امریکہ اور یورپ کو بے ساکھیوں کی تلاش

09:05 AM, 12 Dec, 2025

تاریخ کے اوراق میں بہت کچھ دفن ہے، سینکڑوں تہذیبیں مٹ گئیں، کرئہ ارض پر ان کا نام و نشان نہیں، سیکڑوں بادشاہتیںہیں جنہوں نے عروج دیکھا پھر ملیامیٹ ہو گئیں، دنیا کو فتح کرنے کا خواب لے کر گھر سے نکلنے والا سکندراعظم آدھی دنیا فتح کر چکا تھا مر کر دنیا سے رخصت ہوا تو پھر اس جیسا عزم ومحنت کا پیکر کہیں کوئی نظر نہ آیا، مغلیہ سلطنت کے تذکرے بھی اب کتابوں میں ملتے ہیں، نصف صدی تک حکومت کرنے والا اکبراعظم بھی تاریخ کا اہم کردار ہے، تہذیبوں کے مٹ جانے، سلطنتوں کے چھن جانے اور بادشاہوں کے معزول ہونے کی لاتعداد وجوہات ہوسکتی ہیں لیکن سب میں مشترک ایک وجہ نہایت اہم ہے اور وہ ہے اہداف کے حصول کے لئے منصوبہ بندی کا فقیدان اور اس کی بڑی وجہ اللوں تللوں میں وقت اور وسائل کو ضائع کرنا، آخری مغل تاجدار کا آخری زمانہ یہی تصویر پیش کر رہا تھا لہٰذا انگریز کو برصغیر میں قدم جمانے کا بہانہ مل گیا، بہادر شاہ ظفر کو ترقی اور تجارت کے نتیجے میں برصغیر کی خوشحالی کا ایسا تصور پیش کیا گیا کہ وہ رفتہ رفتہ سلطنت کے معاملات سے دور ہوتا گیا اور برصغیر پر قبضے کی خواہش لے کر آنے والے مضبوط ہوتے گئے، پھر وہ وقت آ گیا کہ کسی بھی اہم فیصلے کا اعلان کرنا ہوتا تو عوام کو بتایا جاتا ملک بادشاہ کا ہے جبکہ حکومت کمپنی بہادر کی ہے، عوام اس اعلان اس حکم کوسنتے اور سر تسلیم خم کر دیتے ہیں، شاہی خاندان کے افراد کی اپنی خواہشیں اپنے مشاغل تھے ان کی دیکھا دیکھی دربار سے وابستہ ہر دوسرا شخص ان کے نقش قدم پر چلنے اور ان کی ہاں میں ہاں ملانے کو اپنا ایمان سمجھنے لگا، پہلے ملک کمزور ہوا پھر حکومت پھر سب کچھ انگریز کے ہتھے چڑھ گیا اور آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر نے زندگی کے آخری ایام ایک برطانوی فوجی کے گیراج میں گزارے جہاں کھانے کی ٹرے اور کموڈ ساتھ ساتھ ہی رکھا جاتا تھا، بہادر شاہ کوئلے سے کمرے کی دیواروں پر شعر لکھتا اور اپنی غلطیوں کوتاہیوں کو یاد کرتا دنیا سے رخصت ہو گیا۔ وہ مرتے دم تک منتظر رہا کہ شاید قوم اٹھ کھڑی ہو اور اسے اقتدار واپس مل جائے، 
انگریز قریباً سو برس تک برصغیر پر حکومت کرتا رہااور حکومت کے بہانے اسے لوٹتا رہا اور لوٹ کا مال تسلسل سے برطانیہ منتقل کرتا رہا، اسے خوف تھا برصغیر کا مسلمان کسی بھی وقت بیدار ہو گیا تو شاید اسے عجلت میں یہاں سے رخصت ہونا پڑے اور لوٹ کا مال شاید مکمل طور پر برطانیہ نہ لے جایا جا سکے۔
مسلمان ایسے سوئے کہ انہیں بیدار ہونے میں نصف صدی کا عرصہ لگا جنہوں نے بیدار کرنا چاہا ان پر کفر کے فتوے لگانے کے لئے انہیں باغی ثابت کرنے کے لئے اور ان کی سزائے موت کے فتوے جاری کرنے والے نہایت ارزاں نرخوں پر دستیاب رہے یہ لوگ انگریزوں کے اقتدار کو دوام بخشنے میں اپنا کردار ادا کرتے رہے، وظیفے حاصل کرتے رہے۔
