ورلڈ بینک کے صدر کے مطابق پاکستان کے معاشی مسائل کے حل کیلئے ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا کا کہنا ہے کہ ’’پاکستان کو وقتی اقدامات کے بجائے طویل المدتی اور بنیادی اصلاحات‘‘ کی طرف جانا ہوگا تاکہ معیشت پائیدار بنیادوں پر کھڑی ہو سکے۔انکی تجویز ہے کہ پاکستان کو آئندہ دس سالوں میں 2 سے 3 کروڑ نئی نوکریاں پیدا کرنا ہوں گی۔ اسکے لئے بھی اہم ہے نوجوان آبادی کو ہنر مند بنایا جائے کہ صرف کالجوں اور یونیورسٹیو ں سے کتاب پڑھا کر عملی میدان میں چھوڑ دیا جائے ، نیز زراعت، تعمیرات، آئی ٹی، صحت اور سیاحت جیسے شعبوں میں روزگار پیدا کیا جائے، یہ ہمیشہ کاہمارا نعرہ ہے کہ ٹیکس نیٹ میں لایا جائے مگر بدقسمی سے اس پر عمل نہیں ہوتا اشرافیہ ہمیشہ کی طرح اپنے اوپر لاگو ہونے سے بچ جاتی ہے یا کم ٹیکس دیتی ہے، ٹیکس وصولی کا نظام منصفانہ نہیں اور سار ا بوجھ صرف تنخواہ دار طبقے پر ڈالا جاتا ہے جو پہلے ہی مہنگائی بھگت رہے ہوتے ہیں ، نجی سرمایہ کاری کی شرح بھی کم ہے اسکی وجہ کاروبار شروع کرنے میں حائل رکاوٹیں ہیں، کاروبار شروع کرنے سے قبل نجی سرمایہ کاروںکو اپنے ابائواجداد کا بھی حساب دینا پڑتا ہے ، غیر ملکی سرمایہ کاروںکو ہمارے علاقوں میں جاری دہشت گردی ہمارے ملک میں آنے نہیں دیتی ہمارے ملک میں سرمایہ کاروں اور اہم شخصیت کو ہم سے دور رکھنے میں بھارت بھرپور انداز میں اندرونی سہولت کاروںکے ذریعے دہشت گردانہ کارویاں کررہا ہے اسکی تازہ ترین مثال پاکستان کے عزیز ترین دوست سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے پاکستان کے دورے کی خبر کے ساتھ اسلام آباد میں دہشت گرد کاروائی جس میں کئی انسانی جانیں گئیں کر دیا گیا درآمدات ہم زیادہ کرتے ہیں جبکہ عالمی منڈی میں ہماری برآمدات کم ہیں ، ہم تعلیم اور صحت کی سہولیات پر کم خرچ کرتے ہیں جس سے غربت اور ملازمتوں میں کمی واقع ہوتی ہے، تمام تر کوششوں کے باوجود اسکا اندازہ اندرون ملک کے عوام کو کم بیرون ملک پاکستانیوںکو زیادہ کہ انہیں اپنے وطن میں کاموںکیلئے ہر موڑ اور ہر ادارے کو رشوت جسے ’’ محنتانہ ‘‘ کا نام دیا جاتا ہے اسکا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اپنے وطن کچھ وقت گزار کر کانوںکو ہاتھ لگا کر ملک سے چلے جاتے ہیں، ورلڈ بینک کے صدر کے مطابق اگر پاکستان روزگار پیدا کرے ٹیکس اور توانائی میں اصلاحات کرے نجی سرمایہ کاری کو فروغ دے تعلیم، صحت اور نوجوانوں پر توجہ دی جائے تو پاکستان قرضوں کے دبائو سے نکل کر ایک مضبوط اور خودمختار معیشت کی طرف جا سکتا ہے۔ دیگر دوست ممالک سے لئے گئے قرضوں کی مد میں لئے جانے والی رقم کے علاوہ ورلڈ بینک پاکستان کو ہر سال تقریباً 4 ارب (چار ارب امریکی ڈالر) قرض دیتا ہے ، وزیر اعظم شہباز شریف اور عسکری قیادت پاکستان کے معاشی معاملات کو سہل بنانے کیلئے دن رات مصروف ہیں اور صرف قرض لینے پر توجہ مرکوز نہیں بلکہ عالمی بنک اور نجی قرضے واپس بھی کررہے ہیں حکومت نے پچھلے کچھ سالوں میں 3,650 ارب روپے سے زائد قرضہ مقررہ وقت سے پہلے ادا کیا ہے۔ یہ ادائیگی عمومی مقامی اور اندرونی قرضوں میں کی گئی ہے، جس سے مالی نظم و ضبط بہتر ہوا ہے۔ اور ملک کو اس سال ’’25 ارب ڈالر‘‘ کے قرضے واپس کرنے ہیں، جس میں سے کچھ قرض کا رول اوور بھی شامل ہے۔ ورلڈ بنک کے قرضے کی مدت 10سال ہوتی ہے اور حکومت نے وقت سے پہلے بھی کچھ قسطیں واپس کی ہیں جس سے اعتماد میں اضافہ ہوتاہے اور ورلڈ بینک نئے قرضوں پر نہ صرف بات شروع کرتاہے مشوروںکے ساتھ نئے قرض بھی دیتا ہے، قرض ہر ملک لیتا ہے چین بھی ماضی میٰں ورلڈ بینک کا قرضدار رہا ہے ، مگر آج وہ قرض نہیں ہے اس نے اپنی معیشت پر قابورکھا ہے ہندوستان بھی عالمی بنک کا قرضدار ہے مگر وہ قرض پراجیکٹ کے حوالے سے لیتا ہے پاکستان نے 3,650 ارب روپے کا قرضہ مقررہ وقت سے پہلے واپس کیا ۔ سعودی عرب پاکستان کا عزیز ترین دوست ہے وہاں شہزادہ محمد سلمان بن عبدالعزیز کے ویثرن 2030 ء کے نفاذ نے معیشت کو حیران کن حد تک مثبت کیا ہے ، کیوں نہ پاکستان معیشت کیلئے جاری اصلاحات کی رہنمائی سعودی عرب کے ویثرن 2030ء سے حاصل کرے چونکہ پاکستانی معیشت ایک واضح اور بہادر اقدامات کی متقاضی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ معاشی جنگ اور بے یقینی کے اس نئے دور میں جن قوموں کے پاس واضح اور لچکدار حکمت عملی نہیں ہے وہ پیچھے رہ جاتے ہیں پاکستان کی معیشت قلیل مدتی اصلاحات کا مطالبہ کرتی ہے ایسی تبدیلی کا سب سے طاقتور خاکہ مغرب میں نہیں بلکہ برادر ملک سعودی عرب کے پاس ہے، ٹیکسوںکی عدم وصولی معاشی ترقی جمود کا شکار ہے، غیرملکی معیشت پر نظر رکھنے والے بھی پاکستان کی معیشت پر مثبت اظہار کرتے ہیں ، پاکستان او ر سعودی معیشت کے موازنہ کرتے وقت وہ کہتے ہیں سعودی عرب نے صرف اخراجات میں ہی کمی نہیں کی بلکہ وہ ویلیو ایڈڈ ٹیکس جیسے محصول کے نئے ذرائع پیدا کرنے میں
کامیاب رہا، جبکہ اخراجات کو سبسڈی سے سرمایہ کاری کی طرف بھی منتقل کیا۔ پاکستان کے لیے، ایک عملی اقدام میں وفاقی اور صوبائی دونوں سطحوں پر آزاد مالیاتی کمیشنوں کی تشکیل شامل کرنا چاہئے، جو سیاسی دباؤ سے آزاد ہوں۔ یہ مالیاتی کمیشن اخراجات کی نگرانی کریں ، ذمہ داری کو نافذ کریں گے اور شفافیت کو یقینی بنائیں ۔سعودی عرب سرکاری اثاثوں کی نجکاری کر رہا ہے، غیر ملکی سرمایہ کاری کی دعوت دے رہا ہے اور نجی شعبے کو بااختیار بنا رہا ہے۔ پاکستان کے لیے، اب وقت آگیا ہے کہ خسارے میں جانے والے ریاستی اداروں کو تحفظ دینا بند کر دیا جائے اور انہیں ترقی کے لیے فنڈ دینا شروع کیا جائے۔ قومی ایئر لائنز کی حالیہ کامیاب نجکاری مزید نجکاری کی جانب مسلسل پیشرفت کے لیے ایک سپرنگ بورڈ ہے ۔ہم،ہمیں اپنے لوگوں پر سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔ وژن 2030 کی سب سے نمایاں کامیابی انسانی سرمائے پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔ سعودی عرب اپنے نوجوانوں کو تربیت دے رہا ہے، کاروباری صلاحیت کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے اور سعودی خواتین کی صلاحیتوں کو اجاگر کر رہا ہے۔ پاکستان کو تعلیمی نصاب میں اصلاحات کی ضرورت ہے جو صرف ڈگریوں پر نہیں بلکہ مہارتوں پر مرکوز ہو۔ مزید برآں، پاکستان کو خواتین کو معیشت میں لانے کی ضرورت ہے، قومی ترجیح کے طور پر ۔
معیشت کی درستگی :سعودی عرب کو مثال بنائیں
09:07 AM, 12 Feb, 2026