شاید تاریخ کے کسی سنگ دل موڑ پر کچھ قوموں کے نصیب میں یہ لکھ دیا جاتا ہے کہ ان کے دکھ کبھی مکمل نہیں ہوں گے، اُن کے زخم بھرنے سے پہلے ہی نئے زخموں کی کاٹ ان کی رگوں میں اترتی رہے گی اور اُن کی زندگیاں مسلسل آزمائش کی اس بھٹی میں جلتی رہیں گی جہاں آنسو بھی سوکھنے سے پہلے راکھ ہو جاتے ہیں۔ افغانستان آج اسی المیے کا نام ہے۔ ایک ایسی سرزمین جہاں دکھ کسی حادثے کی طرح وارد نہیں ہوتا بلکہ سانسوں کے ساتھ جیتا ہے۔ یہاں امن کوئی ٹھوس حقیقت نہیں، ایک دھندلا سا خواب ہے۔ سکون ایک قصہ ہے جو بزرگوں کی یادداشت میں کہیں دفن ہو چکا ہے۔ زندگی یہاں صرف جینے کا نام نہیں رہی، محض سانسیں گننے کی مشق بن گئی ہے۔
گزشتہ نصف صدی کی اکھاڑ پچھاڑ نے اس قوم کو اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے جہاں انسان صرف حالات سے نہیں لڑتا، اپنی شناخت سے بھی برسرپیکار رہتا ہے۔ یہاں لوگ بھیس بدل کر جیتے ہیں، نام بدل کر، چہرے چھپا کر اور امیدیں دبا کر زندگی تلاش کرتے ہیں۔ مگر اس سب کے باوجود زندگی کے اصل معنی ہاتھ نہیں آتے۔ جیسے کوئی پیاسا سراب کے پیچھے دوڑتا رہے اور ہر موڑ پر ریت ہی اس کا مقدر ٹھہرے۔
افغانستان کی تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو اس کا ہر صفحہ جنگوں کی گرد میں اٹا ہوا نظر آتا ہے۔ سوویت یلغار کے بوٹوں کی دھمک، خانہ جنگی کی اندھی گولیاں، طالبان کا پہلا دور، امریکی مداخلت کے مہیب سائے اور پھر ایک بار پھر وہی طالبان، وہی سخت گیر تعبیر اور وہی تنگ نظر نظام۔ ہر عہد نے اس سرزمین کے جسم پر زخم لگائے اور ہر زخم نے اس کے شعور میں ایک مستقل دراڑ ڈال دی۔ بستیاں اجڑ گئیں، شہر ویران ہوگئے، مگر اس سے بھی بڑھ کر ذہنوں کی بستیوں پر ویرانی اتر آئی۔ آج افغانستان میں ایک پوری نسل ایسی سانس لے رہی ہے جس نے امن کا کوئی دن نہیں دیکھا، جس نے اسکول کی گھنٹی سے زیادہ گولیوں کی ترتڑاہٹ سنی ہے، جس کے لیے مستقبل ہمیشہ ایک دھندلا سا نقشہ رہا ہے اور جس پر کوئی واضح لکیر نہیں کھنچی۔
ایسے ہی ماحول میں ہلمند کی تیرہ سالہ نوریہ کی کہانی سامنے آتی ہے۔ یہ ایک خبر نہیں، ایک عہد کا نوحہ ہے۔ ایک ایسی بچی جس کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ گیا اور جس کے نازک کندھوں پر غربت نے وہ بوجھ رکھ دیا جو عمر بھر کے مرد بھی اٹھاتے ہوئے کانپ جائیں۔ جس عمر میں آنکھوں میں خواب پلتے ہیں، اس عمر میں نوریہ کو زندگی کا حساب کتاب سیکھنا پڑا۔ اس نے اپنا نام بدل کر نور احمد رکھ لیا، مردانہ لباس پہن لیا اور تین برس تک ایک کیفے میں کام کرتی رہی۔ اس لیے نہیں کہ وہ بغاوت کرنا چاہتی تھی، اس لیے نہیں کہ وہ کسی نظام کو چیلنج کرنا چاہتی تھی، بلکہ صرف اس لیے کہ اس کے گھر کا چولہا بجھ نہ جائے۔ اس نے کوئی جرم نہیں کیا، اس نے صرف زندہ رہنے کی کوشش کی مگر افغانستان میں عورت کا زندہ رہنا بھی اکثر ایک ناقابل معافی جرم ٹھہرتا ہے۔
