ابن انشا میرے پسندیدہ شاعر ہیں ان کی ایک نظم جس کا عنوان ہے ’’ یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں ‘‘ اس کا ایک بند ہے کہ
وہ لڑکی اچھی لڑکی ہے
تم نام نہ لو ہم جان گئے
وہ جس کے لمبے گیسو ہیں
پہچان گئے پہچان گئے
ہاں ساتھ ہمارے انشا بھی
اس گھر میں تھے مہمان گئے
پر اس سے تو کچھ بات نہ کی
انجان رہے انجان گئے
یہ باتیں جھوٹی باتیں ہیں
یہ لوگوں نے پھیلائی ہیں
تم انشا جی کا نام نہ لو
کیا انشا جی سودائی ہیں
انشا جی تو نشانیاں بتا کر اپنی محبوبہ کسی لڑکی کا پوچھ رہے ہیں لیکن آج ہم کچھ نشانیاں بتا کر قارئین سے ایک سیاسی پارٹی کا پوچھیں گے ہمیں قوی امید ہے کہ ہمارے ذہین قارئین ہماری بتائی ہوئی نشانیوں سے فوری پہچان لیں گے ۔ تمہیدی گفتگو کو تمام کرتے ہوئے ہم نشانیوں پر آ جاتے ہیں ۔ وہ کون سی پارٹی ہے کہ جب پوری قوم ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچنے کی دعائیں مانگ رہی تھی اور حکومت اس کے لئے کوشش کر رہی تھی تو وہ پارٹی دل میں ملک کے دیوالیہ ہونے کی تمنا لئے بیٹھی تھی اور اس کا بانی اپنی ہر تقریر اور وڈیو میں پاکستان کا خدا نخواستہ سری لنکا جیسا حشر ہونے کی پشین گوئیاں کیا کرتا تھا ۔ وہ کون سی پارٹی ہے کہ گذشتہ سال مئی 2025میں پاک بھارت جنگ کے دوران پوری قوم ہی نہیں بلکہ پورا عالم اسلام وطن عزیز کی فتح یابی کی دعائیں مانگ رہا تھا لیکن وہ ہندوستان کی فتح کی خبریں دے رہے تھے ۔ وہ کون سی پارٹی ہے کہ حکومت ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لئے سر توڑ کوشش کر رہی تھی لیکن وہ آئی ایم ایف کو خط لکھ کر پاکستان کو قرض نہ دینے کی اپیلیں کر رہے تھے ۔ وہ کون سی پارٹی ہے کہ 2022-23میں حکومت کی انتھک کوششوں کے بعد یورپین یونین کی جانب سے پاکستان کو جی ایس پی پلس کا اسٹیٹس ملا تھا لیکن اس پارٹی کی ہدایت پر اس کے ہزاروں لوگوں نے یورپین یونین کو پاکستان کا جی ایس پی پلس اسٹیٹس ختم کرنے کی ای میلز کیں تا کہ پاکستان کو یورپین یونین کو سالانہ اربوں ڈالر کی جن برآمدات کی وجہ سے جو زر مبادلہ آتا ہے وہ بند ہو جائے ۔ وہ کون سی پارٹی ہے کہ حکومت پنجاب عوام میں خوشیاں بانٹنے کے لئے محفوظ بسنت کی کوششیں کر رہی تھی اور پوری قوم محفوظ بسنت کے لئے دعائیں کر رہی تھی لیکن وہ پارٹی عوامی امنگوں کے بر خلای بسنت کو لہو رنگ دیکھنے کا پروپیگنڈا کر رہی تھی ۔ وہ کون سی پارٹی ہے کہ ایک ہی کام اگر وہ خود کرے تو وہ حلال ہو جاتا ہے اور اگر وہی کام کوئی دوسرا کرے تو وہ حرام ہو جاتا ہے ۔
