اردو مرثیہ یونانی Elegy سے مختلف ہے اور رومی فلسفیانہ تاثر خیز نظموں سے بھی بالکل مختلف ہے۔ رثائی ادب نے ہندوستان کے تہذیبی عناصر سے خود استفادہ کیا ہے اور ایک نئی تہذیب کی تشکیل میں رہنمائی بھی کی ہے۔اسے نہ تو روایتی طور پر صرف ہند اسلامی تہذیب کہا جا سکتا ہے اور نہ ہی خالص عربوں کی تہذیب قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس پر عربی، فارسی اور ہندوستانی ثقافتی روایات کا مشترکہ اثر بھی نمایاں ہے۔ انھی تہذیبوں کے امتزاج نے اردو مرثیے کو اپنی مخصوص عظمت اور وسعت بخشی ہے۔ رثائی ادب کی مذہبی اورالہامی بنیاد سے زیادہ اہم اس کی وہ اساطیری interpretation ہے جو مذکورہ تہذیبوں نے تشکیل دی ہے۔ یہی وہ وجہ ہے جو مرثیے کو کسی ایک مذہب کی میراث بننے سے بچا لیتی ہے۔جس طرح کلاسیکی شعرا نے اردو مرثیے میں زندگی کے کم و بیش تمام پہلوو¿ں کا احاطہ کیا ہے اور ہر کشمکش کو پیش کیا ہے اسی طرح جدید مرثیہ نگاروں نے نئی زندگی اور نئی دنیا کے تمام تخلیقی امکانات کو مرثیے میں پیدا کیا ہے۔ انھوں نے مرثیے کے مضامین کو وسیع کیا اور حسی سطح پر اسے ماضی حال اور مستقبل تینوں زمانوں سے جوڑنے میں کامیاب ہوئے۔ ان کی سب سے بڑی فتح فنی سطح پر مرثیے کو اردو شاعری کی مقبول ترین اصناف کے کم از کم برابر لا کھڑا کرنا تھا۔ البتہ بعض حوالوں سے مرثیہ دیگر اصناف سے زیادہ اہم اور منفرد تصور کیا جاتا ہے۔ برصغیر کے سوز خوانوں اور تحت الفظ خوانوں نے مرثیے کے فروغ اور اس کی مقبولیت میں نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔ رثائی ادب پر بات کرتے ہوئے مرزا سلامت علی دبیر اور میر ببر علی انیس کا نام بطور خاص ذہن میں آ جاتا ہے۔
گزشتہ برس لاہور میں میر انیس عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ اس کانفرنس نے بین الاقوامی سطح پر خاصی پذیرائی حاصل کی بلکہ یوں کہیے کہ دنیا بھر میں رثائی ادب سے لگاو¿ رکھنے والے افراد نے اسے قبولِ عام کی سند عطا کر دی۔ اس کے بعد سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ بزمِ راحتِ سخن اور کاظم ناصری صاحب کی لاہور آمد کے بعد لاہور کی ادبی فضا میں رثائی ادب کی نئی تحریک نے جنم لیا ہے ۔
مرثیہ مگاری، تحت الفظ خوانی اور سوز و سلام کی محفلوں نے زور پکڑا ہے۔ یہ محافل وہی رنگ و روپ رکھتی ہیں جس کی بدولت لکھنوی تہذیب کے تمام تر جمالیاتی عناصر کو بروئے کار لاتے ہوئے رثائی ادب نے ترقی کی تھی۔ یہاں تحت الفظ خوانی ، آواز کے زیر و بم ، تلفظ ، ادائیگی، حتی کہ ملبوسات تک میں تہذیب کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔
میں نے لاہور میں فقط بزمِ راحتِ سخن ہی کی بیٹھکوں میں ہی پڑھنے اور سننے والوں کو شیروانی، اچکن، پاجامہ یا پھر دہلوی اور لکھنوی وضع قطع کے لباس میں باقاعدہ دیکھا ہے۔
بزم راحتِ سخن میں جنین زیدی ،آغا جون حیدر، محمد علی ظاہر، باقر زیدی،جواد ایلیا اور کمال زیدی نے فکرو و فن کے فروغ کے لیے وہ سنجیدہ کوشش کی ہے جو قیام پاکستان کے فوراً بعد کے ادیب حضرات نے لاہور میں حلقہ اربابِ ذوق کی ترقی کے لیے کی تھی۔ یقیناً تب حلقے کی محافل کا معیار الگ ہی ہوا کرتا تھا۔
راحتِ سخن، خیال نو جیسی ادبی تنظیموں سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ادبی حلقوں کا کام صرف فوٹو سیشن یا مشاعرے تک محدود نہیں ہوتا بلکہ شعر و فن کی ترقی کے ساتھ یہ اپنے عہد کے افکار کی تہذیب کرتے ہیں۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ جدید مرثیے نے زوال پذیر علامتوں میں پھر سے جان ڈالی ہے۔ نئے مرثیے نے مضامین کو جس جدید حسیت کے ساتھ پیش کیا ہے اس نے برق رفتاری سے بدلتی ہوئی دنیا میں کچھ مستقل اقدار کی نشاندھی ضرور کی ہے۔ میرے خیال سے وہ تمام طبقات جو رثائی ادب سے دور رہے ہیں کبھی انسانی کے روایتی وجودی تصور سے باہر نہیں دیکھ سکتے۔ اپنی محیر العقول قوتِ بیان کے باجود تاریخی طور پر جس طرح رثائی ادب نے حقیقیت کی ترجمانی کی ہے، کہیں اور دیکھنے کو نہیں ملتی۔
کاظم ناصری نے لاہور میں حیدر آباد، گولکنڈہ، بیجاپور سے لے کر لکھنو¿ تک کی تہذیب کی بازیافت کا کام شروع کیا۔ میرا مقصود یہ ہے کہ جب بھی کسی جہت پر کام کیا جائے اس کی تہذیب اور رواج کو ساتھ ساتھ ترقی دی جانی چاہیے۔ اسی امر کی ہمارے بگڑتے ہوئے معاشرے کو شدید ضرورت ہے۔ تخلیقی سطح پر ہم نئی علامتوں اور نئے استعاروں کی دریافت کا کام تو کر ہی رہے ہیں لیکن ان کی تلازمہ بندی میں ہماری سیکنڑوں برس پر محیط تاریخ اور روایت نے بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔
بزم راحتِ سخن، عروسِ سخن، بزم فاضل اور خیالِ نو، یہ سب ادبی پلیٹ فارم مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے رثائی ادب کی تخلیقی سرگرمیوں کو پھر سے تازگی دی اور لاہور کی ادبی فضا کو پھر سے معطر کر دیا۔ کچھ عرصے سے جس تسلسل کے ساتھ ان ادبی تنظیموں کی محافل جاری ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اعلی ادبی ذوق کی نشو نما اب لاہور میں کس تیزی سے ہو رہی ہے۔
2024 کی عالمی میر انیس کانفرنس میں ڈاکٹر ہلال نقوی اور ڈاکٹر اسد اریب نے بطور خاص شرکت کی تھی۔ امسال ڈاکٹر عرفی ہاشمی، مظہر عابدی، ڈاکٹر بصیرہ عنبرین، اور جاوید حسن، کی آمد متوقع ہے۔ ان شخصیات کی بدولت لاہور کی ادبی فضا میں ایک نئی تحریک ضرور پیدا ہو گی۔
رثائی ادب کانفرنس اور بزمِ راحتِ سخن
09:03 AM, 12 Dec, 2025