چترانت ریاست پنجاب ’’بسنت‘‘ ویل ڈن مریم نواز

09:09 AM, 12 Feb, 2026

پنجاب اپنی مائوں، بہنوں اور بیٹیوں کی ’’چھترچھاں‘‘ میں خوب پھل پھول رہا ہے کہ پرورش کا عمل عورت سے بہتر کوئی نہیں کر سکتا۔
ستھرا پنجاب بھی ایک نفیس عورت ہی کا خیال ہے شاعر تو کہتے تھے پرندوں کو حکومت دے دو لیکن اتنا تو ممکن ہے کہ خواتین کو حکومت دینے سے وطن میں کتنا نفیس جرائم سے پاک صاف ستھرا معاشرہ اور ماحول تشکیل پاتا ہے۔
گزشتہ کئی برسوں سے پنجاب پر دہشت، آزردگی اور اُداسی کے بادل چھائے تھے جسے ایک خوبرو خاتون حکمران نے اپنے چہرے ہی کی طرح کا دلکش بنا دیا ہے۔
یہ سچ ہے حسن بجائے خود روشنی ہے اور مریم نواز کے مثبت جگمگاتے ہوئے چہرے کی برکت سے پورے پنجاب میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
اس وقت باقی پراجیکٹس کو اگر زیربحث نہ بھی لایا جائے تو جو خوشی پنجاب کے Gen-Z جین زی۔ کو ان کی ماں جی ہستی نے ’’بسنت‘‘ کی صورت میں فراہم کی ہے اس کا کوئی توڑ ہی نہیں کہ گزشتہ حکومت نے انہیں ڈر خوف، بدتہذیبی، بدتمیزی یا پھر مکسڈ رقص جیسے ثقافت سے متصادم تحفے ہی دیئے تھے۔ جبکہ مریم نواز نے ایک ایسا صاف ستھرا پنجاب کا ثقافتی اور رونقی تہوار پنجاب والوں کو دو دہائیوں بعد فراہم کیا ہے جس میں لڑکیاں لڑکے نہیں پوری پوری فیملی اپنے دادا دادیوں کے ساتھ گنگناتے، ببلیاں مارتے، پتنگیں اُڑاتے، ہنستے کھیلتے اپنی جڑوں سے جڑے پنجاب میں خوب خوش ہو تین دن اور تین راتیں میرے سمیت سب کی چھتوں پر ہی گزریں۔ جگہ جگہ عزیزوں، دوستوں اور سرکاری سطح پر منائی جانے والی بسنت میلوں میں شرکت کی سب سے بڑا میلہ دہلی گیٹ کی دلکش عمارتوں کی چھتوں پر لگا جہاں تین دن عظمیٰ بخاری پنجاب کی انفارمیشن منسٹر مسلسل عوام فنکار صحافیوں اور احباب کے لئے بغیر تھکے ’’بوکاٹا‘‘ پرجوش نعرے اور مسکراہٹیں، قہقہے رونقیں میسر کرتی رہیں ہر ایک سے اخلاق سے بات خواتین سے محبت سے مصافحہ یہ ہے پی ایم ایل این کی خواتین کا خوبصورت چہرہ۔ عظمیٰ بخاری کے خوشگوار چہرے اور کھلی ڈُلی منافقت سے پاک نوجوان وزیر کے لئے مجھے اپنا پنجابی شعر یاد آرہا ہے۔
کھل کے وردا۔۔۔۔ مکھڑے کے۔
غصہ وی جد آوے
روندے روندے ہس پیندی اے
دل وی ہالاں ورگا
مریم اورنگ زیب نے بھی پہلی مرتبہ پنجاب کے ایسے جلوے دیکھے جیسے اور سودوزیاں کے حساب لگانے والے بہت زیادہ خشک لکھاری موجود ہیں میں معاشرے میں حسن دیکھتی ہوں اسے سراہتی ہوں حسن معاشرے کو جینے کے قابل بناتا ہے۔
