برسہا برس کی بدلتی صورتحال میں اب قومی سلامتی کے ناصرف معنی و تعریف بدل چکے ہیں بلکہ سیاست دانوں کے تخلیق کردہ عسکری اور سیاسی تفاوت کے اغراض و مقاصد بھی کھل کر سامنے آ چکے ہیں۔ عسکری قیادت سے بوجوہ بغض پیدا کرنا بعض سیاست دانوں کا مستقل ایجنڈا رہا ہے جبکہ عوام نے خود مشاہدہ کیا ہے کہ ” تحفظ “ کا لفظ کس قدر وسیع المعانی ہے جس میں عوام کی صحت کا تحفظ انرجی کا تحفظ اور دیگر انسانی احتیاجات شامل ہیں فوج کا کام اب محض سرحدوں پر بیٹھے دشمنوں سے مقابلہ ہی نہیں رہ گیا بلکہ درون ملک بھی سماج دشمن ، ملک دشمن اور پراپیگنڈہ مہم جوﺅں سے نپٹنا بھی شامل ہے ۔ اب تازہ ترین ملکی و بین الاقوامی تناظرمیں خدشات دھمکیوں اور پراپیگنڈہ کو مختلف تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے ۔
موجودہ سیاسی و قومی منظر میں مخلوط جنگ کا جو نقشہ سامنے آیا ہے اس میں محض سرحدوں پر کھڑے باوردی دشمن ہی سے نہیں بلکہ مقابلہ بہت منظم طریقے سے تھریٹس اور منفی خبر انفارمیشن ، ڈپلومیٹی اور تباہ کن پراوپیگنڈہ سے بھی ہے ۔
پاکستان کا نیو کلیئر پاور ہونا بھی اس ضمن میں اس پراپیگنڈہ مہم اور دشمنی کا باعث ہے بھارت اور بھارت نواز دیگر ملکی و غیر ملکی قوتوں کی انتھک کوششوں کے باوجود پاکستان تمام تر مشکلات پر قابو پاتا ہوا اب بحالی کی طرف گامزن ہے ۔ لیکن دشمنوں کو کہاں چین آتا ہے فرنٹ فٹ پر ناکامی کے بعد اور مقاصدکے حصول میں خوار ہونے کے بعد ان دشمن قوتوں نے اب انفارمیشن ٹیکنالوجی اور میڈیاکا سہارا لیکر درون ملک ، بے چینی ، غلط خبریں ، عدم استحکام کا ایک بازار گرم کر دیا اس تمام تر ملک دشمن مہم آپریشنز ، پراپیگنڈہ اور ڈس انفارمیشن میں ایک قدر مشترک ہمیشہ رہی کہ کس طرح پاکستانی فوج کو ٹارگٹ کیا جائے ۔ بڑے منظم طریقے سے پاکستانی افواج کو ہدف تنقید بنا کر نہ صرف ملک میں بے چینی اور بے سکونی حاصل کی جائے بلکہ سرحدوں کے پار دشمنوں کے اغراض و مقاصد کو بھی پورا کیا جائے اس مخلوط دشمنی کے ڈانڈے جس طرح بیانیہ تشکیل دیکر ملائے جاتے اس کے بارے میں ڈی جی آئی ایس پی آر وطن عزیز کے عوام کو متعدد بار سمجھا چکے ہیں ملک کو کمزور کرنے کے لئے ایک بیانیہ کا آغاز ایک ایکس پر میسج سے آغاز ہوتا ہے اور بھی بیرون ملک بیٹھے نیٹ ورک بمع بھارت یورپ و افغانستان سے یہ دشمن عناصر شامل ہو کر اس بیانہ کو پھیلا دیتے ہیں جن سے ملک میں بے اطمینانی کی لہر دوڑ جاتی ہے ۔ لہٰذا ان مندرجہ بالا عوامل کے باعث یہ پراپیگنڈہ چونکہ محض شخصی دشمنی تک ہی محدود نہیں رہتا بلکہ ملکی فوجی سلامتی پر براہ راست حملہ کرتا ہے جس کے تناظر میں ڈی جی آئی آیس پی آر جنرل احمد شریف چوہدری کو صورتحال کی وضاحت قومی سلامتی کی حفاظت اور پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی کی خاطر حالیہ پریس کانفرنس کرنا پڑی قومی سلامتی کے امور سے متعلق بریفنگ کو قطعی