صدر آصف علی زرداری کا تشدد پر مبنی انتہا پسندی کی روک تھام کے عالمی دن پر پیغام

12:51 PM, 12 Feb, 2026

اسلام آباد : پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے تشدد پر مبنی انتہا پسندی کی روک تھام کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر امن، برداشت اور باہمی احترام کے اصولوں کو فروغ دینے کے لیے پُرعزم ہے اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ کشمیر اور فلسطین میں انسانی حقوق کا احترام کرے۔

انہوں نے کہا کہ انتہا پسندی انسانیت کے خلاف سنگین جرم ہے اور اس کے بنیادی اسباب کا خاتمہ ضروری ہے۔ پاکستان اقوامِ متحدہ کے انسدادِ تشدد کنونشن کی پیروی کرتا ہے اور 2024 کی قومی پالیسی کے ذریعے اس کے سدباب کے لیے حکمتِ عملی اپنائی جا رہی ہے۔

صدر زرداری نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی انتہا پسندی کے خلاف پالیسی انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام اور عالمی انسانی حقوق کا اعلامیہ انسانیت کے لیے احترام، مساوات اور برداشت کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔

انہوں نے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دی گئی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار امن کے لیے تعلیم، مکالمہ اور سماجی ہم آہنگی ضروری ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے قانونی اصلاحات اور ادارہ جاتی مضبوطی کے ذریعے انتہا پسندی کے خلاف مؤثر اقدامات کی اہمیت پر زور دیا۔

صدر نے کشمیر اور فلسطین میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے کہا کہ وہ ان مسائل پر مزید توجہ دے اور مشترکہ ذمہ داری کے تحت تعاون کرے۔ انہوں نے انتہا پسندی کے خلاف جدوجہد میں مذہب یا ثقافت کو بدنام نہ کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ نوجوانوں کو بااختیار بنانا اس کا حل ہے۔آخر میں، صدر زرداری نے کہا کہ ہمیں ایک ایسی دنیا بنانی ہے جہاں نفرت کی جگہ امید ہو، تشدد کی جگہ امن ہو اور تقسیم کی جگہ مکالمہ ہے۔

مزیدخبریں