دس برس اور چودہ برس

09:14 AM, 13 Dec, 2025

جنرل ریٹائرڈ فیض حمید بلکہ اب تو جنرل ریٹائرڈ نہیں بلکہ صرف فیض حمید کو ملٹری کورٹ سے اختیارات کے ناجائز استعمال اور سیاست میں مداخلت سمیت چار الزامات کے ثابت ہونے پر 14سال قید با مشقت کی سزا سنا دی گئی ہے ۔ منصوبہ تو بڑا سادہ تھا کسی اگر مگر کے بغیر ابتدائی طور دس سال کا پروگرام بنایا گیا تھا جدید دور کی بات کریں تو Easy Loadمنصوبہ کہہ سکتے اور ہم ایسے بابوں کے دور کی بات کریں تو ارادے یہی تھے کہ ” ہنگ لگے نہ پھٹکری رنگ آئے چوکھا “ اور اگر بات انگریزی بابوﺅں کی کریں تو انھوں نے اس کا نام ” پروجیکٹ عمران خان “ رکھا تھا ۔ مشرف دور میں میانوالی کی ایک سیٹ اور وہ بھی اس وقت کی سرکار کی جانب سے دی گئی تھی اس مانگے کی ایک سیٹ کے بل پر بھی خواہش تھی کہ جنرل مشرف سب کو چھوڑ کر انھیں وزیر اعظم بنا دیں یعنی ” شرع دن سے لاڈلے کی فطرت یہی تھی کہ ” انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند “ لیکن پھر ایک وقت آیا کہ قسمت کی دیوی ان پر مہربان ہونا شروع ہو گئی اور انھیں سب سے پہلے طاقت ور حلقوں سے ہم خیال ملے اور پھر ان ہم خیالوں کی مہربانیوں سے ہر جگہ سے ہم خیال لوگ بنانے کا سلسلہ شروع ہوا لیکن غضب یہ ہوا کہ تمام تر کوشش اور ہتھکنڈوںکے باوجود بھی 2018میں نہ تو وفاق اور نہ ہی پنجاب میں سادہ اکثریت مل سکی ۔اس پر مستزاد کہ کچھ کرنے کی اہلیت بھی نہیں تھی اور اس بات کا اعتراف تو خود کر چکے ہیں کہ بجٹ پاس کرانے کے لئے بھی ایجنسیوں کو کہنا پڑتا تھا ۔ اب ایسی صورت میں پڑتھو پڑنا تو لازمی تھا اور اس کے لئے کرپشن کو بنیاد بنا کر ایک نیا فارمولہ لانچ کیا گیا جس کا مرکزی خیال یہی تھا کہ ” گلیاں ہو جان سنجیاں تے وچ مرزا یار پھرے “ یعنی پوری حزب اختلاف کو کرپشن کے الزام لگا کر جیلوں میں بند کر دو اور پھر ہم خیال ججز کی مدد سے کسی کو پانچ اور کسی کو دس سال نا اہل قرار دے کر سیاست کے میدان سے ہی آﺅٹ کیا جانے لگا اور دل کی یہ خواہشات کئی بار زبان پر بھی ان الفاظ میں آئیں کہ ” یہاں بھی چین جیسا نظام ہونا چاہئے اور پچاس بندوںکو سولی پر لٹکا دیا جائے تو نظام صحیح ہو سکتا ہے “ یعنی اب جیت کے لئے تمام مد مقابل کو منظر سے ہٹانا ضروری تھا لیکن کہتے ہیں کہ” سامان سو برس کا ہے پل کی خبر نہیں “ ۔ دس سالہ پروجیکٹ کے دونوں کردار اب 14سال قید با مشقت کا شکار ہو چکے ہیں ۔ 
