ایک وقت تھا جب میں مختلف ٹیلی وژن چینلز پر بطور تجزیہ نگار اور مبصر پینل کا حصہ ہوا کرتا تھا۔ سیاسی مباحث میں شرکت میری پیشہ ورانہ شناخت بن چکی تھی۔ مجھے اکثر ایک سیاسی رہنما، خان، کا ناقد سمجھا جاتا تھا، حالانکہ یہ تاثر حقیقت سے کوسوں دور تھا۔ میں کسی شخصیت کا نہیں بلکہ اْس کی پالیسیوں، طرزِ سیاست اور طرزِ حکمرانی کا ناقد تھا۔ اختلافِ رائے کو ذاتی دشمنی سمجھ لینا شاید ہمارے سیاسی اور سماجی مزاج کا مستقل مسئلہ رہا ہے۔
جب خان کی حکومت اقتدار میں آئی تو اختلاف رکھنے والوں کے لیے فضا یکسر بدل گئی۔ ناقدین کے لیے گویا وقتِ آزمائش شروع ہو گیا۔ چینلز کے پروگراموں سے چن چن کر اْن آوازوں کو ہٹایا جانے لگا جو سوال اٹھاتی تھیں، تجزیہ کرتی تھیں یا حکومتی بیانیے سے ہٹ کر بات کرنے کی جسارت رکھتی تھیں۔ یہ عمل اتنا خاموش اور منظم تھا کہ بظاہر سب کچھ معمول کے مطابق دکھائی دیتا، مگر پسِ پردہ بہت کچھ بدل چکا تھا۔
رفتہ رفتہ یہ دباؤ صرف ٹی وی اسکرین تک محدود نہ رہا۔ اخبارات، خصوصاً اداراتی صفحات، بھی اس کی زد میں آ گئے۔ مدیران کو اشاروں میں سمجھایا جانے لگا کہ کون سی تحریر قابلِ اشاعت ہے اور کون سی نہیں۔ یوں ہم جیسے آزاد منش صحافیوں اور تجزیہ نگاروں پر نادیدہ پابندیاں لگنا شروع ہو گئیں۔ کسی کو پروگرام سے نکالا گیا، کسی کی تحریر روک دی گئی، اور کسی کا نام ہی آہستہ آہستہ فہرستوں سے غائب کر دیا گیا۔
اس خلا کو وہ لوگ پْر کرنے لگے جو اْس وقت کی حکومت کے غیر اعلانیہ ترجمان بن چکے تھے۔ ایسے چہرے جو ہر سوال کا جواب تعریف میں دیتے، ہر غلطی کا جواز گھڑ لیتے اور ہر تنقید کو سازش قرار دے کر مسترد کر دیتے۔ مگر یہ طرزِ عمل کوئی نیا نہیں تھا۔ یہ سلسلہ صرف ایک حکومت تک محدود نہیں رہا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں، ہر حکومت میں، کارکردگی پر تنقید کرنے والوں کو ناپسندیدگی، دباؤ اور خاموشی کا سامنا کرنا پڑا۔
بات صرف حکومتوں تک محدود نہیں۔ ہمارے ہاں گروہ، جتھے، کارپوریٹ سیکٹر اور بڑے کاروباری ادارے بھی طاقت کے ایسے مراکز بن چکے ہیں جن پر سوال اٹھانا آسان نہیں رہا۔ عوام کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں، استحصال اور ناانصافیوں پر بات کرنا دن بہ دن مشکل تر ہوتا چلا گیا ہے۔ شاید یہی وہ گھٹن ہے جو معاشرے میں انتہا پسندی، عدم برداشت اور تشدد کو جنم دیتی ہے۔ جب مکالمہ بند ہو جائے تو تصادم جنم لیتا ہے، اور جب سوال دب جائیں تو ردِعمل شدت اختیار کر لیتا ہے۔
اس سب کے باوجود ایک حقیقت اپنی جگہ قائم ہے: لکھنے اور بولنے والا شخص کسی نہ کسی طرح اپنی بات کہہ ہی لیتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ خیالات کو زیادہ دیر قید نہیں رکھا جا سکتا۔ آج کے دور میں رائے پر پہرے بٹھانے والے شاید احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز نے اظہار کے دروازے کھول دیے ہیں۔ اب یہ ممکن ہی نہیں رہا کہ کسی آواز کو مکمل طور پر دبایا جا سکے یا کسی سوچ پر مستقل پہرا بٹھایا جا سکے۔
لیکن اس تمام صورتحال کا سب سے افسوس ناک اور تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ اس عمل میں صرف ریاستی طاقت یا حکومتی دباؤ شامل نہیں۔ ہمارے اپنے میڈیا کے ساتھی بھی اس رویے میں برابر کے شریک رہے ہیں۔ وہ صحافی جو آزادیِ اظہار، حق اور سچ کے سب سے بڑے علمبردار کہلاتے ہیں، جب کسی چینل یا اخبار کے سربراہ بنتے ہیں، یا اپنی لابی اور گروپ کے ذریعے فیصلہ کن مقام حاصل کر لیتے ہیں، تو سب سے پہلے اختلافِ رائے رکھنے والوں کو نشانہ بناتے ہیں۔
سیاسی یا نظریاتی اختلاف کو ذاتی دشمنی بنا لیا جاتا ہے۔ ادارتی صفحات ہوں یا ٹی وی پروگرام، اْن آوازوں کو ہٹانا اپنا فرض سمجھا جاتا ہے جو سوال اٹھاتی ہوں یا مختلف زاویہ نظر رکھتی ہوں۔ یوں آزادیِ اظہار کا نعرہ محض تقریروں اور سیمیناروں تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے، جبکہ عملی طور پر عدم برداشت اور تنگ نظری کو فروغ دیا جاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہم سب کسی نہ کسی درجے میں اس جرم میں شریک ہیں۔ ہم میں سے ہر کوئی، کبھی نہ کبھی، کسی اور کی آواز دبانے، اس کی رائے کو نظرانداز کرنے یا اختلاف کو برداشت نہ کرنے کا مرتکب ہوا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج اہلِ صحافت ایک کڑے وقت سے گزر رہے ہیں۔ اعتماد مجروح ہے، ساکھ خطرے میں ہے اور سچ بولنے کی قیمت دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے۔
اس تمام منظرنامے کے باوجود، مجھے افسوس کے ساتھ یہ امیدِ واثق بھی ہے کہ ہم مجموعی طور پر شاید اب بھی سبق نہیں سیکھیں گے۔ ہم ہر نئے دور میں وہی غلطیاں دہراتے رہیں گے، ہر نئی طاقت کے سامنے سر جھکاتے رہیں گے اور ہر مختلف آواز کو خطرہ سمجھتے رہیں گے۔ مگر تاریخ کا پہیہ رکتا نہیں، اور آوازیں دبانے والے ہمیشہ یاد رکھے جاتے ہیں… بطور عبرت۔
آزادی اظہار کے دعوے اور خاموش کرائی گئی آوازیں
09:08 AM, 12 Feb, 2026