طور پر سیاسی یا سیاسی مقاصد سے لبریز نہیں کیا جا سکتا جہاں دشمن سرحدوں کے باہر تا سرحدوں کے اندر چہرے بدل بدل کر وار کرے گا عسکری قیادت اس بحران کو روکنے کی پوری کوشش کرے گی کیونکہ ہماری افواج ناصرف سرحدوں فضاﺅں اور سمندروں میں دشمن کے دانت کھٹے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں بلکہ اندرون ملک بھی پاکستان کو کمزور کرنے والی ملکی اور بیرونی سازشوں کا گلہ گھوٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ دشمن کے مقاصد کو پورا کرنے کے لئے پی ٹی آئی اور اس کے سربراہ نے نہ صرف بھرپور وار کیا بلکہ دوسرے لفظوں میںپاکستان کی قومی سلامتی پر حملہ ہی کر ڈالا ایسے میں سرحدوں کے رکھوالے دورن خانہ ہونے والی سازشوں سے کیسے صرف نظر کر سکتے ہیں جو ملک میں عدم اطمینانی کی لہر پھیلا دیں بھارتی میڈیا کو منفی مواد فراہم کر دیں۔
اگر سینئر ترین عسکری سربراہ سے متعلق افواہوں کا بازار گرم کر دیا جاتا ہے ڈس انفارمیشن سے عوام کو کنفیوزکیا جاتا ہے اداروں کی کارکردگی کو نہ صرف متاثر کیا جاتا ہے بلکہ ایک عبوری صورتحال پیدا کر دی جاتی ہے ایسے میں سول اور عسکری قیادت کو مشترکہ طو رپر واضح بیانیہ سامنے لانے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ فوج نے ہمیشہ خود کو سیاست سے دور رکھنے کا کہاہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ فوج کی اعلیٰ ترین قیادت پر پراپیگنڈہ مہم کے ذریعے حملہ کر کے اس کا جواب تک فوج کے ادارے سے توقع نہ رکھنا یہ کیسے ممکن ہے ؟
یوں بھی ڈی جی آئی ایس پی آر نے حالیہ بریفنگ میں صحافیوں کے سوالات کے جواب دیکر مبہم صورتحال کو واضح اور کلیئر کیا تو اس میں پولیٹیکل ہونے والی کون سی بات ہے یہ وہ ملک ہے جس کے گلی کوچوں میں ایک کوچوان ایک مزدور ایک سرکاری غیر سرکاری شہری کو تو موجودہ صورتحال پہ بات کرنے کی اجازت ہے مگر اہم ترین عسکری ادارے کو خود پر ذاتی اور سرکاری اقسام کے الزامات و شبہات پر وضاحت کا حق نہیں ؟ ایک بات جو ڈی جی آئی ایس پی آر نے کی کوئی پکا محب وطن ہو تو اس سے صرف نظر نہیں کر سکتا نہیں ہمیں باتیں کرتے ہیں جو جان دینے اور جان لینے کے فرائض میں رہتے ہیں یہ محض شاعرانہ خیال نہیں حقیقت میں یہ لوگ اپنوں کی لاشیں کاندھوں پر اٹھاتے ہیں جو کسی ذاتی لڑائی میں فوت نہیں ہوتے بلکہ وطن عزیز کے لئے جانیں قربان کرتے ہیں پوری قوم ان کے ہمراہ ہوتی ہے محض چند مٹھی بھر لوگ اپنے ہی وطن کے رکھوالوں سے اس لئے الجھتے ہیں کہ انہیں موجودہ پاکستان سے پیار نہیں فوج میں کوئی رئیس زادے نہیں آتے ہمارے جیسے مڈل کلاس یا اس سے بھی پسماندہ علاقوں کے محب وطن بیٹھے بھرتی ہوتے ہیں اپنے ہی جانثاروں کے خلاف مہم جو بدنیتیوں کے لئے یہ پریس بریفنگ ازحد ضروری تھی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر بریفنگ ضروری تھی....
09:07 AM, 12 Dec, 2025