فیض حمید صاحب کو 14سال کی قید بامشقت ” دی اینڈ “ نہیں ہے بلکہ ” ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے “ اس لئے اگر صرف اختیارات کے ناجائز استعمال کا معاملہ ہوتا تو اسے صرف افواج پاکستان کے اندرونی معاملات تک محدود رہ کر سوچا جا سکتا تھا لیکن سیاسی معاملات میں مداخلت کے الزامات بھی اگر ثابت ہو چکے ہیں تو پھر یہ سزا ابھی ابتدا ہے اور اصل معاملات تو اب شروع ہوں گے ۔ اندرونی ذرائع کی خبر رکھنے اور دینے والے فیصل واوڈا نے اپنے ایک سے زائد ٹی وی انٹر ویوز میں کہا ہے کہ اس بات کے قوی امکانات ہیں اور یہ قوی امکانات بھی ہم احتیاط کے طور پر کہہ رہے ہیں ورنہ انھوں نے تو بغیر کسی اگر مگر واضح الفاظ میں کہا ہے کہ فیض حمید صاحب وعدہ معاف گواہ بنیں گے جس سے ان کی سزا میں کوئی کمی نہیں ہو گی لیکن وہ نا قابل تردید ٹھوس شواہد کے ساتھ عمران خان کے خلاف 9مئی اور دیگر الزامات کو ثابت کریں گے ۔ یہ تو عمران خان کے حوالے سے مستقبل میں جو ہونے جا رہا ہے اس کی ایک ہلکی سی جھلک ہے ورنہ تو پوری فلم جب چلے گی تو پھر بہت کچھ منظر عام پر آئے گا اور جو کچھ منظر عام پر آئے گا وہ صرف فیض حمید صاحب اور عمران خان کی مشکلات میں اضافہ نہیں کرے گا بلکہ تحریک انصاف کے دیگر افراد بھی اس کی لپیٹ میں آئیں گے ۔ اس لئے کہ یہ باتیں تو اس سزا سے پہلے بھی سرگوشیوں میں کہی جاتی تھیں کہ تحریک انصاف کی قیادت کے رابطے فیض حمید کے ساتھ تھے اور آج تحریک انصاف تو فیض حمید سے اعلان لا تعلقی کرتی ہے لیکن عمران خان خود فیض حمید کو اپنا ” قیمتی اثاثہ “ قرار دے چکے ہیں لہٰذا اب بچے گا کوئی نہیں بلکہ ”سب پھڑے جان گے“ ۔
فیض حمید صاحب کو بھی 14سال کی جو سزا ہوئی ہے یہ ایک کیس میں ہوئی ہے اور جیسا کہ عرض کیا یہ ابھی ابتدا ہے ان پر مزید کئی کیسز بھی ہیں ۔ اس کیس میں ان کے پاس اپیل کرنے کا حق موجود ہے اور ان کے وکیل نے بھی کہا ہے کہ تفصیلی فیصلہ ملنے کے بعد وہ اپیل کریں گے لیکن اس حوالے سے ایک بات اہم ہے کہ یہ فیصلہ کسی عام عدالت کا فیصلہ نہیں ہے بلکہ ملٹری کورٹ کا ہے اور اس میں ہر پہلو پر غور کر کے شواہد کی پوری چھان بین کے بعد فیصلہ دیا جاتا ہے اوراس کے بدلنے کے امکانات کم ہی ہوتے ہیں ۔پھر یہ بھی اہم ہے کہ اسے جلد بازی میں نہیں کیا گیا ۔ انھیں12اگست2024کو گرفتار کیا گیا تھا اور اس کیس کی سماعت میں انصاف کے تمام تقاضے پورے کئے گئے ہیں ۔ کچھ لوگوں کو یقینا اس بات کا اندازہ تھا فیض حمید کیس میں کچھ ہونے والا ہے اسی لئے اڈیالہ کے باہر مجمع لگایا جا رہا تھے لیکن کاش اداروں کو دھمکیاں دینے اور ملک دشمن بیانیہ کی بجائے اگر سیاست کی جاتی تو آج حالات کچھ اور ہوتے ۔ 

مزیدخبریں