واشنگٹن/کاراکاس: امریکا اور وینزویلا کے تعلقات میں تناؤ بڑھ گیا ہے۔ امریکی حکومت نے وینزویلا کے ساحل سے ایک آئل ٹینکر ضبط کرنے کے ایک دن بعد چھ مزید تیل بردار جہازوں اور صدر مادورو کے قریبی کاروباری نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق ضبط شدہ ٹینکر "اسکیپر" غیر قانونی آئل شپمنٹ میں ملوث تھا اور اب اسے امریکی بندرگاہ منتقل کیا جائے گا۔ یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد وینزویلا کے خلاف سب سے سخت کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔
واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات غیر قانونی منشیات کی روک تھام اور پابندیوں کے نفاذ کے لیے کیے جا رہے ہیں، جبکہ کاراکاس نے اسے بین الاقوامی سمندری ڈکیتی قرار دیتے ہوئے شدید ردِعمل ظاہر کیا ہے۔
امریکی پابندیوں کی زد میں آئل ٹینکرز کے علاوہ صدر مادورو کے قریبی رشتہ دار اور کاروباری نیٹ ورک بھی شامل ہیں، جنہیں واشنگٹن غیر قانونی حکومت کے حصہ دار قرار دیتا ہے۔ خطے میں پہلے سے سرگرم امریکی جنگی بحری جہازوں نے منشیات بردار کشتیوں پر متعدد کارروائیاں کی ہیں، جن میں درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