خانہ فوجداری کیس کے ٹرائل پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے اور ان کی صحت سے متعلق کیس پر بھی اہم احکامات جاری کیے ہیں۔ عدالت نے عمران خان کو 16 فروری سے پہلے اپنی آنکھ کا معائنہ کروانے اور اپنے بچوں سے فون پر بات کرنے کی اجازت دی۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال پر مشتمل دو رکنی بینچ نے عمران خان کی جیل میں حالت اور فراہم کی جانے والی سہولتوں پر کیس کی سماعت کی۔ بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت میں رپورٹ پیش کی جس میں عمران خان نے جیل میں حفاظتی اقدامات اور کھانے پینے کی سہولتوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ صحت کے معاملے پر حکومت کا موقف جاننا ضروری ہے اور اس پر مناسب فیصلہ دیا جائے گا۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ قیدیوں کو مناسب صحت کی سہولت فراہم کرے، اور اگر قیدی مطمئن نہ ہوں تو ریاست اقدامات کرے۔ عدالت نے یقین دہانی کرائی کہ تمام ہدایات پر عمل کیا جائے گا۔

سپریم کورٹ نے عمران خان کی آنکھ کا معائنہ 16 فروری سے پہلے کرانے کا حکم دیا اور ان کے بچوں سے بات کرنے کی اجازت بھی دی۔ تاہم، سلمان صفدر کی درخواست پر عدالت نے کہا کہ طبی معائنہ فیملی ممبر کی موجودگی میں نہیں ہوگا۔ ساتھ ہی اگر ڈاکٹرز نے کتابیں پڑھنے کا مشورہ دیا تو وہ فراہم کی جائیں گی۔

مزیدخبریں