نوریہ کی گرفتاری دراصل ایک فرد کی نہیں، ایک پورے نظام کی تصویر ہے۔ ایک ایسا نظام جو اصولوں کے نام پر کمزوروں کو روند دیتا ہے، مگر ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے سے گریز کرتا ہے۔ طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد عورت کی زندگی پر جو قدغنیں لگیں، ان کا سب سے پہلا اور سب سے گہرا وار عام افغان عورت پر پڑا۔ تعلیم کے دروازے بند ہوئے، روزگار کے راستے مسدود کیے گئے، سرکاری اور نجی شعبوں سے ہزاروں خواتین کو ایک ہی جھٹکے میں باہر نکال دیا گیا۔ یوں لاکھوں گھروں کی معاشی بنیادیں ہل گئیں، مگر اس سب کے ساتھ کوئی متبادل نظام نہ دیا گیا، کوئی سماجی سہارا فراہم نہ کیا گیا۔ کسی نے یہ نہیں بتایا کہ اگر عورت نہیں کمائے گی تو اس کے بچے کیا کھائیں گے، اس کے گھر کی دیواریں کیسے قائم رہیں گی؟
یہی وہ خلا ہے جہاں نوریہ جیسی کہانیاں جنم لیتی ہیں۔ جب ریاست عورت سے کہتی ہے کہ وہ کام نہیں کر سکتی، مگر یہ نہیں بتاتی کہ وہ بھوکی کیسے نہیں رہے گی؟ جب اخلاقیات کے نام پر پابندیاں تو لگائی جاتی ہیں، مگر اخلاقی ذمہ داری قبول نہیں کی جاتی۔ اگر عورت کا کام کرنا جرم ہے تو پھر یہ بھی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ اس کے کسی شہری کو بھوک کی سزا نہ ملے ، کہ کوئی بچی اپنی شناخت چھپانے پر مجبور نہ ہو، کہ کوئی عورت غربت کے خوف سے اپنے وجود کو داؤ پر نہ لگائے۔ مگر افغانستان میں جرم بھوک نہیں، جرم بھوک سے لڑنے کی جسارت ہے۔
افغان معاشرہ اس وقت ایک گہرے نفسیاتی اور سماجی بحران میں گھرا ہوا ہے۔ جنگوں نے لوگوں کو بے حس بنا دیا ہے اور جبر نے خاموش۔ عورتیں گھروں میں قید ہیں، مرد خوف اور بے بسی کے درمیان معلق اور بچے ایک ایسے مستقبل کی طرف دیکھ رہے ہیں جس کی تصویر ادھوری اور دھندلی ہے۔ نوریہ کا مردانہ لباس محض ایک بچی کی مجبوری نہیں، یہ اس معاشرتی سانحے کی علامت ہے جہاں عورت کو عورت ہونے کی سزا دی جاتی ہے۔ جہاں شناخت چھپانا بقا کی شرط بن چکا ہے۔
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ایسے واقعات پر عالمی ردعمل عموماً عارضی ہوتا ہے۔ چند دن سوشل میڈیا پر شور اٹھتا ہے، بیانات کی گرد اڑتی ہے، پھر خاموشی چھا جاتی ہے۔ مگر افغانستان میں نوریہ جیسی کہانیاں ہر روز جنم لیتی ہیں لیکن ہر دکھ خبر نہیں بنتا اور ہر آنسو کیمرے کی آنکھ تک نہیں پہنچتا۔ اکثر یہ المیے بغیر کسی گواہ کے اور بغیر کسی داد رسی کے اندھیروں میں دفن ہو جاتے ہیں۔
نوریہ کی گرفتاری صرف ایک بچی کی گرفتاری نہیں، یہ ایک پورے نظام کی گرفت ہے۔ ایک ایسے نظام کی جو انسان کو اس کی بنیادی ضرورتوں سے محروم کر کے پھر اس کی مجبوری کو جرم قرار دیتا ہے۔جب ایک تیرہ سالہ بچی کو کام کرنے پر سزا ملے تو دراصل وہ پورا معاشرہ سزا کاٹ رہا ہوتا ہے۔ یہ سزا صرف آج کی نہیں، آنے والی نسلوں کی بھی ہے کیونکہ جو معاشرہ اپنی بچیوں کو خواب دیکھنے کی اجازت نہیں دیتا، وہ اپنے مستقبل سے خود دستبردار ہو جاتا ہے۔ افغانستان کا اصل المیہ یہی ہے کہ یہاں دکھ کسی ایک واقعے کا نام نہیں، ایک مسلسل داستان ہے۔
نوریہ سے نور احمد اور افغانستان!
09:11 AM, 12 Feb, 2026