ہم نے پڑھنے والوں کو کافی سے زیادہ نشانیاں بتا دی ہیں اور ہمیں پورا یقین ہے کہ ہمارے پڑھنے والے اتنے ذہین ہیں کہ اتنی نشانیوں کے بعد وہ بھی یقینا ابن انشا کی طرح کہہ رہے ہوں گے کہ
تم نام نہ لو ہم جان گئے
پہچان گئے پہچان گئے
پرانی باتوں کو تو دہرانے کا کوئی فائدہ نہیں کہ کئی بار ان پر بحث ہو چکی ہے لیکن حیرت تو اب ہوئی اور اگر آپ اپنے ارد گرد نظر دڑائیں گے تو یقینا آپ کو بھی اپنے آس پاس بہت سے ایسے چہرے نظر آ جائیں گے کہ جنھوں نے ماضی میں جب تک بسنت پر پابندی نہیں لگی ہر سال بڑے اہتمام کے ساتھ دوستوں رشتے داروں کے ساتھ بسنت مناتے تھے لیکن اب کسی کی مخالفت اور کسی کی حمایت میں بسنت کی مخالفت کرتے رہے حتیٰ کہ یہاں تک بھی ہوا کہ اسی پارٹی کے وہ وکیل ِ محترم کہ جنھوں نے عدالت عالیہ میں بسنت منانے کے خلاف رٹ دائر کی تھی ان کی بھی بسنت منانے کی تیاریوں کی وڈیو وائرل ہو گئی۔
بسنت منانے کے ہم اس لئے حامی نہیں ہیں کہ اس کی اجازت محترمہ مریم نواز صاحبہ نے دی ہے بلکہ خدا گواہ ہے کہ ہم نے کم و بیش ہر سال بسنت کی حمایت میں کالم لکھے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک وقت میں بسنت ایک بین الاقوامی تہوار بننے کے قریب تھا اور اگر ایسا ہوتا تو اس کے کثیر المقاصد فوائد ریاست پاکستان کو حاصل ہوتے اور خدا نے چاہا تو اب بھی ایسا ہو گا کہ ایک تو دنیا میں پاکستان کا روشن چہرہ جائے گا اور دوسرا عوام جو خوشیوں کو ترس گئے ہیں انھیں اگر خوشی کے چند دن مل جاتے ہیں تو اس میں حرج ہی کیا ہے لیکن بسنت کے حوالے سے سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ جیسے جیسے ایک محفوظ بسنت کی شہرت دنیا میں پھیلے گی تو دنیا بھر سے ہزاروں سیاح اس موقع پر لاہور کا رخ کریں گے جس سے لاکھوں کروڑوں ڈالر زر مبادلہ کی صورت پاکستان کے خزانہ میں آئیں گے اور ہم تو ماضی میں بھی یہ تجویز دے چکے ہیں کہ بسنت صرف لاہور میں ہی نہیں بلکہ اس کا آغاز کراچی سے کریں اور پھر ہر چھوٹے بڑے شہر سے ہوتے ہوئے اسے پشاور گلگت بلتستان تک منائیں اور آخر میں لاہور میں تین دن کا ایک میگا بسنت تہوار رکھیں تو کروڑوں اربوں ڈالر پاکستان کو مل سکتے ہیں اور روز گار کے مواقع الگ پیدا ہوں گے اس لئے کہ ہندوستان اگر کمبھ کے میلے کو دنیا میں بیچ سکتا ہے اور اس پر لاکھوں سیاح آ سکتے ہیں ہم اپنے تہوار دنیا میں کیوں نہیں دکھا سکتے ۔ آخر میں دو باتیں کہ محترمہ مریم نواز صاحبہ کو محفوظ بسنت کے بہترین انتظامات پر اور پھر محفوظ بسنت پر داد تحسین اور اگر کروڑوں عوام نے بسنت کو انتہائی جوش و خروش سے ویلکم کہا ہے تو پھر یقین جانیں کہ کسی دوسرے کی رائے کی کوئی اہمیت نہیں رہتی۔
وہ کون سی پارٹی ہے
09:07 AM, 12 Feb, 2026