انگریز نے صرف برصغیر پر ہی حکومت نہیں کی بلکہ اس کے علاوہ ستر مختلف ملکوں پر قبضہ کیا اور انہیں بے دریغ لوٹا، انگریز کی حکومت کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اس کے راج میں کبھی سورج غروب نہیں ہوتا حقیقتاً ایسا ہی تھا، کسی ایک ملک میں سورج غروب ہونے سے پہلے ہی وہ کہیںاور طلوع ہو جاتا۔ انگریز کتنا حریص تھا اس کا اندازہ اس بات سے لگایئے کہ اس نے اس دور کے بڑے خطہ ارض برصغیر سے لے کر برما جیسے چھوٹے ملک تک میں لوٹ مار کی۔ اس کے علاوہ کینیا، مصر، ملائیشیا، نائیجیریا اور ساﺅتھ افریقہ ان ممالک میں ہیں جہاں انگریز نے کئی بلین ڈالر کی لوٹ مار کی۔ کینیا دنیا بھر میں کافی کی پیداوار کے لئے اپنا ثانی نہ رکھا تھا یہاں سے دیگر اشیاءسمیت ایک سو ستر بلین ڈالر کی لوٹ مار کی گئی، جہاں جہاں انگریز حکومت تھی وہاں وہاں کینیا کی کافی پہنچتی رہی، یہ انگریزوں کا پسندیدہ ہاٹ ڈرنک تھا بعدازاں یہ کولڈ کافی کی شکل میں استعمال ہونے لگا، آج میانمار کے نام سے جانے والا ملک برما ٹیک وڈ کے خزانے لئے ہوئے تھا یہاں سے ٹیک وڈ دنیا بھر کے ملکوں کو فروخت کی گئی، مال برطانوی خزانے میںمنتقل ہوتا رہا۔
مصر کی سویز کینال اس زمانے میں بھی مصروف ترین آبی گذرگاہ تھی دنیا کے مختلف ممالک کے درمیان بحری راستوں سے تجارت میں نہر سویز کی حیثیت اہم تھی، مصر پر قبضے اور نہر سویز کی آمدن سے اور مصر میں پیدا ہونے والی دنیا کی بہترین کپاس سے اڑھائی سو ارب ڈالر لوٹے گئے۔ ملائیشیا میں پیدا ہونے والے ربڑ کی کشش انگریز کو یہاں کھینچ لائی، یہاں سے خام ربر اور خوردنی تیل کی دولت دونوں ہاتھوں سے لوٹی گئی جس کا محتاط ترین تخمینہ پانچ سو ارب ڈالر ہے، نائیجیریا میں معدنیات کے خزانے دریافت ہو چکے تھے لہٰذا ان پر جی بھر کے ہاتھ صاف کیا گیا۔ نائیجیرا سے لوٹ مار کا اندازہ نو سو ملین ڈالر ہے، ساﺅتھ افریقہ میں سونے اور دیگر معدنیات کے وسیع ذخائر تھے، یہاں پر قبضے کے بعد مقامی افراد کو جانوروں کی طرح زنجیروں میں جکڑ کر کانوں کی کھدائی پر لگایا جاتا، یہاں لوٹے گئے سونے اور ہیروں کی مالیت ڈیڑھ ٹریلین ڈالر کے قریب ہے، برصغیر اس زمانے میں سونے کی چڑیا کہلاتا تھا، زمین ذرخیز اور معدنی دولت سے مالا مال تھی یہاں پیدا ہونے والا اناج آس پاس کے سات ملکوں کی غذائی ضروریات پوری کرتا تھا، بڑی فصلیں گندم، چاول، مکئی تھیں جبکہ سمندری حیات کا تو کوئی اندازہ نہ تھا، کپاس ، پٹ سن اور ہر قسم کا پھل وہ اضافی نعمتیں تھیں جو برطانیہ کی ضرورت تھیں، زمین میں سونا تانبا اور کوئلہ موجود تھا جو صدیوں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے کافی تھا، زمین ذرخیز اور پانی کی بہتات تھی لہٰذا لائیو سٹاک اور پولٹری کی ضرورتیں پوری ہوتی تھیں، دنیا میں برطانوی فوج کی ضرورتیں پوری کرنے کے لئے گھوڑے بھی یہیں سے مہیا کئے جاتے تھے جبکہ انگریز کا اگلا ہدف زمین میں چھپے تیل کے خزانے تھے، انگریزوں نے برصغیر میں اپنے عہد اقتدار میں پینتالیس ٹریلین ڈالر کی لوٹ مار کی لیکن اس کی ہوس زر ختم نہ ہوئی بلکہ آج تک قائم ہے اب امریکہ اس کا دست رات جبکہ برطانیہ امریکہ کا بغل بچہ ہے، دونوں کا طریقہ کار ایک سا ہے وہ حکمرانوں کو کرپٹ کرتے ہیں پھر انہیں استعمال کرتے ہیں ان کے ہمنواﺅں کی حکومتیں قائم کی جاتی ہیں پھر ان کے وسائل کو لوٹا جاتا ہے، سہولت کار خاندان کئی کئی دہائیوں تک حکمران رہتے ہیں ان کے اقتدار کو طاقت مہیا کرنے والے تمام ستون اب امریکہ سے طاقت حاصل کرتے ہیں، ہر کمال کو زوال ضرور آتا ہے آج امریکہ برطانیہ کے علاوہ یورپ زوال کی طرف بڑھ رہے ہیں انہیں ہم جیسی بے ساکھیوں کی تلاش ہے۔

مزیدخبریں