بسنت کی برکتیں ملاحظہ کریں چوبیس گھنٹے ٹائی سوٹ پروٹو کول میں رہنے والی افسران کی شہادت کی انگلیوں پر قلم کی بجائے ’’ٹیپ‘‘ لگ گئی سب افسران تو بعد میں بنے اندر سے تو لڑکے ہی تھے۔
جون ایلیا کا شعر سیکرٹری انفارمیشن طاہر رضا ہمدانی صاحب کے لئے۔
سال ہا سال اور اک لمحہ
کوئی بھی تو نہ ان میں بل آیا
خود ہی اک در پہ میں نے دستک دی
خود ہی لڑکا سا میں نکل آیا
چیف سیکرٹری پنجاب بھی بسنت کے رنگ کے احترام میں پیلی ٹی شرٹ میں تھے خواتین نے پہلے کپڑے پہنے تو اس کی توجہ بھی سن لیں۔
’’پھولی ہے سرسوں بکھرے خوشی کے رنگ سجنا۔۔۔۔‘‘
زرد رنگ سرسوں جب پھولتی ہے تو چہرے خوشیوں کی آمد پر سرخ ہو جاتے ہیں۔
اندازہ تو تھا کہ پنجابی اپنی دھرتی ماں سے کس قدر انسیت رکھتے ہیں مگر بسنت پر نہایت خاموش طبع سنجیدہ عناصر کو بھی پتنگیں اڑاتے دیکھا کہ کلچر سے محبت ہی سنجیدگی ہے دراصل جو لوگ اپنی جڑوں سے محبت نہیں کرتے وہ اُکھڑ جاتے ہیں کبھی تناور نہیں ہو سکتا۔
وہ تہوار کتنا دلکش ہو گا جس میں اسی سال کا بھائی پتنگ اڑا رہا اور ستر سال کا چھوٹا بھائی پیچھے ’’پِنا‘‘ پکڑے مؤدب کھڑا ہو جہاں ستر سال کی دادی نہ صرف ’’تناویں‘‘ ڈال کر دے رہی ہے بلکہ ’’تنکا‘‘ مارنا پتنگ کاٹنا ڈھیل دینا ’’تاوا‘‘ نکالنا پوتوں کو نہ صرف سکھا رہی ہے بلکہ خود بھی پتنگ اڑا رہی ہوں۔
کبھی کوئی پوچھتا ہے کہ سچی خوشی کسے کہتے ہیں؟ تو لفظوں میں تو اب کا جواب دیا مگر اگر مجھے تصویریں یا ویڈیو کا منظر دکھائے ہوتے تو میں پوری شاعری کے عوض پنجاب کی چھتوں پر اُڑتے پیلے دوپٹے، رنگین پتنگیں، دلکش گڈے، مانجھے ڈوریں اور ’’لائوڈ‘‘ پنجابیوں کا شور سناتی یہ ہے سچی خوشی جو کروڑوں کے اکائونٹ میں نہیں (اربوں تک میری سوچ اور دماغ کام نہیں کرتا) ایک گڈی ڈور اور اپنوں کے ہجوم میں ہے۔ 
لوگ کہیں کہ گڈی چند سوکی ہے تو ڈور لوٹنے والے ’’ٹانگھوں‘‘ (بانسوں) والوں کی خوشی بھی یقینی ہے اس قدر محفوظ بسنت آرگنائز کرنا مریم نواز کے علاوہ کسی کا کام نہیں تھا ظاہر ہے کہ ان کے پیچھے نوازشریف کے آئیڈیاز ہوتے ہیں وہ بھی پکے لاہوری ہیں اس فیسٹیول کو جانفشانی سے منعقد Implement یا ایگزیکیوٹ کرنا جہاں اداروں کا کام تھا وہاں حوصلہ، ہمت، ہلہ شیری عظمیٰ بخاری صاحبہ کی تھی اس سارے معرکہ میں ان کے شوہر سمیع اللہ خان کو فراموش نہیں کیا جا سکتا جو کم از کم دہلی گیٹ کے فاتح بسنت تھے باقی بسنت تو شاہدرہ کے لڑکوں نے ہی لوٹنی تھی سو میلہ لوٹ لیا۔

مزیدخبریں